رمیش کیسر
نوشہرہ//نوشہرہ سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹروں کی شدید کمی کے باعث مقامی عوام کو گزشتہ کئی برسوں سے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتال میں متعدد اہم شعبوں میں ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں جمعہ کے روز مختلف سماجی تنظیموں کے عہدیداران نے محکمہ صحت کو سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فروری کے پہلے ہفتے تک خالی پڑی ڈاکٹروں کی اسامیوں کو پْر نہ کیا گیا تو وہ محکمہ صحت کے خلاف سڑکوں پر آ کر احتجاج شروع کریں گے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نوشہرہ سرکاری ہسپتال میں برسوں سے بے ہوشی کے ماہر (اینستھیٹسٹ)، بچوں کے ڈاکٹر، زنانہ ڈاکٹر، ای این ٹی اسپیشلسٹ اور آنکھوں کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر دستیاب نہیں ہیں۔
ان اہم شعبوں میں ڈاکٹروں کی کمی کے باعث مریضوں کو معمولی علاج کے لئے بھی راجوری، جموں یا دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف مالی بوجھ بڑھتا ہے بلکہ کئی بار مریضوں کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے کہا کہ نوشہرہ ایک بڑا علاقہ ہے اور اس کے آس پاس کے درجنوں دیہاتوں کے لوگ اسی سرکاری ہسپتال پر انحصار کرتے ہیں، مگر ڈاکٹروں کی کمی نے اس ادارے کو عملی طور پر غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ صحت کی مسلسل بے توجہی کے سبب عوام کی مشکلات دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں۔عوامی نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوشہرہ سرکاری ہسپتال میں فوری طور پر تمام خالی اسامیوں کو پْر کیا جائے تاکہ عوام کو بنیادی طبی سہولیات اپنے ہی علاقے میں میسر آ سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت تک مطالبات پر عمل نہیں ہوا تو پرامن مگر بھرپور احتجاج کیا جائے گا، جس کی مکمل ذمہ داری محکمہ صحت پر عائد ہوگی۔سماجی کارکنوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت عوام کی مشکلات کو سنجیدگی سے لے گی اور نوشہرہ ہسپتال کو ڈاکٹروں کی کمی جیسے سنگین مسئلے سے جلد نجات دلائے گی تاکہ عوام کو بہتر اور بروقت علاج کی سہولت حاصل ہو سکے۔