منجاکوٹ //ڈاک بنگلہ منجاکوٹ میں کانگریس کا ماہانہ اجلاس منعقد ہواجس کی صدارت سابق وزیر و پارٹی کے ریاستی جنرل سیکریٹری شبیراحمد خان نے کی ۔اجلاس میں منجاکوٹ کے علاوہ تھنہ منڈی اور دیگر علاقوں سے بھی کارکنان نے شرکت کی ۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے شبیر احمد خان نے کہاکہ موجودہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور تمام پروجیکٹ ٹھپ پڑے ہوئے ہیں جو سابق دور حکومت میں شروع کئے گئے تھے ۔انہوںنے کہاکہ ترقیاتی سطح پر اس حکومت کہیں کوئی وجود ہی نہیں ،سڑکوں کی حالت انتہائی خستہ ہے ، ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کیلئے نہ ڈاکٹر ہیں اور نہ ہی ادویات دستیاب ہیںاور اسی طرح سے پانی اور بجلی کی سپلائی بھی غیر اطمینان بخش ہے ۔انہوں نے کہا کہ سابق سرکار کے دور میں 17کالجوں کے قیام کیلئے بل پاس کیاگیاجس میں منجاکوٹ کالج سرفہرست تھامگر موجودہ سرکار نے منجاکوٹ کے سرحدی علاقہ کے لوگوں کی اس دیرینہ مانگ کو پورا نہیں کیا ۔انہوں نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے دورۂ راجوری کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ راجوری میں ایم ایل اے اور ایم ایل سی کی لڑائی کے باعث لوگ پس رہے ہیں،امید تھی کہ وزیر اعلیٰ منی سیکریٹریٹ سمیت کئی معاملات پرکوئی فیصلہ لیںگی لیکن انہوںنے لوگوں کو اسی حالت میں چھوڑ دیا جس میں مقامی ممبران قانون سازیہ نے انہیں رکھاہواہے ۔شبیر خان نے کہاکہ منی سکریٹریٹ اور بچوں کے ہسپتال سمیت سڑکوں و دیگر بڑے پروجیکٹوں کے کام سابق دور حکومت میں شروع کئے گئے جو آج ٹھپ پڑے ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ ممبراسمبلی راجوری ان پروجیکٹوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بجائے لوگوں کے مکانات گرانے میں مصروف ہیں اور چند روز قبل بیلہ کالونی راجوری میں انتظامیہ نے حکومت کے اشاروں پر کئی غریب لوگوں کے مکان کو مسمار کردیاجس کے نتیجہ میں کئی کنبے کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیںجو ان کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے موجودہ حکومت اور راجوری انتظامیہ سے اپیل کی کہ ان لوگوں کے رہنے کے لئے متبادل انتظام کیاجائے اور اور ان کو سال بھر کیلئے مفت راشن فراہم کیاجائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر منجاکوٹ میں حکومت نے کالج کی منظوری نہ دی توبڑے پیمانے پراحتجاج کیاجائے گا۔اس موقعہ پرمولانا گلزار نے کہا کہ ڈاک بنگلہ منجاکوٹ میں سلینڈر تک موجود نہیںاور نہ ہی بیٹھنے کے لئے کرسیاں ہیں۔اجلاس میںفاروق خان،سابق سرپنچ لطیف خان،اسحق خان،محمد مجید،حاجی معروف وغیرہ بھی موجو دتھے ۔