’ملک کی پہچان سرحدی آخری گائوں سے ہوتی ہے‘، ترقی اور قومی سلامتی لازم و ملزوم
رمیش کیسر
نوشہرہ //جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہانے وائبریٹ ولیجز پروگرام کے تحت ضلع راجوری کے سرحدی گائوں سریا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور سرحدی علاقوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی اصل پہچان اس کے آخری سرحدی گائوں سے ہوتی ہے جہاں سے اس کی سرحدیں شروع ہوتی ہیں اور دنیا کے سامنے اس کی شناخت نمایاں ہوتی ہے۔اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ نریندرمودی کی بصیرت افروز قیادت میں ہندوستان نئی توانائی اور عزم کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سرحدی علاقے ملک کا کنارہ نہیں بلکہ ’پہلا گائوں‘ اور ترقی کے نئے مواقع کا مرکز بن چکے ہیں، جہاں مرکزی دھارے سے جڑاو مزید مضبوط ہوا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے سریاہ گائوں میں کامن سروس سینٹر (CSC) کا افتتاح کیا اور جل شکتی جن ابھیان (JSJB 2.0) کے تحت پانی کے تحفظ کے منصوبوں کے علاوہ مختلف گائوں جیسے سریاہ، پکھرنی، بھوانی، چاپر دھارا اور نمبن میں کھیل کے میدانوں کی ترقیاتی اسکیموں کا بھی آغاز کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عظیم سپاہی بریبگیڈئیر محمد عثمان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اپنے خطاب میں منوج سنہانے کہا کہ وائبریٹ ولیجز پروگرام کے تحت بارڈر ایریا ڈیولپمنٹ پروگرام کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ بنیادی ڈھانچہ اور فلاحی اسکیمیں ہر سرحدی گائوں تک پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی نقشہ سرحدی دیہات کی اصل روح کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کر سکتا کیونکہ نقشے میں صرف سرحدی لکیریں نظر آتی ہیں، لیکن ان لکیروں کے اندر ایک زندہ، متحرک معاشرہ اور محنتی خاندان بستے ہیں جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں پر تعینات فوجیوں سے ہی نہیں بلکہ ان سرحدی دیہات کے مکینوں سے بھی وابستہ ہے جو وہاں رہتے ہوئے ملک کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جب کسی سرحدی گائوں تک سڑک پہنچتی ہے تو وہ صرف راستہ نہیں بلکہ دفاعی نظام میں اعتماد پیدا کرتی ہے، جب کسی گھر میں بجلی آتی ہے تو وہ صرف روشنی نہیں بلکہ امید کی کرن ہوتی ہے، اور جب کسی نوجوان کو روزگار ملتا ہے تو وہ صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی تقدیر بدل دیتا ہے‘۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ان کا وڑن واضح ہے کہ سرحدی دیہات کی ترقی کو قومی سلامتی کے ساتھ جوڑا جائے اور ہر سرحدی گائوں کو ملک کے خوشحال ترین علاقوں میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2020 میں ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سے انہوں نے سرحدی علاقوں کی ترقی کو ترجیح دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دیہات میں رہنے والی خواتین، کسان اور عام لوگ مشکلات کے باوجود اپنے بہتر مستقبل کے خواب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور حکومت نے ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’ہم نے ایک نئی صبح کا آغاز کیا ہے جہاں ترقی کی روشنی سرحدی علاقوں تک پہنچ رہی ہے‘‘۔انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ ایچ اے ڈی پی مشن یوتھ، مدرا یوجنا اور دیگر تمام فلاحی اسکیموں کا سو فیصد نفاذ یقینی بنائیں تاکہ کوئی بھی مستحق فرد محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں میں اب تبدیلی واضح طور پر نظر آ رہی ہے جہاں سڑکوں کا جال بچھ رہا ہے، صحت کی سہولیات بہتر ہو رہی ہیں، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی تعلیم کے شعبے کو بدل رہی ہے اور عوام خود کو قومی ترقی کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی ترقی کا مطلب صرف بنیادی سہولیات فراہم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو باوقار زندگی، مساوی مواقع اور خود اعتمادی دینا بھی ہے، اور وائبریٹ ولیجز پروگرام اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے گیان بھارتیم نمائش کا بھی دورہ کیا اور مختلف محکموں کی جانب سے لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ کیا۔ انہوں نے وائبریٹ ولیج ترانہ جاری کیا اور مشن یوتھ ایچ اے ڈی پی پی ایم مدرا، پی ایم اے وائی جی سمیت مختلف اسکیموں کے تحت مستفید ہونے والے افراد کو منظوری اور تقرری نامے بھی تقسیم کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مستحقین میں ڈی ٹی ایچ کے ساتھ ٹی وی سیٹس بھی تقسیم کیے اور ٹی بی سے صحت یاب ہونے والے افراد، نشہ مکت ابھیان کے رضاکاروں اور دیگر نمایاں خدمات انجام دینے والے شہریوں کو اعزاز سے نوازا۔تقریب میں چیف سیکریٹری اٹل ڈلو، ڈی جی پی جے اینڈ کے نلین پربھات، ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار، ڈپٹی کمشنر راجوری ابھیشیک شرما سمیت فوج، پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران، عوامی نمائندگان اور بڑی تعداد میں مقامی افراد نے شرکت کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر وائبریٹ ولیجز پروگرام کو کامیاب بنائیں تاکہ سرحدی علاقوں کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔