بلاشبہ زندگی کے تجربات انسان کو سکھاتے ہیں کہ کسی بھی مصیبت، مشکلات و آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے اُسے خود پر اعتماد اور انحصار کرنا بہت ضروری ہے۔ مشکلات کے وقت اگر وہ دوسروں پر انحصار کرتے ہیں تو اُسے مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زندگی انسان کو یہ بھی سمجھاتی ہے کہ اپنی قوتوں اور صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ خود اعتمادی اور خود انحصاری زندگی کے وہ اسباق ہیں، جو یہ سکھاتے ہیں کہ مشکلات میں بھی انسان اپنا حوصلہ اور عزم برقرار رکھیں،جبکہ خود اعتمادی ہی انسان کو اپنے فیصلے خود کرنے اور اپنی راہیں خود تلاش کرنے کا حوصلہ فراہم کرتی ہے۔
چنانچہ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں،اُس میں جہاں ایک طرف سیاسی اور سماجی حالات ہمارے حق میں سازگار نہیں تو دوسری طرف معاشی افق پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔بغور دیکھا جائے تو رواں سال کی صورت حال بھی یہاں کے عوام بالخصوص متوسط اور غریب طبقے کے لیے سخت آزمائش لے کر آیا ہے۔ حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرول اور خوردنی اشیاء کی قلت اور بیروزگاری کے سائے دن بہ دن گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ایسے نازک وقت میں ہمارے مسلم معاشرے میں پھیلی ہوئی ’نمائش،دکھاوا اور فضول خرچی‘ نہایت افسوسناک اور شریعتِ مطہرہ کے خلاف ہے۔
شادیوں، دعوتوں اور تہواروں کے نام پر لاکھوں روپے محض دکھاوے اور اسراف میں اُڑا دئیے جاتے ہیں۔موجودہ اس بحرانی دور میں ہماری یہ رسمیں اور فضول خرچیاں اصل دین کے اصولوں سے ہٹ کر شادی کو مصیبت میں بدل دیتی ہیں اور اس سے معاشرت میں غیر ضروری خلفشار اور خانہ بربادی کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اگر والدین، نوجوان اور خاندان اسلامی اصولوں کی روشنی میں، سادگی، توکل اور دین کی ترجیح دیتے ہوئے نکاح کریں تو نہ صرف یہ عمل آسان اور بابرکت ہو جائے گا بلکہ گھروں میں محبت، سکون اور استحکام قائم ہوگا۔ معاشرت میں اخلاقی و سماجی مسائل کم ہوں گے اور شادی ایک عبادت کے طور پر انجام پائے گی اور مالی بوجھ نہ ہونے کے برابر ہوگا۔ آج کے زمانے میں نکاح کی مشکلات دراصل ہمارے فضول رسومات، دنیاوی دکھاوے، دولت کی ہوس اور سنت سے ہٹ کر طرز عمل اختیار کرنے کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں اور اگر ہم ان رکاوٹوں کو ترک کر کے سنت کے مطابق عمل کریں تو شادی نہ صرف آسان بلکہ برکت اور سکون کا ذریعہ بن سکتی ہے ۔
حالانکہ ہمارے دین نے بھی ہم پر واضح کردیا ہے کہ بہترین شادی وہ ہے، جس میں بوجھ کم ہو اور سادگی زیادہ ہو،لیکن عملاً ایسا کرنے پر کوئی نظر ہی نہیں آرہا ہے،جبکہ اسرائیل،امریکہ۔ ایران جنگ اور نازک جنگ بندی کے باعث دنیا بھرکے بیشتر ممالک ،جن میںہندوستان بھی شامل ہے،میںپیدا شدہ حالات سے عوام الناس اقتصادی و معاشی طور پر بُری طرح متاثر ہورہا ہےاور ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے دن مزید سخت ہوسکتےہیں،نیز غلہ اور خوراک کی قلت کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا ہمارے لئے لازم ہے کہ فضولیات سے اجتناب کریں،قناعت اختیار کریں،شادیوں میں سادگی لائیں،اسراف سے پرہیز اور پُرتعیش طرزِ زندگی کو ترک کریں ،ضرورت سے زیادہ پکوانوں اور شاہانہ لباس پر پیسہ ضائع کرنے کے بجائے سنتِ نبویؐ کے مطابق طرزِ عمل اختیار کریں۔
یاد رکھیں! آج کی گئی بچت کل آپ کے بچوں کی تعلیم اور فاقہ کشی سے بچنے کے کام آئے گی۔ ہمارے ارد گرد ایسے بے شمار بھائی بہن ہیں جو سرکاری راشن پر گزارہ کر رہے ہیں۔ صاحبِ ثروت طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی فضول خرچی کو روک کر وہ پیسہ غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کی مدد پر خرچ کریں۔ ہماری نمائش اور فضول خرچی دوسروں کو حسد اور تنقید کا بھی موقع فراہم کر دیتی ہے۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ اپنی معیشت کو مضبوط کریں تاکہ ہم کسی کے محتاج نہ رہیں۔ معاشی تنگی اور سماجی دباؤ اللہ کی طرف سے تنبیہ بھی ہو سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں،یہی وقت کا بھی تقاضا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی عادات نہ بدلیں تو کل کی معاشی تباہی ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔