نئی دہلی //چیئرپرسن ریٹائرڈ جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی پر مشتمل سابق آفیسیو ممبر شری سشیل چندر (الیکشن کمشنر) اور سابق آفیسیو ممبر ، شری کے کے شرما (ریاستی الیکشن کمشنر ، جموں و کشمیر) نے جمعرات کو نئی دہلی میں جموں و کشمیر کے مرکزی خطے سے تعلق رکھنے والے ایسوسی ایٹ ممبروں کے ساتھ جموں و کشمیر کے سلسلے میں حد بندی کے عمل کے بارے میں ان کے مشورے / آراء حاصل کرنے کے لئے ایک اجلاس منعقد کیا۔ چیئر پرسن جسٹس دیسائی نے ایسوسی ایٹ ممبروں ڈاکٹر جتیندر سنگھ، ممبر پارلیمنٹ شری جوگل کشور شرما کو اجلاس میں خوش آمدید کہا۔حد بندی کمیشن نے 5 فروری 2021 کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، محمد اکبر لون ، حسنین مسعودی ، جوگل کشور شرما اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو تحریری طور پرآگاہ کیا تھا کہ آج کے اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں لیکن اجلاس میں صرف دو ممبران شریک ہوئے اور نیشنل کانفرنس کے 3اراکین نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔تینوں ممبران نے پہلے کمیشن کے چیئر پر سن کے نام ایک مکتوب میں کمیشن کو غیر آئینی قرار دیکر اس میں شرکت کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ ، 2019 اور ڈلیمیٹیشن ایکٹ 2002 پر مبنی حد بندی کے عمل پر ایک جائزہ ممبران کے سامنے پیش کیا گیا جس میں ان اراکین کے سامنے مختلف حصوں کی تفصیل پیش کی گئی، جس میں جموں و کشمیرمیں حد بندی سے متعلق قوانین کے تحت کئے جارہے عمل کا احاطہ کیا گیا تھا۔دونوں ایسوسی ایٹ ممبران نے کمیشن کی کاوشوں کو سراہا اور تجویز پیش کی کہ حلقوں کی حد بندی جہاں تک ہوسکے قابل عمل ہو ، جغرافیائی طور پر مربوط علاقوں ، موجودہ انتظامی اکائیوں کے حدود، مواصلات اور عوامی سہولیات کے علاوہ آبادی کی خصوصیات کو بھی کسی بھی علاقے کی حد بندی کرنے کے ،موقعہ پر ذہن میں رکھاجائے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ حد بندی عمل کے دوران جموں و کشمیر میں مشکل علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔الیکشن کمشنر سشیل چندر نے ان کی قیمتی آرائوں کا خیرمقدم کیا اور ایسوسی ایٹ ممبروں کی تجاویز اور آراء پر حد بندی کمیشن سے اطمینان کا اظہار کیا۔ ممبران آنے والے دنوں میں مزید تجاویز پیش کرنے کے خواہاں تھے۔ادھرحد بندی کمیشن کے پہلے اجلاس سے قبل کشمیری پنڈت رہنما اشوینی کمار چیرنگو نے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو ایک خط لکھا ، جس میں کشمیری پنڈتوں کی نامزدگی کیلئے 5نشستیں دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔