محتشم احتشام
پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ کے تعلیمی منظرنامے میں ایک تاریخی پیش رفت اْس وقت سامنے آئی جب گورنمنٹ ڈگری کالج مینڈھر نے پہلی مرتبہ موسمِ بہار میں ریشم کے کیڑوں کی کامیاب پیداوار حاصل کر کے ایک نئی مثال قائم کی۔ یہ کامیابی نہ صرف ادارے کے لیے ایک سنگِ میل تصور کی جا رہی ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں فنی تعلیم، عملی تربیت اور خود روزگار کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم بھی قرار دی جا رہی ہے۔یہ نمایاں کامیابی رواں برس 24 اور 25 مارچ کو کالج میں منعقدہ دو روزہ تربیتی پروگرام ’سیری بزنس اپورچونٹیز فار کالج اسٹوڈنٹس ‘کے ثمرات کا عملی اظہار ہے، جسے سینٹرل سلک بورڈ بنگلور کے اشتراک اور سرپرستی میں منعقد کیا گیا تھا۔ پروگرام کی نگرانی ڈاکٹر صدیق علی احمد، سائنسدان-ڈی و سربراہ کیپیسٹی بلڈنگ اینڈ ٹریننگ ڈویڑن، سینٹرل سلک بورڈ بنگلور نے کی، جبکہ بورڈ کے پانچ ممتاز سائنسدانوں نے طلبہ کو جدید ریشم پروری، کوکون مینجمنٹ اور کاروباری امکانات سے متعلق تفصیلی تربیت فراہم کی۔
تربیت کے فوراً بعد کالج کے پْرجوش طلبہ نے تقریباً 50 ڈیزیز فری لیئنگز (DFLs) کی پرورش کا عملی آغاز کیا۔ طلبہ نے نہایت ذمہ داری اور سائنسی انداز میں ریشم کے کیڑوں کی دیکھ بھال، نگرانی اور انتظام کو یقینی بنایا، جس کے نتیجے میں پہلی ہی کوشش میں کامیاب پیداوار حاصل ہوئی۔کامیاب فصل کی تکمیل پر ڈاکٹر روبیہ بخاری، سائنسدان-بی، ریجنل سیری کلچرل ریسرچ اسٹیشن میراں صاحب جموں نے کالج کا دورہ کر کے کوکون کی درجہ بندی سے متعلق عملی مظاہرہ پیش کیا۔ انہوں نے اعلیٰ معیار کے کوکون کی مارکیٹ ویلیو اور جدید ریشم پروری کی تکنیکوں پر بھی روشنی ڈالی۔اس پورے منصوبے میں سابق پرنسپل ڈاکٹر محمد اعظم کی مسلسل رہنمائی اور حوصلہ افزائی بھی نمایاں رہی، جنہوں نے فون اور ذاتی دوروں کے ذریعے طلبہ کی رہنمائی جاری رکھی۔موجودہ پرنسپل ڈاکٹر شوکت حسین نے اس تاریخی کامیابی پر کالج ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے سینٹرل سلک بورڈ اور محکمہ سیری کلچر کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے ڈاکٹر روبیہ بخاری، ڈاکٹر ہرجیت سنگھ، مسٹر امجد، ڈاکٹر سرشاد حسین اور شعبہ حیاتیات کے انعام الحق کی خدمات کو بھی سراہا۔ڈاکٹر شوکت حسین نے کہا کہ یہ کامیابی محض آغاز ہے اور مستقبل میں کالج کو ریشم پروری، ہنرمندی اور نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتوں کے فروغ کا ایک مستقل مرکز بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔