رمیش کیسر
نوشہرہ// نوشہرہ سب ڈویژن میں یوریا کھاد کی شدید قلت کے باعث کسان طبقہ سخت پریشانی میں مبتلا ہے۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ گندم کی فصل اس وقت نازک مرحلے میں ہے اور بروقت کھاد نہ ملنے کی صورت میں اچھی پیداوار کا خواب ادھورا رہ سکتا ہے۔ کسانوں نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوریا کھاد سرکاری و نجی سٹوروں پر فوری طور پر دستیاب کرائی جائے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے چار ماہ کی طویل خشک سالی کے بعد علاقے میں بارش ہوئی، جس سے گندم کی فصل میں نئی جان پڑ گئی۔ بارش سے قبل فصل سوکھنے کے قریب پہنچ چکی تھی اور کسان شدید مایوسی کا شکار تھے، تاہم حالیہ بارش نے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی۔ زرعی ماہرین کے مطابق اس مرحلے پر مناسب مقدار میں یوریا کھاد کا استعمال فصل کی بڑھوتری اور دانے کی بہتر تشکیل کے لیے نہایت ضروری ہوتا ہے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد وہ کھاد کے حصول کے لئے مختلف سٹوروں کے چکر لگا رہے ہیں، مگر بیشتر مقامات پر کھاد دستیاب نہیں۔ بعض کسانوں نے الزام لگایا کہ بلیک مارکیٹنگ بھی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے عام کسان کھاد سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر چند دنوں میں کھاد نہ ملی تو فصل کی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے مقامی کسان رہنماؤں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال خریف اور ربیع کی فصلوں کی بوائی کے موقع پر کھاد اور معیاری بیج کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق بروقت منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے کسان مالی نقصان اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔کسانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ منگل کے بعد روزانہ کی بنیاد پر سرکاری اور پرائیویٹ سٹوروں پر یوریا کھاد کی باقاعدہ سپلائی یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ کسانوں کی محنت ضائع ہونے سے بچ سکے اور علاقے میں گندم کی بہتر پیداوار حاصل ہو سکے