خالد بشیر تلگامی
ملک صاحب خشک لہجے میں بولے، “اشرف صاحب! آج سے ادھار بند ہے۔۔۔ اب یہاں سودا صرف نقد ملے گا۔”
اشرف صاحب سن ہو کر رہ گئے۔ وہ دکان جس کے دروازے ان کے لئے ہمیشہ کھلے رہتے تھے آج بند کیسے ہو گیا؟
“لیکن ملک صاحب! کل تک تو آپ خود کہتے تھے کہ یہ اپنی ہی دکان ہے۔” اشرف صاحب نے لرزتی آواز میں کہا۔
“کل کی بات اور تھی آج کی اور۔” ملک صاحب نے نظریں چرا کر کہا اور دوسرے گاہک کی طرف متوجہ ہو گئے۔
اشرف صاحب بوجھل قدموں سے دکان سے اترے۔ ان کی سفید پوشی کا بھرم دنیا کے سامنے عیاں ہو گیا تھا۔
گھر پہنچتے ہی انہوں نے اپنی بیٹی زلیخا کو بلا کر افسوس ناک لہجے میں کہا، “یہ ملک صاحب کو آج اچانک پتا نہیں کیا ہو گیا کہ ادھار دینے سے صاف انکار کر دیا۔”
زلیخا نے اپنی نظریں جھکا لیں۔ اس کے ماتھے پر پسینہ اور لہجے میں کرب تھا۔ “باؤ جی! ملک صاحب سودا تولتے وقت میرے ہاتھ پر اپنی نیت رکھ دیتے تھے۔۔۔ اور میں نے آج وہاں جانے سے انکار جو کیا ہے تو انہوں نے شرافت کا ناٹک ختم کر دیا۔”
���
تلگام، پٹن، بارہمولہ، کشمیر
موبائل نمبر؛9797711122