جاوید اقبال
مینڈھر// ایک اہم سیاسی پیش رفت کے تحت جموںو کشمیر نیشنل کانفرنس کو مینڈھر میں اس وقت نمایاں تقویت حاصل ہوئی جب متعدد سیاسی کارکنان اور سماجی شخصیات نے جاری ’مینڈھر جوڑو یاترا‘ کے دوران پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ یہ عوامی رابطہ مہم پارٹی رہنماؤں ذیشان جاوید رانا اور ایڈووکیٹ نذیر حسین کی قیادت میں جاری ہے، جس میں حلقے بھر سے لوگوں کی بھرپور شرکت دیکھنے کو مل رہی ہے۔تقریب کی خاص بات ایڈووکیٹ راجہ محمود خان کی باضابطہ شمولیت رہی، جو اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کسان مورچہ کے جنرل سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے فوری طور پر اپنے عہدے اور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے کر جے کے این سی میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا یہ قدم مقامی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔پارٹی میں شامل ہونے والوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سینئر جے کے این سی رہنماؤں نے اس بڑے پیمانے پر شمولیت کو پارٹی کی پالیسیوں اور عوامی رابطہ مہم پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’مینڈھر جوڑو یاترا‘ کو ملنے والا مثبت ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خاص طور پر سرحدی علاقوں میں عوام متحد ترقی، سماجی ہم آہنگی اور جوابدہ طرز حکمرانی کے خواہاں ہیں۔
ایڈووکیٹ راجہ محمود خان کے علاوہ دیگر نمایاں شخصیات میں کیپٹن اقبال خان، الطاف احمد خان، عبدالقیوم خان، یونس خان، حوالدار محمد شفیع، عبدالعزیز منہاس، خالد منہاس، محمد ضمیر منہاس، محمد رزاق، غلام مصطفیٰ، ظہور احمد خان، حاجی مشتاق احمد خان، اشتمولن خان، محمد یاسین خان، اللہ دتہ خان، حاجی نور محمد، محمد بشیر بھٹی، عبدالمجید منہاس، شکیل احمد خان، محمد حفیظ، سکندر منہاس، سردار منیر حسین، محمد عرفان، شوکت منہاس، محمد ساجد خان، ظفر ملک، محمد تبیر بھٹی، عمران خان، ظہیر احمد، محمد سفیر منہاس، منظور حسین، سردار وقار خان، مولوی منشی، محمد نسیم خان، آصف قیوم، ابرار خان اور دیگر کئی افراد شامل ہیں۔نئے شامل ہونے والوں نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ، جمّوں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور کابینہ وزیر جاوید احمد رانا کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پیر پنجال خطے کے لیے ان کے وڑن اور عوامی فلاح و بہبود کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ نچلی سطح پر پارٹی کو مضبوط بنانے اور مینڈھر کی ہمہ جہت ترقی میں فعال کردار ادا کریں گے۔پارٹی کے سینئر نمائندوں نے کہا کہ اس بڑھتی ہوئی حمایت سے خطے میں نیشنل کانفرنس کی مضبوطی کا اندازہ ہوتا ہے اور پارٹی عوامی مسائل کے حل، اتحاد کے فروغ اور سب کے لیے مساوی و جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔