صدائے دِل
میں نے زمینِ ذہن کے کَس بل نکال کر
حالات کے مزاج کو بھی دیکھ بھال کر
شاخِ قلب سے لفظ کو جھولی میں ڈال کر
تشکیل دیئے شعر کچھ وجدانِ سحر میں
پڑھ کر جنہیں قاری جناب آپ دنگ ہو
پھر سے مجھے اب میرؔ اور جگرؔ کی تلاش ہے
قلب وجگر کے لب پہ یہی اِک حرفِ کاش ہے
بکھرے خیال و فکر کی صورت کیوں تاش ہے
اَے ربِ ذوالجلال کچھ قای، ےو بھرم رکھ
میری نوائے شعر میں اپنا ہی رنگ ہو
خواہش ہے میرے سخن کا قائم چلن رہے
اسکی صدائے بازگشت تا کوہ و دمن رہے
تا دیر با حیات یہ مرا فِکرو فن رہے
اِس آرزو کے ہی سبب زندہ ہوں آج تک
دامانِ شعر زیست میں میرا نہ تنگ ہو
نکھریگا مرا یک دن خود رنگِ تخیل
مجھو کہیںگے اہل بصر کہ نکتہ سنج ہے
سخنِ عُشاقؔ سیرتاً معنیٔ گنج ہے
ایسا بھی دور آئیگا ہونگے نہ ہم حیات
لیکن کلامِ ہیچ میں صدائے چنگ ہو
عُشاق ؔکشتواڑی
حال جموں
موبائل نمبر;9697524469
آئینہ
اگر
آپ ادیب و شاعر ہیں
تو ادب کا مظاہرہ کریں
حسن اخلاق سے
شعور سے ، تقریر سے ، تحریر سے
ورنہ ۔۔۔ یہ جان لیں!
بے ادب قلم کار
مجروح کرتے ہیں
گفتار کو ، کردار کو ، وقارِ فن کو
حرمت قلم کو
معراج انسانیت کو۔
یہ تلخ حققیت ہے
کہ قلم بڑی نعمت ہے
خدا کی
کیونکہ
بے ادب بے نصیب!
با ادب با نصیب!!
علی شاہدؔ دلکش
کوچ بہار گورنمنٹ انجینئرنگ کالج
کوچ بہار ، مغربی بنگال