سرینگر //کشمیر میں 24دنوں کے دوران مثبت قرار دئے گئے49ہزار520افراد میں سے 28ہزار 300مریضوں کو پلس آکسی میٹر اور کوویڈ کٹ فراہم کئے گئے جبکہ دیگر 21ہزار220مریضوں کو آکسی میٹر اور کورونا مخالف ادویات نجی اسپتالوں اور دکانداروں سے خریدنی پڑیں ۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 8مئی سے تمام کوویڈ مریضوں کو آکسی میٹر اور کوویڈ مخالف ادویات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ منوج سنہا کی ہدایت کے بعد محکمہ صحت و طبی تعلیم نے گھر قرنطین میں رہنے والے تمام مریضوں کو آکسی میٹر،Azithromycinکی 10گولیاں،Ivermectin، Paracetmol، Vitamin C اور Vitamin Dکی ادویات مفت فراہم کرنے کا حکم نامہ جاری کیا لیکن کشمیر صوبے میں24دنوں کے اندر محض 28ہزار300مریضوں کو کوویڈ کٹ فراہم کئے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 10اضلاع میں 28300کورونا مریضوں کو کوویڈ کٹ فراہم کئے گئے ،جن میں اننت ناگ میں5967، بانڈی پورہ میں 1140، بارہمولہ میں 1470، بڈگام میں10ہزار 12،گاندربل میں 1081، کولگام میں 1410، کپوارہ میں 1566، پلوامہ میں 625، شوپیان میں 1097 اور سرینگر شہر میں 3932 افراد شامل ہیں۔ محکمہ صحت کے ترجمان ڈاکٹر میر مشتاق نے بتایا کہ دوسری لہر کی یہ خاصیت ہے کہ وائرس گھروں میں ہی زیادہ پھیل رہا ہے اور کبھی کسی کنبہ میں 2اور کبھی کسی کنبے کے سبھی ممبران کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت نے یہ فیصلہ لیا کہ اگر کسی گھر میں چار افراد وائرس سے متاثر ہوں، تو ان کو صرف ایک ہی آکسی میٹر اور ایک تھرما میٹر فراہم کیا جائے جبکہ ادویات سبھی مریضوں کو فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آکسی میٹر خرید کراور کٹ تیار کرنے میں وقت لگتا ہے جسکی وجہ سے چند مریضوں کو تاخیر سے چیزیں ملتی ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں ابھی کورونا وائرس سے88ہزار 75افراد گھر قرنطین میں ہیں۔ ان میں اننت ناگ میں 203، بانڈی پورہ میں 652، بارہمولہ میں 349، بڈگام میں6560،گاندربل میں 15583، کولگام میں 1515، کپوارہ میں 16816، پلوامہ میں16816، شوپیان میں 5989اورسرینگرکے23ہزار592افراد شامل ہیں۔