عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں و کشمیر میں روزمرہ استعمال کی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام لوگوں، خصوصاً کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ مٹن، مرغ، انڈے، پنیر اور مختلف سبزیوں کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث کئی خاندانوں کو اپنے ماہانہ گھریلو اخراجات میں تبدیلیاں لانا پڑ رہی ہیں۔بازاروں میں مٹن کئی مقامات پر 800 سے 820 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ منظور شدہ نرخ اس سے کم بتائے جاتے ہیں۔ اسی طرح مرغی کی قیمت 200 سے 210 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ 30 انڈوں کی ایک ٹرے تقریباً 220 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ پنیر بھی 300 سے 320 روپے فی کلو کے درمیان دستیاب ہے۔
صرف گوشت اور دودھ سے تیار ہونے والی اشیاء ہی نہیں بلکہ ٹماٹر، پھلیاں، شملہ مرچ، گوبھی، پیاز اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث روزمرہ کھانے کی تیاری پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہو گئی ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ خوراک کی بڑھتی قیمتیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب تعلیم، علاج اور دیگر ضروری اخراجات پہلے ہی گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ بہت سے خاندان اب گوشت اور پروٹین سے بھرپور دیگر غذاؤں کی خریداری میں کمی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔صارفین کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں ایک ہی چیز مختلف نرخوں پر فروخت کی جا رہی ہے اور بعض دکانوں پر سرکاری طور پر مقررہ قیمتوں سے زیادہ وصول کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بازاروں میں نگرانی کا مؤثر نظام نظر نہیں آتا، جس کی وجہ سے بعض تاجر من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ سرکاری محکمے باقاعدہ مارکیٹ چیکنگ مہم شروع کریں، دکانوں کے باہر منظور شدہ نرخ نامے نمایاں طور پر آویزاں کرائے جائیں اور زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عام صارفین کو مہنگائی کے مزید بوجھ سے بچایا جا سکے۔ادھر گوشت فروشوں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ مٹن کے سرکاری منظور شدہ نرخوں میں کوئی نئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق اگر کوئی دکاندار مقررہ نرخ سے زیادہ قیمت وصول کر رہا ہے تو یہ اس کا انفرادی عمل ہے، نہ کہ تنظیم کی پالیسی۔ تنظیم نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ ایسے معاملات متعلقہ حکام کے نوٹس میں لائے جائیں تاکہ مناسب کارروائی کی جا سکے۔