کشمیر صدیوں سے اپنے میوہ باغات، سرسبز وادیوں اور قدرتی حسن کی وجہ سے جنت ِارضی کہلاتا رہا ہے۔ سیب، ناشپاتی، آلو بخارا، اخروٹ اور چیری جیسے پھل نہ صرف کشمیری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں بلکہ صحت مند غذا کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔ مگر حالیہ برسوں میں ایک پریشان کن سوال نے جنم لیا ہےکہ کیا کشمیر کے یہ میوہ باغات واقعی صحت کا ذریعہ ہیں یا غیر ذمہ دار زرعی طریقوں کے باعث آہستہ آہستہ ٹیومر جیسی بیماریوں کی آماجگاہ بنتے جا رہے ہیں؟
یہ سوال کسی سازشی سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ زمینی حقائق، بڑھتی بیماریوں اور بدلتے زرعی رجحانات سے جڑا ہوا ہے۔ کشمیر میں میوہ باغبانی ایک منظم صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں پیداوار بڑھانے کے لئے کیڑے مار ادویات، فنگس کش سپرے اور کیمیائی کھادوں کا استعمال غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔ فصل کو بیماریوں، کیڑوں اور موسمی اثرات سے بچانے کےلئے بار بارسپرے کیا جاتا ہے، جس کے اثرات صرف درختوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ انسان اور ماحول دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔باغات میں کام کرنے والے مزدور اور کسان سب سے پہلے اس کی زد میں آتے ہیں۔ اکثر حفاظتی لباس اور مناسب تربیت کے بغیر سپرے کیا جاتا ہے، جس سے زہریلے کیمیائی ذرات سانس، جلد اور خوراک کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ طویل عرصے تک ایسے مادّوں کی نمائش جسم کے خلیاتی نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جو مختلف اقسام کے ٹیومر کے خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے جس کی طرف اشارہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کی ایک تحقیق میں بھی دیاگیا ہے اور جنوبی کشمیر میں ٹیومر کے بڑھتے معاملات کو باغبانی صنعت سے جوڑاگیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب اسمبلی کی ماحولیاتی کمیٹی بھی اس حوالے سے تشویش میں ہے اور محمد یوسف تاریگامی کی سربراہی میں مذکورہ کمیٹی نے اس تعلق سے سفارشات سرکار کو پیش کی ہیں۔
ہمیں یہ سمجھناہوگا کہ یہ ایک خاموش خطرہ ہے جو فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتا، مگر وقت کے ساتھ سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔صارفین بھی اس دائرے سے باہر نہیں۔ جب یہی پھل بازاروں میں پہنچتے ہیں تو ان پر موجود کیمیائی باقیات عام لوگوں تک منتقل ہو سکتی ہیں، خاص طور پر جب پھل توڑنے اور فروخت کے درمیان مطلوبہ وقفے کا خیال نہ رکھا جائے۔ اگرچہ سرکاری سطح پر اصول و ضوابط موجود ہیں، مگر ان پر عمل درآمد ہمیشہ مؤثر نہیں ہوتا۔ منافع کی دوڑ میں صحت کے تقاضے اکثر پس ِ پشت چلے جاتے ہیں۔
ماحولیاتی نقصان اس مسئلے کو مزید گمبھیر بنا دیتا ہے۔ مسلسل کیمیائی استعمال سے مٹی کی قدرتی زرخیزی کم ہو رہی ہے، زیرِ زمین پانی آلودہ ہو رہا ہے اور مفید حشرات و جاندار ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہی آلودہ ماحول جب انسانی زندگی سے جڑتا ہے تو بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر احتیاط نہ برتی گئی تو یہی میوہ باغات بیماریوں کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
تاہم یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ مسئلہ باغات کا نہیں بلکہ ان کے غیر سائنسی اور غیر ذمہ دارانہ انتظام کا ہے۔ اگر جدید تحقیق، مناسب تربیت اور متبادل طریقے اپنائے جائیں تو یہی باغات صحت، خوشحالی اور پائیدار ترقی کی مثال بن سکتے ہیں۔ مربوط کیڑوں کے کنٹرول، حیاتیاتی ادویات اور نامیاتی کاشتکاری جیسے طریقے نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ طویل مدت میں انسانی صحت کے لیے بھی محفوظ ثابت ہو سکتے ہیں۔
حکومت، زرعی ماہرین اور کسانونوں،تینوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرے کو سنجیدگی سے لیں۔ کسانوں کو آسان زبان میں تربیت، حفاظتی سازوسامان اور سستی متبادل ٹیکنالوجی فراہم کی جائے۔ صارفین میں بھی شعور بیدار کیا جائے تاکہ وہ صاف، محفوظ اور ذمہ دارانہ پیداوار کو ترجیح دیں۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ ہم کشمیر کے میوہ باغات کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے آج احتیاط، تحقیق اور ذمہ داری کو اپنایا تو یہ باغات واقعی صحت اور خوشحالی کی علامت رہیں گے۔ بصورتِ دیگر اندیشہ ہے کہ قدرت کا یہ انمول تحفہ ہماری اپنی غفلت کے باعث بیماریوں، حتیٰ کہ ٹیومر جیسے مسائل کی آماجگاہ بن جائے۔ فیصلہ آج کرنا ہوگا، کیونکہ کل بہت دیر ہو سکتی ہے۔