محتشم احتشام
مینڈھر//قصبہ مینڈھر میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نکاسی آب کے منصوبے نے تاجروں اور مقامی مکینوں میں گہری تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ نالیاں طے شدہ فنی معیار اور انجینئرنگ اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے تعمیر کی جا رہی ہیں، جس کے باعث بارش کے پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔تاجروں کے مطابق ناقص تعمیر کے اثرات ابھی سے نمایاں ہونا شروع ہو چکے ہیں؛ بارش کے دوران پانی کی درست نکاسی نہ ہونے سے دکانوں، کاروباری مراکز اور قریبی املاک کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کئے گئے تو بڑے مالی نقصانات ناگزیر ہوں گے۔صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مینڈھر کے تاجروں نے عارضی طور پر جاری تعمیراتی کام رکوا دیا اور حکومت و متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ ان کا اصرار ہے کہ نکاسی آب کا یہ منصوبہ قصبے کے ماسٹر پلان اور مستند انجینئرنگ ضوابط کے عین مطابق مکمل کیا جائے، تاکہ مستقبل میں عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس موقع پر سماجی کارکنان خورشید خان اور تنویر اقبال قریشی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوامی سہولت ہے، نہ کہ شہریوں کے لیے نئی پریشانیاں پیدا کرنا۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں اور مؤثر، دیرپا بارشی نکاسی آب کا نظام یقینی بنایا جائے۔مقامی باشندوں نے واضح کیا ہے کہ اگر ناقص تعمیر کا سلسلہ جاری رہا تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ قصبے کے عوام کی نظریں اب انتظامیہ کے فوری اور ذمہ دارانہ اقدام پر مرکوز ہیں، تاکہ مینڈھر کو ممکنہ بحران سے بچایا جا سکے۔