عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی سربراہ سید الطاف بخاری نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے کوئی جامع منصوبہ مرتب کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پٹن میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ مرکز اور جموں کشمیر کے عوام کے درمیان بات چیت کا انعقاد نہایت اہم ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ نئی دہلی اور جموں و کشمیر کے درمیان اعتماد کی خلیج کو ختم کیا جانا چاہیے تاکہ ان کے اہم مسائل حل کیے جا سکیں۔انہوںنے کہا کہ متعدد قائدین اور نوجوان طویل عرصے سے جیلوں میں بند ہیں۔ جن پر سنگین الزامات نہیں ہیں، انہیں رہا کیا جانا چاہیے ۔ بخاری نے کہاکہ نوجوانوں کو بہتر روزگار کے مواقع کے لیے بیرونِ ملک جانے کے لیے پاسپورٹ فراہم نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے کہا، ایک طرف 5 اگست کو جموں و کشمیر سے اس کی خصوصی آئینی حیثیت، ریاستی درجہ اور دیگر مراعات چھین لی گئیں، دوسری طرف عوام کو ان کے مسائل اور شکایات کے ساتھ بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ وہ کہاں جائیں؟ نئی دہلی کیسے توقع رکھتی ہے کہ یہاں کے لوگ مرکز سے مطمئن رہیں گے؟انہوں نے مزید کہا، اسی لیے میں بار بار مرکز سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عوام کے ساتھ مکالمہ شروع کرے اور ان کے مسائل حل کرے۔ بخاری نے کہا کہ مودہ حکومت نے عوام سے دھوکہ کیا۔ غلام حسن میر نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ پنچایت اور شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے ذریعے عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کے حق سے دانستہ محروم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا،حکومت جانتی ہے کہ یہ انتخابات زمینی سطح پر عوام کو بااختیار بنائیں گے، اور وہ ایسا نہیں چاہتے، وہ صرف خود کو با اختیار رکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے دریاوں سے ریت و بجری وغیرہ نکالنے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگ دریاں اور نالوں سے تعمیراتی مواد نکال کر اپنا روزگار چلاتے تھے، مگر یہ ذریعہ معاش ان سے چھین لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا، ہم نے یہ معاملہ مرکزی حکومت کے سامنے اٹھایا اور انہیں قائل کیا کہ معدنیات نکالنے کے روایتی طریقے جاری رہنے چاہئیں۔