مہاجرپنڈتوں کی مشکلات کاازالہ| آن لائن پورٹل شروع

سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے منگل کو کشمیری مائیگرنٹوں کی غیر منقولہ جائیدادوں سے متعلق شکایات کے ازالے کے لئے ایک آن لائن پورٹل کا آغاز کیا۔کشمیری مائیگرنٹ اَپنی شکایات پیش کرنے کے لئے -http://jkmigrantrelief.nic.inیا http://kashmirmigrantsip.jk.gov.inپر لاگ اِن کرسکتے ہیں۔ریونیو اَتھارٹیز پورٹل پر دائرکردہ درخواست کو پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ 2011کے تحت ایک مقررہ وقت کے اَندر درخواست دہندگان کو اِطلاع دے کر نمٹادے گی۔مجاز اَتھارٹی ( ڈپٹی کمشنر ) مائیگرنٹوں کی جائیدادوں کا سروے اورفیلڈ ویر ی فکیشن کرے گی اور تمام رجسٹر 15 دِن کے اَندر اَپ ڈیٹ کر کے صوبائی کمشنر کشمیر کو تعمیل رِپورٹ پیش کرے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ اقدام ہندوئوں ، سکھوں او رمسلمانوں سمیت ان مائیگرنٹوں کی حالت زار کا خاتمہ کرے گا جو 1990 ء کی دہائی سے مصائب کا شکا ر ہیں۔لیفٹیننٹ گور نر نے کہا کہ میں نے گزشتہ 13مہینوں میں مختلف مذاہب کے متعدد وفود سے ملاقات کی اور اُنہوں نے مائیگرنٹوں کی واپسی کی وضاحتاًو صریحتاً حمایت کی۔
اُنہوں نے کہا ،’’ ماضی کی غلطیوں کو اصلاح کرنا حال کی ذمہ داری ہے ۔ ایک روشن مستقبل کی بنیاد ڈالتے ہوئے یہ وقت پرانے زخموں کو بھرنے کا بھی ہے ۔ میں تمام شہریوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اِس کوشش میں اِنتظامیہ کا ساتھ دے کر بھائی چارے کی ایک نئی مثال قائم کریں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ سابق وزیر اعظم اَٹل بہاری واجپائی جی اور وزیر اعظم نریندر مودی جی کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے ہم جموںوکشمیر میں سماجی مساوات اور ہم آہنگی کے لئے جامع اور تعمیری پروگراموں کو عملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ اقدامات حکومت کے بہتر حکمرانی کے طریقوں کا نتیجہ ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ ہم قانون کی حکمرانی کو قائم کرنے اور ایک مثالی ہم آہنگ معاشرہ بنانے کی خاطر کام کر رہے ہیں جو کہ کشمیریت کے حقیقی جوہر کی عکاسی کرتا ہے۔نامساعد حالات کے دوران وادی سے تقریباً 60,000کنبوں نے نقل مکانی کی جن میں سے 44,000مائیگرنٹ کنبے ریلیف آرگنائزیشن جے اینڈ کے میں رجسٹرڈ ہیں جبکہ باقی کنبوں نے دیگر ریاستوں اوریوٹی علاقوں میں منتقل ہونے کا اِنتخاب کیا اورمائیگرنٹوں کو اَپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کو چھوڑنا پڑا۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہاکہ 44,000 مائیگرنٹ کنبوں میں سے 40,142ہندو کنبے ، 2,684 مسلم کنبے اور 1,730سکھ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’ پورٹل کی آزمائشی مدت کے دوران ہمیں 854 شکایات موصول ہوئی ہیں ۔اِس سے صاف عیاں ہے کہ مائیگرنٹ کنبوں کی ایک بڑی تعداد اِنصاف کے منتظر تھے اور اَب شکایات کو وقت کی پابندی سے نہ صرف لوگوں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ میرایقین ہے کہ ہزاروں کنبوں کو اِنصاف ملنے کے ساتھ ساتھ اَپنا وَقار دوبارہ حاصل ہوگا۔
یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ 1989-1990 میں جموں و کشمیر میں جنگجویت کے آغاز کے ساتھ ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ان کے آبائی علاقوں بالخصوص صوبہ کشمیرسے نقل مکانی کرنا پڑی۔ کشمیر ی پنڈتوں کے ساتھ ساتھ سکھوں اور مسلمانوں کے کنبوں کی بھی بڑی تعداد نے بھی نقل مکانی کی۔ حالات میں ان مائیگرنٹوںکی غیر منقولہ جائیدادیں یا تو تجاوز کر گئی ہیں یا پھر وہ اپنی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنے پر مجبور تھے۔اِس مسئلے کو حل کرنے کے لئے 2 جون 1997 کو ایک ایکٹ یعنی ’’ جموں وکشمیر مائیگرنٹ غیر منقولہ جائیداد (پریشانی کی فروخت پر تحفظ اور روکتھام)ایکٹ 1997 نافذ کیا گیا۔اِس ایکٹ کے تحت متعلقہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو مائیگرنٹوں کی جائیدادوں کا کسٹوڈین مقرر کیا گیا ہے۔ایکٹ میں کچھ پابندیاں کی گئی ہیں تاکہ پریشانی کی فروخت ، غیر منقولہ جائیداد کی تحویل ، غیر مجاز مکینوں کی بے دخلی ، مجاز اتھارٹی کی عمل آوری وغیرہ کو روکا جاسکے۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ 2018-19 ء سے لے کر 2020-21ء ( جولائی ) تک ریلیف او ربحالی کمشنر کے دفتر کو تقریباً113شکایات موصول ہوئیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے نقل مکانی کرنے والوں کی شکایات کا ازالہ کرنے اور جائیدادیں ان کے جائز مالکان کو واپس کرنے کے لئے محکمہ کی جانب سے مزید کارروائی کی ہدایت دی۔اِس کے بعد ایک نوٹیفکیشن ایس او  275  بتاریخ 13.08.2021 جاری کیا گیا جس کے تحت زرعی اصلاحات ایکٹ 1976 کے تحت کمشنر کے اختیارات ڈپٹی کمشنروں کو دیئے گئے ہیں۔ اے آر اے 1976 کے تحت بالخصوص منظور شدہ مقصد کے لئے اعلیٰ سطح کی اَفسران کی شمولیت سے مطلوبہ قوت اور توجہ کی توقع ہے۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر مائیگرنٹ غیر منقولہ جائیداد کے سیکشن 10 کے تحت ہدایات جاری کی گئی ہیں جو کہ مائیگرنٹوں کی غیر منقولہ جائیداد کے تحفظ کے لئے گورنمنٹ آڈر نمبر53-JK-(Rev)  آف 2021 کا بتاریخ  13.08.2021جاری کئے گئے ہیں۔ ریکارڈ کی اصلاح،حد بندی اور تجاوزات کے خاتمے،دھوکہ دہی یا پریشانی کی فروخت وغیرہ کے ذریعے شکایات وصول کرنے کی خاطر آن لائن پورٹل شروع کرنے کے لئے ہدایات دی گئیں۔ ہدایات میں وضاحتاً کہا گیا ہے کہ ایکٹ کی کسی بھی خلاف ورزی بشمول مذہبی املاک ، مجاز اتھارٹی کی جانب سے ایسی جائیدادوں کو خالی کرنے ، حراست میں لینے اور بحالی کے لئے بروقت کارروائی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ریونیو اَفسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایسے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹائیں ۔اِس موقعہ پرپرنسپل سیکرٹری ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور ڈی ایم آر آر آر ڈیپارٹمنٹ شالین کابرانے آن لائن پورٹل کے بارے میں ایک مختصر جائزہ پیش کیا۔لیفٹیننٹ گورنر کے صلاح کار بصیر احمد خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا ، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری نتیشور کمار ، اِنتظامی سیکرٹری ، صوبائی کمشنران ، ضلع ترقیاتی کمشنران اور سینئر اَفسران نے پورٹل کے آغاز میں ذاتی طورپر اور بذریعہ ورچیول موڈ سول سیکرٹریٹ میں شرکت کی۔