اے اولاد آدم ،خالق نے تمہیں خاک سے تخلیق کرکے فخر سے فرشتوں کے سامنے یہ کہ کر پیش کیا کہ دیکھو اسے میں نے اپنی عبادت اور اطاعت کیلئے تخلیق کیا ہے۔ جنت تمہارے رہنے کی جگہ قرار دی اور تمہاری تسکین طبیعت کے لیے تمہارا ایک جوڑا بھی تخلیق کیا۔ جنت میں داخل ہوتے ہی تم نے اپنے خالق کی نافرمانی شروع کی۔ خالق تم پر مہربان ہوا اور تمہیںزمین پر اپنا نائب مقرر کیا۔ لیکن تم نے اسکی زمین کو اپنی جاگیر سمجھ کر اسے خطوں میں تقسیم کیا اور بزعم خود ان کی سرحدوں کو نا قابل تسخیر قرار دیا۔ تم نے اپنی عقل و ذہانت کا منفی استعمال کرکے ایسے تخریبی آلات ایجاد کئے جو نہ صرف تمہاری ہم نسل بلکہ تمام نباتات و جمادات کو صفحہء ہستی سے مٹانے کیلئے کافی ہیں۔ تم نے اپنی ساری توانائی اور قدرت کے بخشے ہوئے وسائل اپنی انا کی خاطر غلط طریقے سے استعمال کئے۔ تم خدا کی تخلیق کردہ زمین پر خود خدا بن بیٹھے اور انسان کے ارمانوں اور امنگوں کو مٹی میں ملانے کا کام کیا۔ تمہیں د نیا میں جس پر بھی اپنا مد مقابل ہونے کا شک ہوا، اسے دنیاسے نابود کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ اب دیکھ رہے ہو اس ننھے جرثومے کو، جس کی پرداخت بھی ابھی نامکمل ہے اور جسکی حیات محض چند لمحوں کی ہے۔ جو معمولی صابن سے فنا ہوسکتا ہے اور جسکی بظاہر کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ کیسے اس نے تمہیں بے بس اور بے کس بناد یا۔ کیا تم سوچ سکتے ہو کہ ایسا کیوں ہوا۔ جواب خود اپنے اعمال سے پوچھو۔ تم سے پہلے تمہاری انسانیت مر چکی تھی۔ تم بزعم خود قدرت کے مد مقابل آگئے۔ اب سنو تم نے قدرت کی بخشی ہوئی اس دنیا کے ساتھ کیا کیا نہ کیا۔ تم نے حیات بخش ماحول کو آلودہ کرکے اسے جہنم زار بنایا۔ تمہارے کرتوت کیا کیا گنوائوں، تم نے ستاروں اور سیاروں پر کمندیں ڈالیں، خلاء کی وسعتوں کو اپنا مطیع بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اب کیا ہوا ایک مہین ذرے کا تم پر ایسا خوف طاری ہوا کہ تمہیں گھر کے کونے کھدروں میں دبک جانے پر مجبور کردیا۔
اب تمہاری ہیکڑی کہاں گئی۔ گھر سے باہر جھانکنے سے کیوں گھبراتے ہو۔کاش تم نے قدرت کی بخشی ہوئی بے پناہ عنائتوں کو خلق خدا کی فلاح و بہبود کے لئے کام میں لایا ہوتا۔ کاش تم نے قدرتی وسائل کو اپنی ہوس کا نشانہ نہ بنایا ہوتا۔ کاش تم نے اپنی شکم پری کے لئے اپنے ہم نسل کے پیٹ پر لات نہ ماری ہوتی۔
اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ تمہارا خالق تم سے بہت پیار کرتا ہے۔