جموں//نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (نبارڈ)نے ترقی پسند کسانوں میں بیداری اور صلاحیت پیدا کرنے کے لئے جموں صوبے کے متعدد اَضلاع میں ایک روزہ ورکشاپ کم سنزٹائزیشن پروگرام کا اِنعقاد کیا۔ورکشاپ میں ترقی پسند کسانوں کے علاوہ پروڈیوسر آرگنائزیشن (ایف پی او)اورفارمرس کلب جموں ، سانبہ اور جموںصوبے کے کٹھوعہ اَضلاع میں نبارڈ کے ذریعے ترقی دئیے گئے کسانوں نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر ڈپٹی جنرل منیجر نبارڈ جموںانامیکا مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود تھیں جبکہ ورکشاپ میں اے جی ایم نبارڈ پریا رنجن اور کٹھوعہ اور سانبہ کے ضلع ترقیاتی منیجروں نے شرکت کی ۔کلب اور ایف پی اوز یعنی آرگنک ایکتا مشروم گروئورس ، نند پور ملک پروڈیوسر کمپنی لمٹیڈ سانبہ اور کے وائی اے ایس سی کٹھوعہ کے تقریباً 70 کسان ممبران نے بھی ورکشاپ میں حصہ لیا۔اِس موقعہ پر ڈی جی ایم نبارڈ نے اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے کہا چھوٹے اور پسماندہ کاشت کاروں کی پیداوار کو جمع کرنے سے کسانوں کو پیداواری اور پیداوارکے بعد کے دونوں مراحل میں درپیش چیلنجوں کو کم کرنے جیسے مناسب نرخوں پر اچھے معیار کے اِن پٹس ، ادارہ جاتی قرض کی دستیابی ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، ویلیو ایڈیشن ، پروسسنگ اور سب سے اہم بات مارکیٹ تک رسائی میں مدد ملتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کسانوں کو حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ اپنی پیداوار میں درجہ بندی اور پیکیجنگ کے سلسلے میں اپنی کوششیں تیز کریں کیوں کہ اِس سے وہ اَپنی پیداوار کو بہتر منافع اور اَپنی آمدنی میں اِضافہ حاصل کرسکیں گے۔اُنہوں نے ایف پی اوز کے قیام کے سلسلے میں حکومت ہند کی نئی شروع کی گئی سکیم کے بارے میں بھی بیداری پید ا کی گئی جہاں ہر بلاک کو 5 برس کے عرصہ میں زراعت اور زرعی پیداوار مصنوعات کے میدان میں 2 ایف پی او معرض وجود میں لائے جائیں گے ۔لائیو لی ہُڈ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ پروگرام پر بھی ایک ولیڈیکشن پروگرام منعقد کیا گیا جس میں خواتین کوتے تیار کرنے کے لئے ایس ایچ جی ممبران میں مہارت پیدا کرنے کے لئے نبارڈ نے فروغ دیا۔اِس موقعہ پر ڈی ڈی ایم سانبہ اور ڈی ڈی ایم کٹھوعہ نے کاشتکاروں کو ایف پی اوز کی تشکیل کی اہمیت اور فوائد کے بارے میں روشناس کیا۔
[