خصوصی ڈرون یونٹس بھی تعینات
شاہنواز
ریاسی //ضلع ریاسی کی دور افتادہ سب ڈویژن مہور میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں بارہویں جماعت کا ایک طالب علم نالے میں ڈوب کر لاپتہ ہوگیا۔ واقعہ کے بعد دوسرے روز بھی ریسکیو اور سرچ آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری رہا تاہم آخری اطلاعات موصول ہونے تک طالب علم کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔سرکاری ذرائع کے مطابق بدھ کی شام گلاب گڑھ علاقے کے پاگی ہالا کے نزدیک واقع برنسال نالہ میں چند طلبہ نہا رہے تھے کہ اسی دوران ایک طالب علم پانی کے تیز بہاؤ کی زد میں آکر بہہ گیا۔ ساتھی طلبہ نے فوری طور پر شور مچایا جس کے بعد مقامی لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہوگئے اور متعلقہ حکام کو اطلاع دی گئی۔لاپتہ طالب علم کی شناخت 17 سالہ مذمل ولد گلزار احمد بالی ساکن لار، تحصیل مہور، ضلع ریاسی کے طور پر ہوئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ مذمل گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول گلاب گڑھ میں بارہویں جماعت کا طالب علم تھا اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں بھی سرگرم رہتا تھا۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایس ڈی آر ایف، مقامی پولیس، فوج اور مقامی رضاکاروں نے مشترکہ طور پر سرچ آپریشن شروع کیا۔ جمعرات کو دوسرے روز بھی مختلف ٹیمیں نالے کے کناروں، قریبی علاقوں اور پانی کے بہاؤ والے مقامات پر تلاش میں مصروف رہیں۔حکام کے مطابق فوج کی کاؤنٹر انسرجنسی فورس نے سرچ آپریشن کو مؤثر بنانے کیلئے خصوصی ڈرون یونٹس بھی تعینات کیے ہیں تاکہ دشوار گزار اور گہرے علاقوں کی نگرانی کی جا سکے۔ مقامی نوجوان بھی بڑی تعداد میں ریسکیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے تلاش میں حصہ لے رہے ہیں۔علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ برنسال نالہ میں حالیہ دنوں میں پانی کی سطح اور بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث وہاں نہانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مقامی شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے حساس مقامات پر حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور عوام خصوصاً نوجوانوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کیلئے بیدار کیا جائے۔ادھر واقعہ کے بعد پورے علاقے میں غم و اندوہ کی فضا پائی جا رہی ہے۔ مزمل کے اہل خانہ شدید صدمے میں ہیں جبکہ مقامی لوگ مسلسل دعا کر رہے ہیں کہ طالب علم کا جلد پتہ چل سکے۔ انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ جب تک طالب علم کا سراغ نہیں مل جاتا سرچ آپریشن جاری رکھا جائے گا۔حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ندی نالوں اور تیز بہاؤ والے مقامات پر نہاتے وقت انتہائی احتیاط برتیں تاکہ اس طرح کے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔