مینڈھر//منکوٹ تحصیل کے ایک معذور شخص نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے آفیسران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیاہے کہ اسے پچھلے پانچ برسوںسے پنشن کیلئے دفاتر کے چکر کٹوائے جارہے ہیں ۔اس کاکہناہے کہ اسے پنشن دینے کے بجائے دھکے دے کر دفتر سے باہر نکالاجارہاہے اور ملازمین کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر آدھی پنشن دے سکتے ہو تو دفتر آئو نہیں توباہر کا راستہ دیکھو ۔محمد رفیق ولد صید محمد سکنہ دبڑاج کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سال سے دفتر کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک گیاہے اور کبھی اسے پونچھ بھیجاجاتاہے تو کبھی بنک بھیج دیاجاتاہے لیکن ہر بار خالی ہاتھ لوٹناپڑتاہے اور پھر دفترآئوںتوملازمین دھکے مار کر باہر نکال دیتے ہیں ۔ان کاکہناہے ’’ملازم کہتے ہیں کہ روز کھونڈی پکڑ کر دفتر میں آ جاتے ہو ،ہمیں اور کوئی نہیں ‘‘۔اس معذور شخص نے تحصیل و ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ مینڈھر کے سوشل ویلفیئر دفتر میں تعینات ملازمین کو جوابدہ بنایاجائے اور کام نہ کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔اسی طرح سے منکوٹ علاقہ کی ہی ایک غریب خاتون اپنی قوت سماعت و قوت گویائی سے محروم دو بچیوں کو لیکر دفتر کے چکر کاٹ رہی ہے ۔شمیم اختر زوجہ محمد نثار نامی اس عورت نے رو رو کر کہا کہ اسے محکمہ کے دفتر سے دھکے مار کر باہر نکالا جا رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کاخاوند گزشتہ پانچ سال سے لاپتہ ہے جبکہ اس کی تین چھوٹی چھوٹی بچیاں ہیں جن میں سے دو گونگی اور بہری ہیں جبکہ ایک کا آپریشن ہوا ہے اور وہ معذور ہے ۔اس کا کہنا تھا کہ وہ بھی پانچ سال سے اس دفتر کے چکر کاٹ رہی ہے اورمحکمہ کے ملازمین کی طرف سے صرف تاریخ پہ تاریخ دی جاتی ہے لیکن پنشن سے محروم رکھاجارہاہے۔اس دوران معذور شخص اور خاتون ایس ڈی ایم مینڈھر کے دفتر پہنچے جہاں انہوںنے اپنی روداد بیان کی جس پر ایس ڈی ایم نے یقین دلایاکہ ان کے ساتھ ناانصافی نہیںہوگی ۔رابطہ کرنے پر ایس ڈی ایم مینڈھر نے کہا کہ وہ دونوں لوگ ان کے پاس آئے تھے اور انہوں نے ان کو سوموار کو بلایا ہے جبکہ محکمہ کے اعلیٰ آفیسر سے بھی ا ن کی بات ہوئی ہے اور ان کو ضرور پنشن دلائی جائے گی۔