عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// کشمیر کی سب سے بڑی صنعتی تنظیم فیڈریشن آف چیمبرز آف انڈسٹریز کشمیر نے اعلان کیا ہے کہ وہ نیو سنٹرل سیکٹر اسکیم (NCSS) کے نفاذ سے متعلق ایک وائٹ پیپر وزیر اعظم نریندر مودی کو پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ اس کی نقول وزیر داخلہ امت شاہ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بھی دی جائیں گی۔ایف سی آئی کے مطابق حکومت ہند نے اس اسکیم کو جموں و کشمیر میں متوازن صنعتی ترقی کے لیے شروع کیا تھا، لیکن اس کے نفاذ میں ایسا عدم توازن پیدا ہوا ہے جس سے چند مخصوص علاقوں کو ہی زیادہ فائدہ پہنچا ہے، جبکہ کئی اضلاع اس عمل میں پیچھے رہ گئے ہیں۔یہ فیصلہ ایف سی آئی کے مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں لیا گیا، جس کی صدارت شاہد کامیلی نے کی۔ اجلاس میں وادی کے مختلف صنعتی علاقوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور صنعتی شعبے کو درپیش مسائل پر غور کیا گیا۔تنظیم نے کہا کہ حکومت ہند نے تقریباً 28,400 کروڑ روپے کا پیکیج منظور کیا تھا تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے، پسماندہ علاقوں میں صنعت کاری کو بڑھایا جائے اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ تاہم، اصل مسئلہ سرمایہ کاری کی مقدار نہیں بلکہ اس کی منصفانہ تقسیم اور عمل درآمد کا طریقہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2346 درخواستوں میں سے صرف 918 کو منظوری ملی ہے جبکہ 1204 درخواستیں ابھی تک زیر التوا ہیں۔ اسی طرح 6203 کلیمز میں سے 3338 منظور ہوئے لیکن صرف 1886 کو ہی رقم جاری کی گئی۔ضلع وار صورتحال بھی عدم توازن کی عکاسی کرتی ہے۔ صنعتی سرگرمیاں زیادہ تر کٹھوعہ، سانبہ، جموں، پلوامہ، سرینگر اور بڈگام تک محدود ہیں، جبکہ دودہ، کشتواڑ، راجوری، پونچھ، کپواڑہ، بارہمولہ، اننت ناگ اور شوپیاں جیسے اضلاع میں اس اسکیم کا فائدہ بہت کم نظر آتا ہے۔