دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہندوستان کی سیاست اس وقت جس ڈگر پر جاتی ہوئی نظر آ رہی ہے،اُس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے موجودہ سیاستدانوں نے اُن مقاصد اور آرزوؤں اور تمناؤں کو یکلخت فراموش کر دیا ہے۔جن مقاصد کے تحت سامراجی طاقتوں سے ملک کو آزاد کرنے کے لئےملکی متوالوںاور جیالوں نے اپنی عزیز جانوں کی قربانیاں پیش کی تھیں۔ اِس وقت ملک کے سیاسی منظر نامے میں جو تُوتُو میں میں سیاستدانوں کے درمیان چھائی ہوئی ہے، اس سے یہی اندازہ ہوتاہے کہ ہر شخص متنازعہ اور حسّاس موضوعات کو چھیڑ کر سیاسی افق پر اپنی پوزیشن کو نمایاں کرنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی گاندھی کا قد گھٹانے کی باتیںکررہا ہے تو کوئی ملک کی آزادی کو بھیک کا نام دے رہا ہے۔ایک اداکارہ یہ کہتے ہوئے شرم تک محسوس نہیں کرتی کہ ہندوستان کو 1947میں جو آزادی ملی،وہ بھیک میں ملی تھی اور حقیقی آزادی 2014میں ملی ہے۔ اسے اداکارہ کی ناعلمی، حواس باختگی اور پاگل پن کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ لاکھوں مجاہدین آزادی کی توہین کرنے والے اس بیان پراداکارہ کی کوئی گرفت نہیں ہورہی ہے۔ دوسری طرف کانگریس کے رہنماء سلمان خورشید کی طرف سے ہندتوا کا موزانہ داعش اور بوکو حرام سے کردینے پر شدت پسند وں نے کہرام مچایااور سلمان خورشید کی رہائش گاہ کو آگ کی نذر کردیا اور انہیں اپنا دفاع کرنے کا بھی موقعہ تک نہیں دیا۔ کوئی سیاست دان محمد علی جناح کے حوالے سے مسلمانوں کو رجھانے کی کوشش میں لگا ہے تو کوئی چندر گپت موریہ کو عہدِ قدیم کا عظیم حکمران ثابت کرکے اکثریتی عوام کے ووٹ بٹورنا چاہتا ہے۔ یہ عجیب و غریب سیاست اس وقت ملک میں چل رہی ہے۔ کیا واقعی ان مسائل کو چھیڑنے سے عام ہندوستانیوں کی زندگی میں رونق آ جائے گی۔ 130کروڑ آبادی رکھنے والا ملک اس وقت سنگین مسائل سے دوچاردکھائی دے رہا ہے۔ عام آدمی دو وقت کے کھانے کا محتاج ہوگیا ہے۔ آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی نے ملک کی ایک بڑی آ بادی کو فقر و فاقہ کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔ لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل نہیں ہورہی ہے۔ حکو مت کے سارے فلاحی وعدے بکھر تے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ملک کا کوئی طبقہ اطمینان اور چین کی سانس نہیں لے رہا ہے۔ ایسے میں ان موضوعات کو ہَوا دینا صاف ظاہر کرتا ہے کہ سیاستدانوں کو اب عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ۔ ہر طرف سےاپنی گدّی بچانے یا دوبارہ راج سنگھاسن سجانے کے لئے ملک میں منافرت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔ کیایہ سب کچھ ایک منصوبہ کے تحت ہورہا ہےیا پھر اس کے پیچھے کوتاہ اندیشی کارفرما ہے۔ اس سنسنی خیزی کو پھیلانے کا مقصد کہیں یہی تو نہیں کہ سماج کو مذہب کے نام پر تقسیم کر کے اپنے سیاسی مفادات پورے کئے جائیںاور اسی لئے حق کو چھپاکر جھوٹ کو اس انداز میں عام کیا جائے کہ آنے والی نسلیں جھوٹ کو ہی سچ مان لیں ۔ پدم شری ایوارڈ لینے والی اداکارہ نے تو جدوجہدِ آزادی کی پوری تاریخ کا یہ کہتے ہوئے مذاق اُڑادیا کہ اصل آزادی تو 2014میں ملی۔ کیا اُس کی باز پُرس نہیں ہونی چاہئے۔ ہمارے عظیم مجاہدین آزادی کی کھلے عام اہانت کرنے والے کیا ملک کے بہی خواہ کہلائے جا سکتے ہیں ۔کیوں موجودہ حکومت ان کے خلاف کاروائی نہیں کرتی؟۔
ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ ساری صورت ِ حال اتر پردیش میں دوبارہ بی جے پی حکومت بنانے کے لئے پیداجارہی ہے۔ جیسے جیسے الیکشن کا وقت قریب آتا جائے گا ایسے موضوعات کو چھیڑا جائے گا تا کہ عوام کی توجہ حقیقی مسائل کی طرف سے ہٹ جائے۔ یوپی کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے الیکشن سے پہلے کئی بلند بانگ دعوے کئے تھے لیکن گزشتہ چار سال کے دوران انہوں نے ریاست کو جس مقام پر پہنچا دیا ہے، اُسے ملک کی عوام کھلی آ نکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ سارے ترقیاتی کام ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ پوری ریاست منافرت کی آگ میں جھلستی رہی۔ حال ہی میں ایک اور 21سالہ نوجوان پولیس کی بربریت سے اپنی جان گنوا بیٹھا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ الطاف نے خودکشی کرلی جب کہ سارے ثبوت اور شواہد بتا رہے ہیں یوپی پولیس نے اسےزیر حراست موت کے گھاٹ اُ تار دیا ہےاور اس کے والد چاند پاشاہ کو رشوت دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یوگی آدتیہ جی کے دور میں ریاست کے مسلمانوں پر جو اُ فتاد آئی، اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ وقفہ وقفہ سے مسلمانوں کو مشقِ ستم بنایا جا رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق جب سے یوپی میں یوگی جی کی حکومت آئی ہے ریاست میں قانون کی حکمرانی کا تصور مسخ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ غنڈوں اور شرپسندوں کا راج تاج چل رہا ہے۔ اس پر طرفہ تماشا یہ کہ وزیراعظم نریندرمودی جی کوئی نوٹس نہیں لے رہے ہیں۔ ریاست میں جس قدر لاقانونیت بڑھ رہی ہے۔اُسی قدر مسلمانوں کے ساتھ دلتوں کی زندگی بھی اجیرن ہوتی جارہی ہے۔ دلت لڑکیوں کی عصمت ریزی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس کا ثبوت ہیں۔ اجتماعی عصمت ریزی اور قتل میں ملوث درندوں کے خلاف کوئی ٹھوس کاروائی نہیں ہوتی ہے۔ کوویڈ۔ ۱۹ کے دوران یوپی میں جو حالات دگرگوں ہو گئے، اُسے بھی لوگ فراموش نہیں کرپارہے ہیں۔ گورکھپور کے بچوں کے اسپتال میں کئی شیرخوار بچوں کی جانیں چلی گئیں۔ وہاں پر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کفیل نے انتظامیہ سے شکایت کی، نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹر کفیل سرکاری خدمات سے معطل کر دئے گئے۔ بعد میں ان کی ایک تقریر کو بنیاد بناکر اُن پر ملک سے غداری کا مقدمہ دائر کردیا گیا۔ عدالتِ عالیہ سے باعزت بری کے باوجود حال میں ہی میں انہیںسرکاری ملازمت سے ہی برطرف کر دیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق یوپی کی سیاسی فضاء اس وقت بی جے پی کے لئے سازگار نہیںدکھائی دے رہی ہے۔ زیادہ ترعوامی طبقے سرکار سے مطمئن نہیں ہے۔ کسان گزشتہ ایک سال سے سٹرکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ تا دم تحریران سے موجودہ مرکزی سرکار کے قائدین کو کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ بلکہ کسانوں کو وزیروں کے بیٹے اپنی گاڑیوں سے روندتے ہوئے فخر محسوس کر رہے ہیں۔گویا اب منافرت کا ہی سہارا بی جے پی کی بیساکھی بن کر رہ گیا ہے۔ اسی لئے ما حول کو گرما یا جا رہا ہے تاکہ پارٹی کے حق میں ووٹروں کے لئے راہ ہموار ہو سکے۔ عوامی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ یوگی آ دتیہ ناتھ کے لئے آئندہ سال ہونے والے یوپی اسمبلی کے انتخابات ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اس لئے ہر ایسے مسئلہ کو چھیڑا جا سکتا ہے، جس سے بی جے پی کی جھولی میں ووٹوں کا اضافہ ہو جائے۔ لو جہاد، گھر واپسی، زبردستی تبدیلی مذہب کا ہّوا ، اور ہندو احیاء پرستوں کو مجاہدین آزادی کا درجہ دینے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ یوگی شہروں کے نام بدلنے میں بھی شہرت رکھتے ہیں۔ الہ آباد، بنارس،کے علاوہ اور بھی کئی شہروں کے نام بدل دئے گئے ہیں۔ الیکشن سے پہلے اور بھی نام تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔ ان سب کے پیچھے واحد مقصدآنے والے اسمبلی الیکشن میں دوبارہ کامیابی حاصل کرنا ہے۔ مبینہ طور اترپردیش میں حالات کو دھما کہ خیز بناکر اسمبلی انتخابات میں کا میابی حا صل کرنا ہے تاکہ دو سال بعد ہونے والے لوک سبھا الیکشن میں بھی اپنی جیت کو یقینی بنانے کا مقصد پورا ہوسکے۔ اسی لئے یوپی میں مسلمانوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کردیا جا رہا ہے۔ حالات کی ہولناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اتر پردیش میں صرف چار دنوں کے اندر چار انتہائی بہیمانہ واقعات منظر عام پر آئے۔ ہر واقعہ اتنا دلخراش ہے کہ اسے بیان کرتے ہوئے دل خون کے آ نسو روتا ہے۔ اسی مہینے کی 9؍ تاریخ کو کاس گنج پولیس اسٹیشن میں 21سالہ نوجوان الطاف کا پولیس حراست میں بیدردی سے قتل ہوجاتا ہے۔ اسے پولیس خودکشی کا ڈرامہ بناکر پیش کرتی ہے۔ تادمِ تحریر پولیس اپنے جرم کو قبول کرنے تیار نہیں ہے۔ جب کہ افراد خاندان اور انصاف پسند شہریوں کا ماننا ہے کہ پولیس نے الطاف کا قتل کیا ہے۔ دوسرا واقعہ ڈاکٹر کفیل کا ہے جنہیں 10؍ نومبر کو ان کی سرکاری خدمات سے بر طرف کردیا گیا ہے۔ بغیر کسی جرم کے ایک بے گناہ کے ساتھ یوپی حکومت کا یہ جارحانہ رویہ کھلی فرقہ پرستی کو ظاہر کرتا ہے۔ تیسرا معا ملہ 11؍ نومبر کو پیش آ تا ہے۔ غازی آ باد کے لونی علاقہ میں مویشیوں کی اسمگلنگ کے الزام میں پولیس 7مسلم نوجوانوں کے پیر وںمیں گولی مار دیتی ہے۔پولیس کی اس کاروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغیر پوچھ تاچھ کے مسلمانوں پر فائرنگ کرنے کا لائسنس پولیس کو حکومت نے دے رکھا ہے۔ 12؍ نومبر کو آگرہ میں ایک خاتون کی خودکشی کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر مسلمانوں کے گھروں پر پتھراؤ کیا جاتا ہے اورفائرنگ بھی ہوتی ہے، پولیس خاموش تماشائی بن کر شرپسندوں کا ساتھ دیتی ہے اور پھر مسلمانوں کو بیجا مقدمات میں پھنسایا بھی جاتا ہے۔ ان چاروں واقعات میں یوپی حکومت کی مسلمانوں کے تئیں پالیسی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر ماحول کو کشیدہ بناتے جارہے ہیں ،نفرت پھیلانے والے نہیں جانتے کہ اس صورت ِ حال سے ملک کا کافی نقصان ہورہا ہے اور یہ منافرت کسی دن پورے ملک کو جھلس کر رکھ سکتی ہے۔ریاستی عوام حکومت سے بد ظن ہو چکی ہے، وہ حکومت کو بدلنے کی خواہش مند ہوگئی ہے ۔ حالات کے اس تناظر میں کانگریس کا یہ فیصلہ بھی ناعاقبت اندیش ثابت ہوگا کہ وہ یوپی میں کسی سیکولر پارٹی سے اتحاد کئے بغیر انتخابات میں حصہ لے گی۔ کانگریس کا اس وقت جو بُرا حال ہے وہ سب پر عیاں ہے ۔ کئی ریاستیں اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہیں۔ یوپی میں اس کی کوئی سیاسی ساکھ باقی نہیں رہی۔ ایسے میں کانگریس کا تنہا حکمرانی کا خواب اس کے لئے محض ایک سراب ثابت ہوگا۔ اتر پردیش میں فرقہ پرستی کی سیاست کو ختم کرنے کے لئے لازمی ہے کہ ساری سیکولر پارٹیاں متحد ہوں تب ہی اس جِن کو شیشہ میں بند کیا جاسکتا ہے۔ اگر سماجوادی پارٹی، بھوجن سماج پارٹی اور کانگریس وقت اور حالات کی نزاکت کو سمجھے بغیر اپنی اپنی ڈفلی بجاتے رہیں گے تو بی جے پی پھر ایک مرتبہ یوپی کی عوام پر مسلط ہوجائے گی۔ اس کا اثر 2024کے عام انتخابات پر بھی پڑے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جمہوری قدروں پر یقین رکھنے والی ساری طاقتیں فرقہ پرستی کی عفریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں۔ وہ سارے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ جنون کا سدّباب کریں۔ اسی میں ملک کا مفاد اور سیکولر پارٹیوں کی بقاء ممکن ہے۔
رابطہ ۔9885210770