سرینگر// نیم طبی طلاب نے ہفتہ کے روز گورنمنٹ میڈیکل کالج کے حکام پر اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے اُن کا مستقبل برباد کرنے کا الزام لگایا۔ اے ایم ٹی اسکول سرینگر کے مختلف نیم طبی کورسز کے خواہشمند اُمیدواروں نے جی ایم سی سری نگر کے خلاف پریس اینکلیو سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے کے باوجود اُنہیں داخلے سے انکار کردیا گیا ۔طلاب نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ داخلے کی منسوخی کے سلسلے میں جی ایم سی سری نگر کی طرف سے 19 جنوری 2020 نوٹس جاری کی گئی اور اب اس کو سرکاری ویب سائٹ پر اَپ لوڈ کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ پرنسپل جی ایم سی کے تکبرانہ رویہ کی وجہ سے وہ اپنے کیریئر کا ایک قیمتی سال کھو چکے ہیں۔احتجاجی طلاب کا کہنا تھا کہ انہوںنے گذشتہ سال فروری میں اپنے فارم جمع کروائے تھے اور عارضی انتخاب کی فہرست اکتوبر میں 8 ماہ بعد سامنے آئی تھی۔ مظاہرین نے کہاعارضی سلیکشن فہرست میں کہا گیا تھا کہ لسٹ مشتہر ہونے کے 15 دن کے اندر داخلے کا عمل شروع کردیا جائے گا۔ فیاض احمد نامی طالب علم نے بتایا کہ اکتوبر 2020 سے وہ داخلے کے منتظر تھے لیکن گذشتہ روز حکام کی جانب سے ایک جھٹکا لگا جب انہوں نے نوٹس اَپ لوڈ کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ ہمارے داخلے منسوخ کردیئے گئے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ 420 کے قریب طلباء داخلے کے حصول کی امید کے ساتھ منتظر تھے لیکن پرنسپل جی ایم سی کوہی معلوم وجوہات کی بنیاد پر داخلے منسوخ کردیئے گئے ۔ احتجاج کرنے والے طلباء نے لیفٹیننٹ گورنر سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ متعلقہ حکام سے پوچھیں کہ انہوں نے امیدواروں کے کیریئر کے ساتھ کیوں کھلواڑکیا ۔ طلباء نے پرنسپل جی ایم سی سری نگر پر بدتمیزی اور متکبر انہ رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ پرنسپل کسی کی نہیں سنتی ہیں اور ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتی ہے جو ان کے سامنے کسی طرح کی شکایت کے ساتھ پیش ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا اگر پرنسپل جی ایم سی کہتے ہیں کہ داخلہ’’ بوپی کے‘‘( پیشہ وارانہ امتحانات کے داخلہ کا بورڈ)کے ذریعہ کیا جاتا ہے تو پھر انہوں نے طلاب کا وقت کیوں ضائع کیا ، فارم اور انتخاب کی فہرست کیوں جاری کی۔