عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// گذشتہ برس پہلگام بیسرن میںحملے نے جہاںسیاحتی سرگرمیوں کو اچانک مفلوج کر دیا اورسینکڑوں افراد کی روزی روٹی بھی متاثر ہوئی۔ایسے نازک حالات میں ونٹر فیسٹیول 2025 کو پہلگام میں سیاحت کی بحالی کی سمت ایک اہم اور حوصلہ افزا قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس فیسٹیول کا بنیادی مقصد صرف تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ خوف اور عدم تحفظ کی فضا کو ختم کر کے اعتماد کی بحالی، سیاحوں کو دوبارہ راغب کرنا اور یہ پیغام دینا کہ پہلگام ایک محفوظ اور پر امن سیاحتی مقام ہے۔فیسٹیول کے دوران ثقافتی پروگرام، روایتی کشمیری موسیقی، مقامی دستکاریوں کی نمائش، سردیوں کے روایتی پکوان اور تفریحی سرگرمیوں نے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سیاحوں کی توجہ بھی حاصل کی۔ سیاحت سے وابستہ چھوٹے کاروباری افراد ونٹر فیسٹیول کو ایک امید کی کرن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ’’اگر اس طرح کے ایونٹس تسلسل کے ساتھ منعقد کیے جائیں تو سیاحت کی رفتار بتدریج بحال ہو سکتی ہے۔یہ فیسٹیول پہلگام کی شبیہہ کو بہتر بنانے، خوف کی فضا کو کم کرنے اور سیاحتی سرگرمیوں کو دوبارہ بحال کرنے میں موثر کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔مجموعی طور پر ونٹر فیسٹیول 2025 کو پہلگام میں سیاحت کی بحالی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی معیشت کو سہارا دینے کی سمت ایک مثبت، ضروری اور بروقت اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو مستقبل میں اگر مربوط پالیسیوں کے ساتھ جاری رکھا گیا تو دیرپا نتائج دے سکتا ہے۔واضح رہے کہ سال 2025 میں (یکم جنوری سے 16دسمبر تک) 957928 سیاح پہلگام وارد ہوئے، جن میں سے 600693 مقامی 349272 ملکی جبکہ 7963 غیر ملکی سیاحوں نے پہلگام وادی کی سیر کی۔