شیخ عابد حسین
کہانی صدر اسپتال کی ان قطاروں سے شروع ہوتی ہیں جہاں ایک کمزور بوڑھا اپنی شفایابی کے خاطر لائن میں بیٹھا زور کے دھکے کھا رہا تھا اور سر دبائے چپ چاپ کچھ سوچ رہا تھا۔ وہ اس قدر سوچنے میں مشغول تھا گویا اسے اپنے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کا منظر آنکھوں کے سامنے آرہا تھا۔ اس کا جسم کافی ڈھیلا تھا جو اسے اپنی جوانی اور بوڈھاپے کا فرق واضع کر رہا تھا۔ چہرے پر جھریاں پڑی تھیں، جو اسے جوانی کا گلابی چہرہ یاد دلاتیں۔ جس کی خاطر وہ دن میں دس بار آئینہ دیکھتا تھا اور فخر کرتا تھا لیکن زمانہ اس قدر اس کی خوبصورتی پر حملہ آور ہوا کہ چہرے کی چمک ایک پھونک سے گویا ختم ہوگیا۔ جوانی کے لہراتے بال، جو اب پیری کے باعث سفید اور کمزور ہوگئے ہیں، اسے یاد آتے ہیں جنہیں وہ کئی طرح سے کنگی کر کے سجاتا تھا اور جو چہرے کی سجاوٹ میں مزید اضافہ کرتے تھے۔ جوانی کا زور جس زور کی بنیاد پر اسے لگتا تھا کہ وہ پہاڑوں کو بھی چیر پھاڑ کر سکتا تھا اب کمزوری اور بے بسی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اسے یاد آتا ہے کس طرح جوانی کے زور سے وہ کئی کام ایک ساتھ کرتا تھا اب وہ زور اس قدر ختم ہوگیا ہے کہ قطار میں لگے دھکے اسے برداشت نہیں ہو رہے تھے۔ اسے اپنی زبان اور بات کرنے کا لہجہ یاد آتا ہے جو زبان جوانی کے عالم میں بڑھ بڑھاتی تھی۔ اس کی آواز کئی آوازوں کو چیرتے ہوئے دور دور تک سنائی دیتی تھی۔ وہ اپنی آواز سے لوگوں کو ڈراتا تھا،لوگوں پر حکم چلاتا تھا لیکن آج وہی زبان سہمی اور اُف کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتی ۔ اسے اپنی ٹمٹماتی ہوئی آنکھیں یاد آتی تھیں جن آنکھوں میں آنکھیں ملانے والے فریفتہ ہوجاتے تھے لیکن آج وہی آنکھیں دھند محسوس کر رہی ہیں اور چلتے چلتے ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔
اسے موجودہ دور کے نوجوانوں اور اپنے دور کے جوانوں میں واضع امتیاز نظر آرہا تھا۔ کس طرح وہ نوجوانی کے دوران اپنے بزرگوں کی خدمت اور احترام کرتے تھے اور بدلے میں ایسی دعائیں حاصل کرتے تھے جن دعاوں کی بنیاد پر وہ لمبی لمبی عمر گزارتے تھے۔ جس جگہ اور جس حال میں ہوتے تھے اپنے بزرگوں اور بڑوں کی تعظیم کبھی نہیں بھولتے تھے ۔ قطار میں بیٹھے نوجوانوں کے دھکے کھانے اور نوجوانوں میں احساس کمتری کو دیکھ کر اسے افسوس ہونے لگا۔
میں ایک طرف کرسی پر بیٹھ کر بزرگ شخص کی اس حالت پر غور کر رہا تھا تو آخر اس کی حالت دیکھ کر اسے اپنے پاس بلایا اور اسے کرسی پر بیٹھا کر خود اس کے خاطر قطار میں کھڑا ہوگیا۔ کام پورا ہونے کے بعد بزرگ کے منہ سے ایک ہی بات نکلی اللہ آپ کو لمبی عمر دے اور میرے چہرے پر ہاتھ پھرا کر لاٹھی کا سہارا لئے چلا گیا۔
���
ؕترہگام کپواڑہ
موبائل نمبر؛7889959161