تحریری شکایت موصول ہونے پر الزامات کی تحقیقات ہوگی :ڈی آر ایم جموں وویک کمار
محمد تسکین
بانہال// وادی کشمیر سے بانہال اور بانہال سے سنگلدان و کٹراہ کے درمیان وقفے وقفے سے ریل سروس کی بحالی کے بعد شمالی ریلوے کی جانب سے ریلوے لائن، ریلوے سٹیشنوں اور ٹنلوں کی مینٹیننس کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے نجی کمپنیوں کو ٹھیکے دیے جا رہے ہیں اور ان ٹھیکوں کے تحت کمپنیوں نے مقامی پڑھے لکھے اور ہنرمند نوجوانوں کو مختلف تکنیکی و غیر تکنیکی ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں، تاہم اب انہی ملازمین کی جانب سے اپنی کمپنی پر شدید استحصال کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔صوبہ جموں میں ریلوے سٹیشن بانہال اور ماتا ویشنو دیوی کٹراہ کے علاوہ تقریباً تمام ریلوے ٹنل، سٹیشن اور ٹریک نجی کمپنیوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں ۔ جانکار ذرائع نے بتایا کہ بانہال سے کٹراہ کے ایک سو گیارہ کلومیٹر طویل سیکشن میں کھڑی، سمبڑ، سنگلدان، بکل، ڈوگا، ساولکوٹ اور ریاسی کے ریلوے سٹیشنوں سے سٹیشن ماسٹر اور محدود شمالی ریلوے سٹاف کے علاوہ دیگر ملازمین کو ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ مرمت، تجدید اور رکھ رکھاؤ کی مکمل ذمہ داری نجی کمپنیوں کو سونپ دی گئی ہے ۔ ان پرائیوٹ کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ نہ صرف فرائض میں کوتاہی برت رہی ہیں بلکہ ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک بھی روا رکھے ہوئے ہیں۔اسی تناظر میں گیارہ کلومیٹر طویل بانہال ۔ قاضی گنڈ ریلوے ٹنل نمبر T-80کی دیکھ ریکھ اور مینٹیننس پر تعینات ملازمین گزشتہ کئی دنوں سے سراپا احتجاج ہیں۔ احتجاجی ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں کم اجرتیں دی جا رہی ہیں جبکہ ٹنل کے اندر حفاظتی انتظامات نہایت ناقص ہیں۔ ان کے مطابق ضروری حفاظتی ساز و سامان کی شدید کمی ہے اور کسی آلے یا نظام کے خراب ہونے کی صورت میں اس کے متبادل کی فراہمی میں کمپنی بلاجواز تاخیر کرتی ہے۔ملازمین نے بتایا کہ وہ گزشتہ آٹھ برسوں سے ہائی وولٹیج الیکٹریکل سسٹمز، ٹنل سافٹ ویئر اسکاڈا (SCADA)، ایچ وی اے سی، فائر سیفٹی اور ٹنل سیفٹی جیسے انتہائی حساس نظاموں کی دیکھ بھال اور آپریشن انجام دے رہے ہیں، تاہم آج تک مینٹیننس کمپنی سی ڈاکٹرس پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے انہیں نہ تو تقرر نامے جاری کیے گئے ہیں اور نہ ہی جوائننگ لیٹرز دی گئی ہیں جو لیبر قوانین میں کم سے کم اجرت کے قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔احتجاجی ملازمین کا الزام ہے کہ تنخواہیں سب کنٹریکٹر کے ذریعے ادا کی جاتی ہیں جبکہ شناختی کارڈ پرنسپل کنٹریکٹر سی ڈاکٹرس پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق آٹھ برسوں سے تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی تنخواہوں کی پرچیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ملازمین نے بانہال میں تعینات شمالی ریلوے کے سینئر سیکشن آفیسر، سی ڈاکٹرس پرائیویٹ لمیٹڈ اور اس کی سب لیٹ کمپنی وانی کنسٹریکشن پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے یہاں کام کرنے والے ملازمین کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور کہیں بھی ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔اعلیٰ حکام کو بھیجی گئی شکایت میں ملازمین نے اپنے استحصال کے ساتھ ساتھ سنگین تکنیکی بے ضابطگیوں اور مبینہ فرضی بلنگ کا بھی انکشاف کیا ہے۔ شکایت کے مطابق غیر فعال ٹرانسفارمرز، ڈی جی سیٹس اور سب اسٹیشنوں کو کاغذات میں فعال دکھا کر خزانۂ عامرہ سے رقومات وصول کی جا رہی ہیں، جبکہ اسکاڈا مانیٹرنگ، پاور پروٹیکشن سسٹمز، یو پی ایس، ریلے، ٹرانسفارمرز، جیٹ فینز اور دیگر ہنگامی نظام بڑے پیمانے پر ناکارہ ہیں۔احتجاجی ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹنل T-80کے تمام نظاموں کا ایک آزاد تکنیکی، مالی اور سیفٹی آڈٹ کرایا جائے، مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور ٹینڈروں کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں اور اپنی آواز بلند کرنے والے ملازمین کو کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی یا برخاستگی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔مینٹیننس کمپنی کی طرف سےروا رکھے گئے معاملات کی نسبت سے جب ڈویژنل ریلوے منیجر ریلوے ڈویژن جموں، وویک کمار سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ابھی تک اس حوالے سے انہیں کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم شکایت ملنے کی صورت میں کم اجرتوں اور مالی بے ضابطگیوں کے تمام الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائی گی ۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص معاملات کی شکایات کی تحقیقات میں قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔