دانشگاہ
علم کی شمع تم جلائے رکھنا
اس دانشگاہ کو بچائے رکھنا
عنایت بابا کی ہم پرہے یارو
تم رونق اس کی بنائے رکھنا
طول و عرض، ہو جائیں روشن
ایسا سکہ، تم جمائے رکھنا
خدا کرے یہ چمن یوں مہکے
کتابوں کا بستر بچھائے ر کھنا
رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو
خوابوں کو ان کے سجائے رکھنا
علم و ہنر سے سب آشنا ہوں
راہ کے کانٹے سب ہٹائے رکھنا
ریاضؔ، تمہاری تمنا یہی ہے
یہاں علم کا دریا، بہائے رکھنا
ملک ریاض احمد
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی
راجوری (جموں و کشمیر)
موبائل نمبر؛8803530035
خاک
میرے جسم سے اُڑتی ہوئی خاک
ان ہواؤں میں گُھل رہی ہے
میں زندہ تھی کئی سالوں تک
اور کئی سال….!
بے بسی
لاچاری
بس یہی تو ہے
میں تنکا تنکا
خود سے دور ہو رہی ہوں
گُھل رہی ہوں
بکھر رہی ہوں
میں خود سے بہت دور
بہت دور ہو رہی ہوں
نہ جانے اس خاک میں کیا رکھا ہے
میرا وجود مجھے بلا رہا ہے
میری اَنا مجھے دبا رہی ہے
میں انا کے بوجھ تلے دب رہی ہوں
اور جیسے
میرے جسم سے اُڑتی ہوئی خاک
ان ہواؤں میں گھل رہی ہے…
ساریہ سکینہ
حضرتبل سرینگر، کشمیر
دعا برائے طفل
تو میری نظر کا نور ہے
تو میرے جگر کا سرور ہے
رفعتیں تیرے نصیب ہوں
محبتیں تیرے قریب ہوں
تجھے آزمائیش نہ آئے کبھی
تیرے کام سب کے حبیب ہوں
میری ہر خوشی تیرے واسطے
آسان ہوں تیرے راستے
تو پھلے پھولے میرے نور نظر
تجھے والدین کی ہو قدر
تو بلندیوں کو چھو کر دکھا
ہر کام میں تیرے ہو بقا
ہر قدم پہ تجھے ملے دعا
تجھے ہر ایک سے ملے وفا
تو جو بھی چاہے ملے تجھے
تیرے واسطے نہ ہوں گلے
تو جہاں جہاں کا رخ کرے
اللہ تیرے دکھ دور کرے
میری سخنوری میں ہو اثر
مجھے ہر دم تم پہ ہو قدر
اللہ میرا تیرے ساتھ ہو
خوشیاں تیرے نصیب ہوں
رفعتیں تیرے نصیب ہوں
یہ دعا کرے تیری یہ ماں
تو ع غ کی ہے جان
عذرا غنی
آسنور کولگام ، کشمیر