زہر النساء
سرینگر//جموں و کشمیر کے دو ہونہار طلبہ نے نیٹ۔یو جی 2026میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کےٹاپ 125 امیدواروںمیں جگہ بنا لی ہے۔ تاہم 50 ہزار سے زائد امیدواروں اور انتہائی بلند کٹ آف کے باعث جموں و کشمیر میں ایم بی بی ایس نشستوں کے لیے مقابلہ بدستور ملک کے سخت ترین مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔اس سال کے نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی نیٹ کی تاریخ کے سب سے ہنگامہ خیز داخلہ سیشن کا اختتام ہوا۔ 3مئی کو منعقد ہونے والا اصل امتحان پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ملک بھر کے 22لاکھ سے زائد امیدواروں کو 21جون کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔اس غیر معمولی فیصلے نے طلبہ اور والدین کو کئی ہفتوں تک بے یقینی، ذہنی دباؤ اور قانونی پیچیدگیوں سے دوچار رکھا۔ نتائج کے اعلان کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا تھا اور اب نتائج جاری ہونے کے بعد داخلہ عمل باقاعدہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔نیٹ۔یو جی 2026 کے نتائج جموں و کشمیر کے لیے دو مختلف پہلو سامنے لاتے ہیں۔ ایک طرف دو طلبہ نے غیر معمولی تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے بہترین امیدواروں میں جگہ بنائی، جبکہ دوسری جانب یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ طبی تعلیم کے شعبے میں نمایاں توسیع کے باوجود ایم بی بی ایس نشستوں کے لیے مقابلہ پہلے کی طرح انتہائی سخت ہے۔حادیہ نثار نے آل انڈیا رینک 99جبکہ زیدان وانی نے آل انڈیا رینک 124حاصل کی۔ دونوں ان 138امیدواروں میں شامل ہیں جنہوں نے ملک بھر میں 690نمبر حاصل کیے، جو جموں و کشمیر کے طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعلیمی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔اس سال ملک بھر میں تقریباً 20لاکھ امیدواروں نے نیٹ۔یو جی امتحان دیا، جن میں سے صرف 11.21لاکھ امیدوار کامیاب قرار پائے۔ ان میں بھی صرف 19امیدوار ایسے تھے جو 700سے زائد نمبر حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جس سے امتحان میں مقابلے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جموں و کشمیر میں اس وقت اے آئی آئی ایم ایس جموں سمیت سرکاری میڈیکل کالجوں میں تقریباً 1675ایم بی بی ایس نشستیںدستیاب ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سات نئے سرکاری میڈیکل کالجوں کے قیام کے باعث نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ 2018سے قبل صرف دو سرکاری میڈیکل کالج موجود تھے۔اس کے باوجود مقابلہ کم ہونے کے بجائے مزید سخت ہو گیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں نیٹ کے لیے رجسٹریشن کرانے والے امیدواروں کی تعداد تقریباً دوگنی ہو کر 50ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہزاروں اہل امیدوار محدود نشستوں کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔اگرچہ طبی تعلیم تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم طلب میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث جموں و کشمیر میں ایم بی بی ایس کی ایک نشست حاصل کرنا اب بھی انتہائی دشوار مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔امیدواروں کے لیے اصل فیصلہ اب جموں و کشمیر کی ریاستی و مرکزی زیر انتظام علاقہ میرٹ فہرست کرے گی۔ نیٹ کا نتیجہ دراصل داخلہ عمل کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ امیدواروں کے داخلے کا انحصار جموں و کشمیر کی میرٹ، ریزرویشن زمرے، کالج کے انتخاب اور نشستوں کی ترجیحات پر ہوگا۔
جموں و کشمیر کے ٹاپ 20میں اننت ناگ کے 8طلاب شامل
حادیہ نثار جموں و کشمیر میںاول، زیدان وانی دوسرے نمبر پر
حادیہ نثار جموں و کشمیر میںاول، زیدان وانی دوسرے نمبر پر

Hadia Nisar
خالد گل
سرینگر//جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ نے اس سال نیٹ۔یو جی 2026کے نتائج میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں اپنی برتری ثابت کی۔ ضلع کی حادیہ نثار نے پورے جموں و کشمیر میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ زیدان وانی دوسرے نمبر پر رہے۔ اس کے علاوہ اننت ناگ کے آٹھ طلبہ جموں و کشمیر کی ٹاپ 20 میرٹ فہرست میں شامل ہوئے۔بون دیالگام گاؤں سے تعلق رکھنے والی حادیہ نثار نے اپنی پہلی ہی کوشش میں 99.9931فیصدنمبرات کے ساتھ آل انڈیا رینک 99حاصل کی۔اسی طرح شانگس کے تلوانی گاؤں کے زیدان وانی نے 99.71فیصدنمبرات کے ساتھ آل انڈیا رینک 124حاصل کی۔ دونوں طلبہ ان 138امیدواروں میں شامل ہیں جنہوں نے ملک بھر میں نیٹ۔یو جی امتحان میں690یا اس سے زائد نمبرات حاصل کیے۔دونوں طلبہ نے پرچہ لیک ہونے کے بعد پہلے امتحان کی منسوخی سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا کیا اور دوبارہ منعقدہ امتحان میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔حادیہ نثار نے بتایا کہ منسوخ ہونے والے امتحان میں انہوں نے705نمبرات حاصل کیے تھے، تاہم ان کے مطابق اس سے بہتر رینک کی ضمانت نہیں تھی۔انہوں نے کہا”دوبارہ امتحان میرے لیے ایک طرح سے نعمت ثابت ہوا‘‘۔حادیہ نے کہا کہ امتحان کی منسوخی سے ان کی تیاری ضرور متاثر ہوئی، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔انہوں نے کہا”ابتدا میں میرا حوصلہ ٹوٹ گیا تھا، مگر میں نے صبر سے کام لیا، جہاں سے تیاری چھوڑی تھی وہیں سے دوبارہ آغاز کیا‘‘۔حادیہ نے ابتدائی تعلیم ریڈیئنٹ پبلک سکول، اننت ناگ جبکہ بارہویں جماعت گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول سے مکمل کی۔انہوں نے اپنی کامیابی کا سہرا والدین، بہن بھائیوں، دادا دادی، اساتذہ، دیگر اہل خانہ اور کوچنگ اساتذہ کی رہنمائی کو دیا۔انہوں نے کہا”میرے اہل خانہ نے کبھی مجھ پر دباؤ نہیں ڈالا۔ ان کی بھرپور حمایت کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی‘‘۔کامیابی کا راز بیان کرتے ہوئے حادیہ نے کہا کہ ہر طالب علم کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔انہوں نے مشورہ دیا”اپنے لیے مناسب طریقہ اختیار کریں، بنیادی تصورات مضبوط رکھیں اور مسلسل مشق کرتے رہیں‘‘۔انہوں نے بتایا کہ تیاری کے دوران موبائل فون کا استعمال محدود رکھا، تاہم ضرورت پڑنے پر آن لائن وسائل سے بھی استفادہ کیا۔حادیہ کو امید ہے کہ انہیں ملک کے کسی ممتاز میڈیکل کالج میں داخلہ مل جائے گا۔انہوں نے مالی یا ذاتی مشکلات سے دوچار طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا”حالات جیسے بھی ہوں، مایوس نہ ہوں۔ اگر طب کا شعبہ نہ بھی ملے تو زندگی میں کامیابی کے بے شمار راستے موجود ہیں‘‘۔حادیہ کے والد نثار احمد اور والدہ زبیہ نے کہا کہ انہوں نے کبھی اپنی بیٹی پر طب کا شعبہ اختیار کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔ان کا کہنا تھا”ابتدا میں وہ انجینئرنگ کرنا چاہتی تھیں، بعد میں خود اپنی مرضی سے طب کا انتخاب کیا، اور ہم نے ہمیشہ ان کے فیصلے کی حمایت کی‘‘۔دوسری جانب زیدان وانی نے بتایا کہ طب کا شعبہ ان کی ذاتی دلچسپی تھا، نہ کہ معاشرتی دباؤ کا نتیجہ۔انہوں نے کہا’’میں نے ڈاکٹر بننے کا فیصلہ صرف اس لیے کیا کیونکہ یہی میرا خواب تھا اور میں اسی شعبے کے ذریعے معاشرے کی خدمت کرنا چاہتا ہوں‘‘۔زیدان نے ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرز سکول، اننت ناگ جبکہ بعد ازاں گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول، شانگس سے حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ طویل اوقات تک پڑھائی کرنے کے بجائے مستقل مزاجی زیادہ اہم ہے۔انہوں نے بتایا”میں عموماً روزانہ تین سے چار گھنٹے پڑھتا تھا، بعض اوقات یہ دورانیہ چھ گھنٹے تک بھی پہنچ جاتا تھا، مگر اصل کامیابی مستقل مزاجی میں ہے‘‘۔زیدان کے مطابق خود مطالعہ ان کی تیاری کا سب سے اہم حصہ تھا، جبکہ کوچنگ صرف رہنمائی فراہم کرتی تھی۔انہوں نے کہا”اساتذہ راستہ دکھاتے ہیں، لیکن کامیابی خود مطالعہ سے ہی ملتی ہے۔ معیار، مقدار سے زیادہ اہم ہوتا ہے‘‘۔کرکٹ کے شوقین زیدان نے بتایا کہ ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے وہ وقفے وقفے سے کرکٹ بھی کھیلتے تھے۔انہوں نے اپنی کامیابی کا سہرا والدین، اساتذہ، کوچنگ فیکلٹی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو دیا۔انہوں نے نیٹ میں کامیاب نہ ہونے والے طلبہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا”اگر اس بار کامیابی نہ ملے تو مایوس نہ ہوں۔ دوبارہ کوشش کریں، اور اگر ڈاکٹر نہ بھی بن سکیں تو زندگی میں کامیابی کے بے شمار دوسرے میدان موجود ہیں‘‘۔زیدان کے والد بلال احمد وانی، جو پیشے کے اعتبار سے استاد ہیں، نے کہا کہ ان کے بیٹے کی کامیابی کے پیچھے نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور اساتذہ کی رہنمائی کا اہم کردار رہا۔ادھر اننت ناگ کے بون دیالگام گاؤں کی ایک اور طالبہ فلک اصغر نے 622نمبر حاصل کرکے جموں و کشمیر میں 20واں مقام حاصل کیا، جبکہ ان کی آل انڈیا رینک پانچ ہزار سے کم رہی۔فلک نے ابتدائی تعلیم ایس اے پی ایس وانی ہامہ۔دیالگام اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول سے حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ پہلے امتحان کی منسوخی سے ان کی تیاری کچھ دن متاثر ہوئی، لیکن وہ جلد ہی دوبارہ پڑھائی میں مصروف ہوگئیں۔معمولی مالی وسائل رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھنے والی فلک نے اپنی کامیابی کا سہرا والدین کی قربانیوں کو دیا۔انہوں نے کہا،”میرے والد یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور انہوں نے ہمیں تعلیم دلانے کے لیے بے حد محنت کی۔ میری والدہ نے بھی ہر قدم پر میرا ساتھ دیا۔ آج ان کی خوشی ہی میرے لیے سب سے بڑا انعام ہے‘‘۔فلک نے بتایا کہ انہوں نے زیادہ تر خود مطالعہ کیا جبکہ کوچنگ سے صرف رہنمائی حاصل کی۔اسی گاؤں کی ایک اور طالبہ سائرہ جاوید نے بھی بغیر کسی کوچنگ ادارے میں داخلہ لئے587نمبرات حاصل کرکے جموں و کشمیر کے نمایاں امیدواروں میں جگہ بنائی۔اقبال میموریل انسٹی ٹیوٹ اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول کی طالبہ سائرہ نے بتایا کہ انہوں نے مکمل طور پر خود مطالعہ اور انٹرنیٹ کے ذریعے تیاری کی۔انہوں نے کہا،”میں نے زیادہ تر خود پڑھائی کی اور رہنمائی کے لیے آن لائن ذرائع سے مدد لی‘‘۔سائرہ کے والد، جو ایک نجی سکول میں استاد ہیں، نے ان کی تیاری کے دوران ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔
خود مطالعہ اور آن لائن تعلیم کامیابی کا راز قرار
ایمن شوکت نے نیٹ میں نمایاں کامیابی حاصل کی
ایمن شوکت نے نیٹ میں نمایاں کامیابی حاصل کی

سید رضوان گیلانی
سرینگر/شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والی ایمن شوکت نے قومی اہلیتی و داخلہ امتحان نیٹ۔یو جی 2026میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے نمایاں امیدواروں میں جگہ بنائی ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی جانب سے جمعرات کی شام نتائج کا اعلان کیا گیا۔ایمن شوکت نے 622نمبرات حاصل کیے اور جموں و کشمیر کے ٹاپ امیدواروں میں شامل رہیں۔بانڈی پورہ کے کھارپورہ علاقے کی رہائشی ایمن نے دسویں جماعت تک تعلیم اے جی ایس بانڈی پورہ سے حاصل کی، جبکہ گیارہویں اور بارہویں جماعت گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول، بندی پورہ سے مکمل کی۔ایمن نے کسی بھی مستقل کوچنگ ادارے میں داخلہ لیے بغیر خود مطالعہ اور آن لائن تعلیمی ذرائع کی مدد سے اس انتہائی مسابقتی امتحان کی تیاری کی۔اپنی تیاری کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مختلف مضامین کی تیاری کے لیے انہوں نے خاص طور پر یوٹیوب اور دیگر آن لائن تعلیمی پلیٹ فارمز سے بھرپور استفادہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ حیاتیات کی تیاری کے لیے اَن اکیڈمی کے اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی، جبکہ طبیعیات مختلف اساتذہ سے آن لائن سیکھی اور سوالات کی مشق پر خصوصی توجہ دی۔ اسی طرح نامیاتی کیمیا کی تیاری ان اکیڈمی کے ذریعے کی، جبکہ غیر نامیاتی اور طبعی کیمیا دوسرے اساتذہ کی مدد سے پڑھی۔ایمن کا کہنا تھا کہ کامیابی کے لیے روزانہ غیر معمولی گھنٹے پڑھنے سے زیادہ اہم چیز مستقل مزاجی ہے۔انہوں نے کہا”میں نے کبھی یہ ہدف نہیں رکھا کہ روزانہ 16 یا 18 گھنٹے پڑھنا ہے۔ میری کوشش یہ تھی کہ جتنا وقت پڑھوں وہ مؤثر ہو۔ عام طور پر میں روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے توجہ کے ساتھ پڑھتی تھی، جبکہ بعض دنوں میں یہ دورانیہ تقریباً 14 گھنٹے تک بھی پہنچ جاتا تھا‘‘۔ایمن نے کہا کہ نیٹ امتحان کا انداز مسلسل بدل رہا ہے، اس لیے امیدواروں کو خصوصاً طبیعیات اور کیمیا میں بنیادی تصورات مضبوط کرنے چاہئیں، کیونکہ اب سوالات زیادہ تر عملی فہم اور اطلاقی نوعیت کے ہوتے ہیں، نہ کہ صرف فارمولوں پر مبنی۔انہوں نے نیٹ کے امیدواروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا”اپنے آپ پر یقین رکھیں، بھرپور محنت کریں اور گزشتہ برسوں کے سوالیہ پرچوں کی مسلسل مشق کریں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو منفی تبصروں یا سماجی دباؤ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ایمن نے بتایا کہ اگرچہ ان کا امتحان اچھا ہوا تھا، پھر بھی نتائج کے اعلان تک وہ شدید بے چینی کا شکار رہیں۔انہوں نے کہا،”میری خواہش تھی کہ جموں و کشمیر کی ٹاپ پانچ رینک میں جگہ بناؤں، اور جب مجھے اپنی کامیابی کا علم ہوا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی‘‘۔نتائج کے اعلان کے فوراً بعد ان کے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جہاں رشتہ داروں، پڑوسیوں اور خیر خواہوں نے پہنچ کر انہیں مبارکباد پیش کی۔
نجی کوچنگ کی استطاعت نہ تھی
یوٹیوب سے پڑھکر فیضان سرخرو
یوٹیوب سے پڑھکر فیضان سرخرو

طارق رحیم
کپواڑہ//شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے گُشی علاقے سے تعلق رکھنے والے فیضان بشیر بٹ نے ثابت کر دیا کہ محنت، مستقل مزاجی اور عزم کے ساتھ مشکل ترین منزل بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔جمعرات کی شام فیضان گھر کے معمول کے کاموں میں مصروف تھے کہ اچانک ان کے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ دوست کی کال موصول ہوتے ہی جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ نیٹ۔یو جی 2026میں کامیاب ہو گئے ہیں تو خوشی سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ایک مزدور کے بیٹے فیضان نے 554نمبرات حاصل کرکے قومی اہلیتی و داخلہ امتحان (نیٹ) میں کامیابی حاصل کی۔فیضان نے آٹھویں جماعت تک تعلیم اقبال میموریل سکول، گُشی سے حاصل کی، جبکہ 2023 میں بوائز ہائی سکول گُشی سے دسویں جماعت 475نمبروں کے ساتھ پاس کی۔ بعد ازاں انہوں نے گیارہویں اور بارہویں جماعت بوائز ہائر سیکنڈری سکول، کریہامہ سے مکمل کی اور گزشتہ سال بارہویں جماعت میں 450نمبرات حاصل کیے۔مالی مشکلات کے باعث فیضان نجی کوچنگ حاصل کرنے سے قاصر رہے، اس لیے انہوں نے مکمل طور پر خود مطالعہ کیا اوریوٹیوب پر دستیاب مفت تعلیمی مواد سے استفادہ کرتے ہوئے نیٹ کی تیاری کی۔فیضان نے بتایا”مجھے تنہائی میں پڑھنا پسند ہے۔ میں نے اپنی تیاری میں مستقل مزاجی اختیار کی اور زیادہ وقت بنیادی تصورات کو سمجھنے پر صرف کیا، جس سے مجھے کامیابی حاصل کرنے میں بہت مدد ملی‘‘۔اگرچہ وہ 554نمبروں کے ساتھ کامیاب ہوئے، تاہم فیضان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی رینک سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں اور انہیں اس سے بہتر نتیجے کی توقع تھی۔انہوں نے کہا”تیاری کے دوران میں روزانہ تقریباً 14 گھنٹے پڑھائی کرتا تھا۔ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے دوران مجھے احساس ہوا کہ سوشل میڈیا میرا قیمتی وقت ضائع کر رہا ہے، اس لیے میں نے تمام سوشل میڈیا ایپلی کیشنز حذف کر دیں اور پوری توجہ اپنی تعلیم پر مرکوز کر دی‘‘۔فیضان نے اپنی کامیابی کا سہرا والدین، خصوصاً والدہ، چچا، ماموں اور کزنز کی مسلسل حوصلہ افزائی کو دیا۔انہوں نے تیاری کے دوران پیش آنے والا ایک جذباتی واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ سردیوں میں بجلی کی بار بار بندش ان کی پڑھائی میں بڑی رکاوٹ بنتی تھی۔انہوں نے کہا”میرے چچا، جو ایک نجی اسکول میں استاد ہیں اور الگ رہتے ہیں، صرف میری پڑھائی کے لیے ہمارے گھر انورٹر لے آئے تاکہ میں رات گئے تک بلا تعطل پڑھ سکوں۔ ان کا یہ تعاون میری کامیابی میں انتہائی اہم ثابت ہوا‘‘۔نیٹ کی تیاری کرنے والے طلبہ کو مشورہ دیتے ہوئے فیضان نے کہا کہ کامیابی کے لیے لگن، مستقل مزاجی اور ثابت قدمی بنیادی اصول ہیں۔انہوں نے کہا،”اگر کوئی طالب علم اپنے مقصد کے ساتھ مخلص رہے اور پوری محنت کرے تو دنیا کی کوئی منزل اس کے لیے ناممکن نہیں‘‘۔