ڈوڈہ// صوبہ جموں کے پیر پنچال حلقہ انتخاب نوشہرہ کی عوام کی طرف سے نوشہرہ کو ضلع کا درجہ دینے کی مانگ پر سابقہ وزیر عبدالمجید وانی نے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جائز مانگ کو جلد پورا کیا جائے چونکہ نوشہرہ سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے انتہائی حساس جگہ ہے وسیع علاقہ ہونے کی وجہ سے نوشہرہ دور دور تک پھیلا ہوا ہے اور عوام کو نزدیک ضلع ہونا وقت کی اہم اشد ضرورت ہے۔وانی نے کہا کہ ایک طرف چھ یوم سے نوشہرہ کے عوام بشمول طلباء متحد ہو کر تمام کاروباری اِداروں کو بند کرکے یک زبان ضلع کا مطالبہ کیا لیکن سرکار کو ٹس سے مس نہ ہو رہی ہے۔ اس لئے نوشہرہ کو ضلع کا درجہ دے کر عوام کے ساتھ انصاف کیا جائے عبدالمجید وانی نے کہا کہ سابقہ وزیر اعلیٰ اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف رہنما غلام نبی آزاد نے وزیر کمیشن سے اْٹھ کر ریاست جموں کشمیر میں آٹھ اضلاع کا قیام عمل میں لایا تھا حالانکہ اْس وقت صرف دو اضلاع قائم کرنے کی ہی تجویز رکھی گئی تھی۔اگر اْس وقت نوشہرہ کو بھی ضلع کا درجہ دینے کی مانگ ہوتی تو یقیناً نوشہرہ بھی اس فہرست میں ہوتا۔ اب جبکہ ریاستی حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں کو عمل میں لانے کا کوئی منصوبہ نہ ہے۔وانی نے مزید بتایا کہ سرحدی علاقوں میں موجودہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے اور لوگوں کا بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے جس میں اْوڑی سے کر کر لکھن پور تک حالات کشیدہ ہیں لیکن سرحدی متاثرین کی باز آباد کاری کے بارے میں سرکار نے کوئی اقدام نہ کیا ہے جبکہ یو۔پی۔اے دوم کے دور میں سرحدی علاقوں سے متاثرین کی باز آباد کاری کے لئے منصوبہ بنا کر پاس کیا گیا تھا جس کو موجودہ سرکار لاگؤ کرنے میں فیل ہو چکی ہے بدیں وجہ لوگ تذبذب کا شکار ہیں۔ابھی نوشہرہ کے عوام کو حق ملنا چاہیے چونکہ نوشہرہ سے ضلع صدر مقام کی دوری بہت وسیع ہے اور لوگوں کو ایک معمولی کام کرنے کے لئے ہزاروں روپیہ خرچ کر ڈی۔سی کے پاس جانا پڑتا ہے پھر وہ کام ایک دِن میں مکمل نہ ہوتا ہے جو سرحد کے عوام کے لئے موزوں نہ ہے اور نوشہرہ کو ضلع کا درجہ ملنا عوام کے لئے بہت بڑی راحت ہو گی۔اور عوام کی جائز مانگ کے ساتھ ہم کھڑے ہیں۔وانی نے کٹھوعہ میں آٹھ سالہ معصوم آصفہ کے ساتھ عصمت دری کے بعد بیمانہ قتل اور قاتل کے حق میں قومی پرچم لے کر احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت الفاظ میں تنقید کی ہے اور کہا کہ قومی پرچم کو قاتل کی حمایت میں استعمال کرنا قومی پرچم کی توہین ہے اس لئے قصورواروں کے خلاف سرکار کو سختی سے نپٹنا چاہیے۔اس بیمانہ قتل اور عصمت دری کے معاملہ میں کچھ سیاسی لوگ ملوث ہیں اس لئے اس کیس کو سی۔بی۔ائی کے حوالے کرنا چاہیے تاکہ سچ سامنے آ سکے۔تحقیقاتی ٹیم کے اوپر سیاسی دباؤ لازمً ہے چونکہ اْس میں سیاسی لوگ پھنستے ہیں چونکہ کچھ سیاسی جماعتوں کے لوگوں نے بھی قاتل کے حق میں نعرے لگائے۔وانی نے کہا کہ سماج کے اندر ایسی شرمناک حرکت کرنے والوں کو پھانسی دینی چاہیے تاکہ دوسرا کوئی کسی معصوم کی زندگی تباہ کرنے سے باز رہے وانی نے دْکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک معصوم لڑکی کو ایک ہفتہ تک طرح طرح کی اذیت پہنچائی گئی اور پھر قتل کیا گیا ریاستی حکومت کو چاہیے کہ اس کیس کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ایس۔آئی۔ٹی تشکیل دی جائے اور ریاست کے اندر ویسے قابل ایماندار ہونہار پولیس افسر موجود ہیں جو اس کیس کی تحقیقات کرے وانی نے کہا کہ سرکار کے پاس بسنت کمار رتھ جیسے افسر ان موجود ہیں وانی نے کہا کہ SIT میں آئی۔جی۔رتھ کو رکھا جائے اور جو قاتل ہو گا خود پتہ لگ جائے گا۔