نیا مزاحمتی کلینڈر

جمعہ4نومبر
 اس روز کوئی ڈھیل نہیں ہوگی۔کپوارہ ،بارہمولہ ،بانڈی پورہ، بڈگام، گاندربل، سرینگر،پلوامہ ،شوپیاں، کولگام اور اسلام آبادی آزادی مارچ۔ صبح 9بجے سے بھی اپنے متعلقہ ضلع صدر مقامات کی جانب مارچ کریں گے اور نماز جمعہ کے مقامی طور پر متفقہ مقامات پر آزادی اجتماعات ہونگے۔ان اضلاع کی مزاحمتی /مسجد کمیٹیاں اور رضاکار نوجوان آپسی تال میل کے ساتھ انتظامات کریں گے۔
 سنیچر5نومبر
شام 4بجے سے اگلی صبح7بجے تک ڈھیل ہوگی۔اس دن کو یوم شہدائے جموں کے طورمنایا جائے گا۔ضلع، تحصیل اور بلاک سطح پر5اور6نومبر کو جموں وکشمیر میں مارچوں، سمیناروں، مقامی اجتماعات اور طلبہ کے اجتماعات کا اہتمام کیاجائے۔ شہدائے جموں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے علاوہ نوجوان نسل کو مسلمانوں کے قتل عام کی اصل تاریخ سے آگاہ کیا جائے۔ مزاحمتی /مسجد کمیٹیاں اوررضاکار نوجوان آپسی تال میل کے ساتھ انتظامات کریں گے۔
اتوار6نومبر 
شام 4بجے سے اگلی صبح7بجے تک ڈھیل ہوگی۔اس دن کوبھی یوم شہدائے جموں کے طورمنایا جائے گا۔ضلع ،تحصیل اور بلاک سطح پر5اور6نومبر کوجموں وکشمیر میں مارچوں،سمیناروں ،مقامی اجتماعات اور طلبہ کے اجتماعات کا اہتمام کیاجائے۔شہدائے جموں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے علاوہ نوجوان نسل کو مسلمانوں کے قتل عام کی اصل تاریخ سے آگاہ کیاجائے۔مزاحمتی /مسجد کمیٹیاں اوررضاکار نوجوان آپسی تال میل کے ساتھ انتظامات کریں گے۔
 سوموار7نومبر
اس روز کوئی ڈھیل نہیں ہوگی جبکہ یہ دن یوم تحفظ مدارس کے طور منایا جائے گا۔صبح9بجے سے سکولی بچے اپنے والدین ،سماج کے بزرگ شہریوں اور مساجد و مزاحمتی کمیٹیوں کے ہمراہ اپنے اپنے متعلقہ سکولوں کی جانب مارچ کرینگے۔سکول کے صحن میں صبح11بجے سے شام 4بجے تک یوم تحفظ مدارس منایا جائے۔اپنے بچوں کو تعلیم کے حقیقی مفہوم سے آگاہ کریں جو آزادی ،انصاف اور مزاحمت کی جدوجہد میں ہمارا بنیادی عنصر ہوگا۔حکومت اور اس کی ایجنسیوں کی جانب سے سکول جلانے کے جاریہ عمل کو ناکام بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں۔
منگلوار 8نومبر
 شام 4بجے سے اگلی صبح7بجے تک ڈھیل ہوگی اور یہ دن یوم خواتین کے طور منایا جائے گا۔ اپنے محلوں ،دیہات اور علاقوں میں مقامی مراکز اور چوکوں میں نما ظہر سے عصر تک جمع ہوکر آزادی کے پیغامات اور نعروں پر مشتمل بینر ،پلے کارڈ اور جھنڈے ہاتھوں میں لیکر احتجاج کریں۔
 بدھوار 9نومبر
 شام 4بجے سے اگلی صبح7بجے تک ڈھیل ہوگی۔اس روز وائورہ ،روہامہ ،تلیل ،سکھ ناگ(ہرد پنزو)،گنڈ،عید گاہ (شمالی)،لتر (لاسی پورہ)،حرمین ،منزگام،دچھنی پورہ آزادی مارچ ہوگا۔صبح 7بجے سے سبھی کپوارہ سے وائورہ ،بارہمولہ سے روہامہ ،بانڈی پورہ سے تلیل ،بڈگام سے سکھ ناگ(ہرد پنزو)،گاندربل سے گنڈ ،سرینگر سے عید گاہ(شمالی)،پلوامہ سے لتر (لاسی پورہ )،شوپیاں سے حرمین ،کولگام سے منزگام اور اسلام آباد سے دچھنی پورہ کی طرف مارچ کرینگے۔نماز ظہر کے بعد مقامی سطح پر منتخب شدہ متفقہ مقامات پر آزادی اجتماعات ہونگے۔ان بلاکوں کی مقامی مزاحمتی /مسجد کمیٹیاں اور رضاکار نوجوان آپسی تال میل کے ساتھ انتظامات کریں گے۔
جمعرات10نومبر
اس روز کوئی ڈھیل نہیں ہوگی جبکہ یک روزہ آزادی کنونشن منعقد کئے جائیں گے۔پڑوسی دیہات اور محلے صبح11بجے سے سہ پہر4بجے تک یک روزہ آزادی کنونشن کا اہتمام کریں گے جن میں جاریہ مزاحمتی تحریک کو مزید مستحکم بنانے کے طریقہ کار پر غور و فکر ہوگا۔ مقامی مزاحمتی /مسجد کمیٹیاں اور رضاکار نوجوان آپسی تال میل کے ساتھ انتظامات کریں گے۔
 تمام دنوں کیلئے ہدایات
پور ے جموں وکشمیر میں احتجاج کیاجائے۔پروگرام میں وضع کردہ ڈھیل کے اوقات کو چھوڑ کر پوری ریاست میں ہڑتال جاری رہے گی۔ڈھل کے اوقات پبلک و نجی ٹرانسپورٹ ،فیکٹریوں اور صنعتی یونٹوں سمیت سبھی کیلئے ہیں۔تمام راتوں کو رات 10بجے سے صبح7بجے تک نجی و پبلک ٹرانسپورٹ کو نہیں روکا جائے گا۔رات کے دوران گرفتاریوں سے بچنے کیلئے محلوں و دیہات کی جانب جانے والے راستوں کو بند رکھیں۔ہر زور مغرب سے نماز عشاء تک مساجد میں آزادی کے ترانے چلائیں۔اس احتجاجی پروگرام کو ہر مسجدکے دروازے ،بازار اور محلوں میں چسپاں کریں۔