سرینگر//کیرالہ کے ترسور ضلع سے تعلق رکھنے والا23سال کا نوجوان جب پرانے طرز کے سائیکل پر جمعہ کی شام8بجے لالچوک سرینگر پہنچا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔نیدی من نامی یہ نوجوان پھولے نہیں سما رہا تھا کہ آخر کار93روز بعد کیرالہ سے کشمیر پہنچنے میں کامیاب ہوا۔سائیکل سوار نوجوان نے اپنی پہلی فرصت میں جیب سے موبائل فون باہر نکالا اور اہل خانہ کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہوئے انہیں یہ خبر دی کہ وہ سرینگر پہنچ گیاجس کے ساتھ ہی ایک بار وہ پھر زار و قطار رونے لگا۔کچھ وقفہ کے بعد سنبھلنے کے بعد نیدمن نے کہا کہ اس کا خواب تھا کہ وہ سائیکل پر کیرالہ سے کشمیر پہنچے۔ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے نیدی من نے کہا کہ یکم جنوری2021کو انہوں نے کیرالہ کے ترسور ضلع سے سفر شروع کیااور اس وقت اس کی جیب میں صرف173روپے تھے تاہم یہ جنون تھا کہ وہ کسی بھی طرح اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا اور وہ اپنے ہدف کو پورا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ آخر کار93 روز میں انہوں نے4800کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ نیدی من نے کہا کہ دوران سفر اس نے کافی تجربہ حاصل کیا اور متعدد ریاستوں کو پار کرتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ نیدی من ایک پرانے طرز کے سائیکل پر سوار تھا،جس کے پیچھے انہوں نے اپنے کپڑے،ایک گیس اسٹو اور کچھ کھانے پینے کی اشیاء رکھی تھی۔ انہوں نے کہا’’ رات کے دوران میں اکثر پیٹرول پمپوں اور گردواروں میں ٹھہرتا تھااور کسی بھی جگہ مجھے کسی نے رات گزارنے کیلئے منع نہیں کیا‘‘۔اپنے چہرے سے آنسوں پونچھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دوران وہ شام کے وقت چائے بھی فروخت کرتاتھا اور اس طرح سے اپنے سفر کیلئے خرچہ کاانتظام کرتا تھا۔نیدی من کا کہنا تھا کہ انہیں ہر جگہ حوصلہ افزائی ملی اور لوگوں نے اس کو محبت اور شفقت سے دیکھاجس کے نتیجے میں اس کا حوصلہ مزید بلند ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ سے کشمیر پہنچنے کیلئے انہوں نے100روز کا ہدف مقرر کیا تھا تاہم وہ93روز میں ہی سرینگر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔