ہندوستان ہمیشہ کی طرح آج بھی نفرتوں کے بیچ میں پھنس گیا ہے ،اس سے پہلے کبھی طلاق کے نام پر، کبھی دھرم پریورتن کے نام پر، کبھی لو جہاد کے نام پر، کبھی ماب لنچنگ کے نام پر، کبھی تین طلاق کے نام پر ،کبھی مسجد مندرکے نام پر، کبھی ہندو مسلم کے نام پر اور اب طالبان کے نام پر پھنسا ہوا ہے۔جیسے ہیافغانستان میں طالبان نے کامیابی کا علم اٹھایا ،میڈیا نے بھی بنام ِحقیقت اپناکردار اداکرنا شروع کردیا ہے۔اس کردار کی انجام دہی میں ہندوستان کی تقریباًہر نیوز چینل طالبان کو سرخی بنا کر ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں ۔ظاہر ہے کہ افغانستان ایک ملک ہے ،ہر ایک ملک کا الگ الگ نظام اور دستورالعمل ہوتا ہے، اسی دستور العمل پر اپنا ملک چلاتے ہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی کامیابی اور امریکہ کی ناکامی اورافغانستان میں طالبان کی حکومت بنامِ شریعت قائم ہوگی یا ان کے مدِمقابل کوئی اور نظام کھڑا ہوگا اور کس کی کب تلک حکومت قائم رہے گی ،وہ ملکِ افغانستان کی بات ہے۔ وہاں کے ٹی وی چینل پر ڈیبیٹ بھی ہوں، وہاں کی میڈیا وہاں کی حقیقت عوام الناس تک لائے، یہاں تک تو درست ہے اس لئے کہ وہ اُنکاوطن ہے مگر وہاں کی خبر وںکوافغانستان طالبان شریعت کے نام پریہاںکا میڈیاسرخی اور اہم مدعا بناکرٹی وی چینلوںپر ڈیبیٹ کروارہی ہے ،مدعو شخص ڈیبیٹ میں پہنچ کر آنکھوں دیکھا حال نہیں بلکہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے موصول شدہ ویڈیوفوٹو کو دلیل بناکر پر بحث و مباحثہ کررہے ہیں۔ آنکھوں دیکھا حال اور ویڈیو فوٹوکی شہادت میں بڑافرق واقع ہوتا ہے ،آنکھوں دیکھا حال جو حقیقت پر مبنی ہو تو ایسی خبر کی اشاعت سے ملکیوں تک ایک صحیح پیغام پہنچے گا اور اگر غلط بات کی اشاعت ہوئی تو عوام الناس تک غلط پیغام بھی تو پہنچا اورساتھ ہی اَز روئے اسلام جھوٹ کی اشاعت کا گناہ بھی ملا، وہاں کی خبریں یہاں نیوز چینل کی سرخیاں بنی ہوئی ہیں۔ہندوستانی میڈیا افغانستان کو لے کر ہندوستان میں کیا پیغام دینا چاہتی ہے،شاید یہی کہ طالبان کی آڑ میں مسلمان اور شریعت پر نقطہ چینی ۔معاذاللہ اگر ایسا ہرگز نہیں ہے تو یاد رکھیں جو شریعت کی آڑمیں مظلوموں کا ناحق خون بہائے وہ غلط ہے، جو مظلوموں کا خونِ ناحق بہائے، وہ اسلام کابھی دشمن ہےاور اپنے ملک کابھی دشمن ہے ۔یہ تو سب ہندوستانی جانتے اور مانتے ہیں کہ ہم ہندوستانی ہیں، ہندوستان اپنا وطن ہے، ہندوستان سے ہم محبت کرتے ہیں، ہمارے اکابرین کا خون اسی ملک کی مٹی میں سمایا ہوا ہے۔ اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ تم اپنے وطن سے محبت کرو۔آج بھی مسلمان ہندوستان سے محبت کرتے ہیں ،انشاء اللہ آگے بھی وطنِ عزیزسے دل وجان سے محبت کرتے رہیں گے ۔ہندوستانی مسلمانوں نے امریکہ نہیں دیکھا، افغانستان نہیں دیکھا ،دوسرے ممالک کو اور ان کے بسنے والوں کواپنے ماتھے کی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہے بلکہ ہندوستانی مسلمان ہندوستان میں پیدا ہوکر ہندو مسلم سکھ عیسائی کے ساتھ پَلا بڑھا ہےاور آج بھی یکجہتی کا پیغام دیتے ہوئے آپس میں ملنساری و محبت کا اظہار کرتے ہوئے ایک ساتھ تجارت وکاروبارکرکے دوسرے ممالک کو یکجہتی کاپیغام دیتے ہیں۔ اس درمیان میں آپ افغانستان طالبان شریعت کا نام لے لے کر مسلمانوں کی دل آزاری کر رہے ہیں، آپ کے فعل سے مسلمانوں کو تکلیف ہو رہی ہے، ہندوؤں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوںکے دلوں میں مسلمانوں کی شریعتِ اسلامیہ سے نفرت پیداہورہی ہے ،اسلام سے اسلام کے ماننے والوں سے ڈراورخوف کا ماحول پیداہورہاہے اور اسلام کی غلط ترجمانی بھی ہورہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ملک کے کئی علاقوں میں مسلمانوں کو ناحق پیٹا جاتا ہے ،انہیں اپناکام کاج کرنے نہیں دیا جاتا ہےیا کسی علاقے میں گھسنے نہیں دیا جاتا ہے، جس کی ویڈیو ز وقفہ وقفہ کے بعدسوشل میڈیا اور نیوز چینل پر وائرل ہو تی رہتی ہیں ۔اندیشہ ہے کہ اگر یہی سلسلہ طالبان افغانستان شریعت کے نام پر چلتا رہا تو اپنےملک ہندوستان میں ہندو مسلم انتشار پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جائے گا، ظالم کھلے عام ظلم کرتے رہیںگے اور غریب مظلوم دھرم کے نام پر ظلم کے شکار ہوتے رہیں گے۔ہمیںاس بات کا علم ہے کہ کوئی خبر کبھی ریاستی کبھی ملکی کبھی عالمی خبر بن جاتی ہے، اگر یہ عالمی خبر ہے بھی تو ملک کے حالات کے پیشِ نظر حکمتاََ کام لینے کی ضرورت ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اس مسئلہ کو اربابِ اقتدار پرچھوڑ دیں۔اربابِ اقتدار کا مناسب وقت پر ملک کی بہتری اورملک کے مفادمیںجو بھی فیصلہ ہوگا ،وہ تمام ملکیوں کو منظور ہے۔ اہلِ میڈیا سے گذارش ہے کہ وہ ملک کے عوام کی آواز بن کر ملک میںدرپیش بیشمار عوامی مسائل کےحل کے لئے کوشش کرتےر ہیں۔ آج بھی ملک میں مہنگائی اور بےروزگاری سمیت کئی درپیش ہیں۔وہ اِن مدوں کو اُٹھا کر حکومتی ایوانوں تک عوام کی آواز پہنچا نے کا کارِ خیرکریں، اس سے ملک اور ملکی عوام کو ضرور فائدہ پہنچےگا اور اُن کو اس نیک کام کا اچھا صلہ بھی ملے گا ۔
رابطہ ۔9886402786