مولانا مرحوم مہرالدین قمر راجوروی پر یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے۔ اس مردحُر کا جنم جس قوم اور خطہ میں ہوا، افسوس وہاں کسی نے اُن کی قد، قدر و قیمت اور شخصیت کو نہیں پہچانا۔ پورے خطۂ پیر پنچال کے لوگوں کی یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ اُنہوں نے کبھی بھی اپنے خطہ کی تاریخ، یہاں کی اہم شخصیات اور اُن کے سنہرے کارناموں کو محفوظ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کسی قوم اور خطہ کی پہچان اُس کی اہم شخصیات، اُن کی ملی خدمات اور تاریخی کارناموں سے ہوتی ہے جو اس قوم کا ورثہ ہوتا ہے اور جن سے آنے والی نسلوں کو زندگی کے رہنما خطوط فراہم ہوتے ہیں۔جو قوم اپنے بزرگوں کی خدمات، عملی و تحریکی ورثے کا تحفظ نہ کر سکے وہ کچھ وقفے کے بعد کار زارِ حیات کے منظر نامے سے حرف غلط کی طرح ہمیشہ کے لئے مٹ جاتی ہے۔
ڈوگرہ عہدکے راجوری کی تاریخ ادھوری رہے گی اگر اس میں راجوری کے اس عظیم حریت پسند، شعلہ بیاں مقرر، آتش نوا شاعر اور عالم ِدین کا تذکرہ نہ آئے جسے خطہ پیرپنچال اور حد متارکہ کے آر پار لوگ مولانا مہر الدین قمرؔ راجوروی کے نام سے جانتے پہچانتے ہیں۔ا ُن کی انقلابی شاعری، آتش بیانی، جرأت و بے باکی اور راہِ حق میں صبر و استقامت نے ۹۳۰ء اور ۱۹۴۰ء میں خطۂ زیر بحث میں ڈوگرہ اقتدار کی چولیں ہلا کر رکھ دیں تھیں۔ مولانا مہرالدین قمر راجوروی کی ایک خود نوشت تحریر جو انہوں نے ۳۱؍ مئی ۱۹۵۲ء کو نواں شہر ایبٹ آباد سے ہفت روزہ ’’پرواز‘‘ گوجرانوالا کے ایڈیٹر جناب عارف صاحب کی فرمائش پر خصوصی کشمیر نمبر کے لئے تحریر کی تھی، کے مطابق اُن کی پیدائش ۱۹؍ جولائی ۱۹۰۱ء کو راجوری اوجھان کے موہڑہ مرگاں میں ہوئی تھی ۔ یہ گاؤں راجوری شہر سے شمال مشرق کی جانب پانچ میل کے فاصلے پر ایک بلند و خوبصورت گرجن نامی سر سبز و شاداب پہاڑی کے دامن میں واقع ہے ۔ اُس زمانے میں یہ شاہ بلوط کے گھنے جنگلات اور انواع و اقسام کے قدرتی مناظر سے مالامال تھا، گرجن پہاڑی کے ارد گرد کا یہ سارا ڈھلوان خوبصورت پہاڑی علاقہ مولانا مہرالدین قمر ؔکے خاندان کی ملکیت تھا جو صدیوں سے اس پہاڑی پر آباد چلا آ رہا تھا۔اس کی بلندی سے خطۂ پیرپنچال کے راجوری کا یہ سارا خطہ حدودِ ریاسی و پونچھ تک پیر پنچال کی برفانی دروں کے دامن میں ایسا دکھائی دیتا جیسے ماں کی گود میں سویا ہوا خوبصورت بچہ۔ مرگ یا مرگاں مقامی بولیوں میں چرا گاہ یا بلند خوبصورت قدرتی مناظر سے مالامال سرسبز و شاداب جگہ کے لئے بولاجاتا ہے۔ چنانچہ قدیم الایام سے یہ سارا ڈھلوان علاقہ مولانا مہرالدین قمر راجوروی کے خاندان کی چرا گاہ کے طور پر استعمال ہوتا آیا ہے اور اُن کی رہائش اس کے دامن اوجھان کے میدانی علاقے میں ہوتی تھی۔ مرگاں کا یہ علاقہ گوجروں کی روایت کے مطابق بلند خوبصورت اور پر فضا و گھاس چارے کی وافر مقدار کے باعث مولانا مہرالدین قمر ؔراجوروی کی اوانہ برادری کی مستقل رہائش گاہ بن گیا اور یہیں انہوں نے نسلاً بعد نسل ٍبو دوباش کرنا شروع کر دیا۔ مولانا مہرالدین قمرؔ کے والد کا نام چودھری جعفر علی اوانہ تھا جو اپنی برادری میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ مولانا نے اپنے والد کی ہدایت پر اس خطے کے عظیم داعیٔ دین اورر مصلح مولانا محمد عثمان ترالوی کی درسگاہ واقع سانو کوٹ میں داخلہ لے کر مدارس عربیہ کے رائج نصاب کے مطابق قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم جلالین شریف تک حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے استاذ مولانا عثمان مرحوم کی ہدایت پر لاہور چلے گئے جہاں انہوں نے مدرسہ جامعہ اشرفیہ میں داخلہ لے کر اپنی بقیہ تعلیم مکمل کی اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے منشی فاضل کی ڈگری بھی حاصل کی۔ مولانا قمرؔ راجوروی ایک نہایت ذہین سریع الحس اور حساس و متحرک قسم کے آدمی تھے اور شہر لاہور اُن دنوں متحدہ ہندوستان میں علم و ادب اور سیاست و صحافت کا گہوارہ تھا، اس لئے قمرؔ راجوروی کو یہاں علم و ادب کی عظیم ہستیوں سے ملنے اور استفادے کا موقع ملا۔ا ن میں علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خان، آغا شورش کاشمیری، منشی محمد الدین فوق ، مفسر قرآن مولانا احمد علی لاہوری اور علامہ تاجور نجیب آبادی جیسی آفتاب علم و ادب کی شخصیات شامل تھیں۔ بیسویں صدی کے اوائل کا یہ وہ دور تھا جس میں ایک طرف بر صغیر میں انگریزی سامراج کے خلاف تحریک آزادی منظم ہو چکی تھی ، دوسری طرف شمالی ہندوستان میں انگریزوں کی خفیہ تحریک پر آریہ سماجی تحریک بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہی تھی۔اس کا مقصد مسلمانوں کو شدھی (مرتد) کرنا تھا۔ چنانچہ راجوری کے اس ہونہار اور ذہین نوجوان و شعلہ بیان مقرر نے پہلے انجمن خدام الصوفیہ اور بعد میں جمیعت علمائے ہند کے ساتھ منسلک ہو کر بحیثیت مبلغ اسلام سارے شمالی ہندوستان میں گھوم پھر کر اسلام کی تبلیغ اور آریہ سماجی گمراہ کن پروپگنڈے کی تردید اور اپنی حاضر جوابی اور علمی قابلیت کی بنا پر ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ارتداد کی اس بڑھتی ہوئی تحریک کو روکنے میں دیگر علماء کے ساتھ اہم رول ادا کیا، چنانچہ ۱۹۴۰ء کے عشرے میں جموں کی ایک نوجوان خاتون شانتا بھارتی کے ذریعے سرکاری سرپرستی میں جب یہ تحریک راجوری وارد ہوئی اور بڑے بڑے جلسے کر کے اس نے اسلام کے خلاف زبردست زہرافشانی شروع کر دی تو اس وقت اس کا توڑ کرنے کے لئے چودھری دیوان علی اور مرزا احمد حسین ذیلدار اور حاجی نوران شاہ کی تحریک پر پنجاب سے مولانا لال حسین چترویدی کو منگوایا گیا تو مولانا قمر راجوروی نے ان کے ہمراہ اس خطے میں فتنۂ ارتداد کی اس تحریک کا بڑھ چڑھ کر مقابلہ کیا جس کی وجہ سے یہ اسلام دشمن تحریک اس علاقے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
مولانا راجوروی حضرت میاں عبیداللہ لاروی کے مرید خاص اور حضرت میاں نظام الدین لاروی کے معتمد و سیاسی مشیر اوراس خاندان کے سخت معتقد اور ایک راسخ العقیدہ عالم دین ہونے کے علاوہ انتہائی ذہین حاضر جواب، شعلہ بیان مقرر، پنجابی و گوجری کے آتش نوا شاعر ، پختہ کار سیاسی لیڈر، حریت پسند، غیور قومی خدمت گار دانشور ، راجوری خطہ میں دوگرہ سامراج مقامی ظالم ذیلداروں، جاگیرداروں اور سود خور بنیوں اور مہاجنوں کے زبردست نقاد اور غریب پرور تھے، جملہ بازی، حاضر جوابی، لطیفہ گوئی، مباحثے، شعلہ بیانی اور جرأت و بے باکی و حق گوئی میں اس عہدے میں خطۂ پیر پنچال میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ اپنی مسلم قوم کی جہالت و زبوں حالی اور اس خطہ کے سود خور مہاجنوں اور جاگیرداروں کے ہاتھوں ان کے استحصال کے خلاف وہ ایک ننگی تلوار تھے، انہوں نے اس خطہ کے مظلوم مسلمانوں کو ظلم و جبر اور استحصال و بیگار کے خلاف منظم کرنے، انہیں سہارا دینے اور بیدار کرنے میں اہم رول ادا کیا، انہوں نے ڈوگرہ سامراج اور مقامی استحصالی عناصر سمیت تمام غاصب قوتوں کو بیک وقت للکارا، جلسے جلوس اور قراردادیں پاس کر کے پنجاب کے اخبارات کو بھیجیں، کتابچے اور نظمیں لکھ لکھ کر بڑے پیمانے پر ان کی تشہیر کی اور راجوری سے باہر پنجاب کے مسلمانوں و مسلم زعماء کو اس خطے کے حالات و واقعات سے باخبر کیا۔ راجوری کے زمیندار اور سود خور مہاجن ان کی اس دور کی ایک اہم تاریخی و دستاویزی کتاب ہے جس میں انہوں نے اس زمانے میں راجوری خطہ میں رائج سودی نظام کے متعلق چونکا دینے والے حقائق و واقعات کو منظر عام پر لایا ہے۔ اس کتاب کے ذریعے اس زمانے کی اس علاقے میں رائج سودی نظام، جبر و بیگار اور عوامی زندگی کے حالات و واقعات او رخد و خال کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے، اس سودی نظام کے باعث یہاں کا غیر زراعت پیشہ مہاجن، بنیا ایک لاکھ اسی ہزار کنال بہترین رقبہ) زرعی اراضی کا مالک جب کہ اوّل درجہ زراعت پیشہ مسلمان قبائل ان کے غلام و کاشت کار بن گئے تھے اور ان کی حالت اس زمانے میں جانوروں سے بھی بدتر تھی۔
مولانا مہرالدین قمر راجوروی، راجوری میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اساسی ممبر و اہم لیڈر تھے ،اگر چہ وہ کچھ عرصہ کے لئے گوجر جاٹ کانفرنس کے ساتھ بھی وابستہ رہے اور راجوری خطہ میں اس کے بڑے بڑے اجلاس کرانے میں اہم رول رہا لیکن وہ بنیادی اور نظریاتی طور پر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ساتھ وابستہ اور دو قومی نظریہ کے زبردست پیروکار تھے۔ راجوری میں بھی اور راجوری سے مہاجرت کے بعد اُس پار جا کر بھی اپنے دیگر ہم عصروں مولانا محمد اسمٰعیل ذبیح اور مولانا عبدالعزیز راجوروی کے ساتھ اسی تنظیم کے ساتھ وابستہ رہ کر کشمیر کاز کے لئے سرگرم عمل رہے، سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ اپنی شاعری اور نثری صلاحیتوں کو بھی کشمیر کاز کی خاطر زندگی کی آخری سانسوں تک وقف کئے رکھا۔ ۱۹۳۳ء کے بعد ریاست میں تنظیم سازی اور تحریر و تقریر کی پابندی اٹھنے اور سیاسی سرگرمیوں کے احیاء کے بعد مولانا قمرؔ راجوروی نے اس خطہ کی سیاست اور ڈوگرہ شاہی کے خلاف اٹھنے والی تحریک میں چودھری دیوان علی، مرزا محمد حسین ، حکیم منصو علی ، چودھری محمدسلطان فتحپوری، چودھری سخی محمد اوانہ، چودھری نعمت اللہ ملک درہالوی اور اپنے دیگر ہم عصر رفقاء کے ساتھ اہم رول ادا کیا۔وہ ایک فصیح و بلیغ شعلہ بیان مقرر بھی تھے۔مرحوم چودھری غلام عباس اور شیخ عبدالعزیز علائی کہا کرتے تھے کہ ڈوگرہ سامراج کے خلاف اور آزادی کی تحریک کو راجوری خطہ میں عوامی مقبولیت عطا کرنے میں قمرؔ راجوروی کی شاعری اور شعلہ بیانی نے اہم اور انقلابی رُخ عطا کر دیا تھا، مظلوموں، دبے پسے طبقوں کی ہمدردی اور حریت پسندی ان کے رگ و ریشے میں خون کی طرح دوڑتی تھی۔ اکتوبر اور نومبر ۱۹۴۷ء میں راجوری کے محاذِ جنگ پر تحریک آزادی کو منظم کرنے او راجوری خطہ کو ڈوگرہ سامراج کے تسلط سے آزاد کرانے میں ان کا کلیدی رول تھا۔ اُس دور کی تاریخ میں ان کا شمار راجوری کے اہم زعماء میں ہوتا ہے۔ وہ ۱۴؍ نومبر ۴۷ء سے ۱۲؍ اپریل ۴۸ ء تک مرزا محمد حسین ذیلدار کی قیادت میں قائم ہونے والی راجوری کی انقلابی وار کائونسل میں سپلائی آفیسر بھی رہے ۔اس دوران اُنہوں نے مرزا فقیر محمد راجوروی ایڈووکیٹ نرسنگھداس اور کرشن کمار گپتا اور دیگر زعماء کے ساتھ اس منصب پر اہم خدمات انجام دیں اور گردھن پناہ گزیں کیمپ میں راجوری کی ہندو برادری کو ضروریات زندگی فراہم کرنے کے علاوہ سرفروش قافلوں کو بدھل اور مہور وغیرہ کے علاقوں کو فتح کرنے میں بھی پورا تعاون اور سامانِ حرب و ضرب فراہم کرتے رہے۔ ان کے اسی سرگرم رول کے باعث’’ آزاد حکومت ‘‘کی انتظامیہ اور اس کے عسکری آفیسروں نے انہیں توصیفی اسناد سے نوازا تھا جب کہ دوسری جانب انڈین آرمی نے ان کا مکان اور مکان میں موجود قیمتی کتب خانہ نذرِ آتش کر دیا۔مولانا قمر ؔ ۱۳؍ نومبر ۱۹۴۸ء کو سقوط راجوری کے بعد بہ امر مجبوری کنٹرول لائن کے اُس پار ہجرت کرنے کے بعد نواں شہر ایبٹ آباد میں قیام پذیر ہو گئے تھے اور اسی سرزمین پر انہوں نے زندگی کی آخری سانس لی۔ البتہ ان کے خاندان کے کوئی پچاس کے قریب لوگوں کو انڈین آرمی اور راشٹریہ سیوک سنگ (RSS) کے آدمیوں نے نہایت بے دردی کے ساتھابدی نیند سلا دیا تھا ،جن میں ان کے حقیقی چاچے چودھری غلام محمد اوانہ، چودھری عطا محمد اوانہ، چودھری صلاح محمد اوانہ کو ریاسی کے نواح موضع بغلی میں موت کے گھاٹ اُتار کر اُن کے دھڑ گردنوں سے جدا کر کے ان کی پیشانیوں پر لکھ دیا تھا کہ انہیں ہم نے پاکستان بھیج دیا ہے، جب کہ ان کے قریبی رشتہ داروں میں سخی محمد اوانہ، غلام دین اوانہ، محمد دین اوانہ، دین محمد اوانہ، چودھری لعل دین اور چودھری فتح محمد اوانہ وغیرہ راجوری کے مختلف محازوں پر اسلام اور آزادی کی خاطر لڑتے ہوئے جاں بحق ہو گئے ، ان کے بھتیجے چودھری میر حسین کو کیمری گلی نڈیاں اور برادرِ نسبتی چودھری فتح محمد گورسی کو تھنہ منڈی علاقے میں پیٹرول ڈال کر آگ لگا دی تھی، اس طرح اس خاندان نے اسلام اور آزادی کے نام پر قربانیوں کا قیمتی نذرانہ پیش کیا۔
مولانا مہرالدین قمر ؔراجوروی کو اپنے چھوٹے ہوئے وطن عزیز راجوری،اس کے باشندوں، گلی کوچوں، شہروں، دیہاتوں، پیرپنچال کے خوبصورت برفانی پہاڑوں، شنگروںو ڈھوکوں، و بہکوں اور ندی نالوں و سبزہ زاروں سے کتنی محبت تھی اس کا اندازہ ان کی گوجری و پنجابی کی ہجریہ و فراقیہ شاعری سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے اپنے وطن کے قریہ قریہ اور چپہ چپہ کا تذکرہ خونی آنسوئوں کے ساتھ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی کہ جب بھی ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا تصفیہ ہو اور خونی لکیر کنٹرول لائن کے آرپار آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو تو میری باقیات کو قبر سے نکال کر میری جائے پیدائش راجوری کی گرجن پہاڑی کے دامن میں لے جا کر دفن کرنا، تاکہ میری روح کو وطن کی مٹی کے لمس سے سکون دستیاب ہوتا رہے ؎
جلدی لے چل وطناں اندر ہجراں جان ستائی
مینوں یاد وطن دے باہجو گھڑی نہ گزرے کائی
نال آزادی، نال خیریت وطنیں لے چل مینوں
رحم کرم دے مالک مولیٰ سب توفیقاں تینوں
راجوری سے مہاجرت کے بعد کنٹرول لائن کے اُس پار جا کر وہ ساری زندگی اپنے چھوٹے ہوئے وطن کے در و دیوار اور اہلِ وطن کے لئے ماہی بے آب کی طرح تڑپتے، بلکتے اور اپنی گوجری و پنجابی شاعری کے ذریعے خود بھی خونِ جگر کے آنسو روتے اور اہل وطن کو بھی رُلاتے رہے، وہ گوجری اور پنجابی دونوں زبانوں کے قادرالکلام شاعر و نثر نگار تھے، اس کے علاوہ اُردو زبان و نثر پر بھی انہیں عبور حاصل تھا، اُردو زبان میں وہ چھوٹی بڑی کل ۱۳؍ کتابوں کے مصنف ہیں، اپنی اردو نثر میں کمال مہارت کے ساتھ عربی و فارسی کے جملے و اشعار موزوں کرنے میں انہیں خصوصی ملکہ تھا، قدرت نے انہیں اپنی گوجری و پنجابی شاعری میں منظر کشی، تجزیہ نگاری اور ہجر و فراق کے درد کے اظہار کی بے پناہ صلاحیت و سلیقہ عطا فرمایا تھا جس میں حوادث و انقلاباتِ زمانہ، اپنے وطن و پیاروں کی جدائی و فراق کے تلخ تجربے نے ان کے شاعرانہ خیال آرائی کو ایک نئی پرواز اور وسعت عطا کر دی تھی۔وہ اپنی ایک پنجابی نظم میں وطن کی ہوا کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تو میرے لئے کستوری سے بھی افضل ہے، تو میری قاصد بن کرجا اور وطن کے احوال آ کر مجھے بتا کہ میرے وطن کے لوگ کس حال میں رہتے ہیں، ان کی صبح و شام اور لیل و نہار کیسی گزرتی ہیں اور میرے وطن کے شہری و دیہاتی گرمی و سردی اورموسم خزاں میں کس طرح کی زندگی بسر کرتے ہیں ؎
اے وطن دی واء پیاری تو واہنگوں کستوری
جھلیں آن بدلیاں اندر بن کر جلوہ نوری
وطناں دے احوال سنا کجھ بن کر قاصد میرا
کس حالت وِچ وطن میرے دا اجکل شام سویرا
جذبہ شوق محبت والا دِل وِچ لیکر جانویں
خیر خریت وطناں والی مینوں آن سنانویں
کس حالت وِچ وطناں والے سارے لوگ عوامی
کس حالت وِچ مال منالوں کیسا دور غلامی
کس حالت وِچ بھائی میرے دوست سنگی ساتھی
شہراں والے کس حالت وِچ نالے لوگ دیہاتی
سردی گرمی موسم کیسے روڑے تے برساتاں
گلشن باغ بہار پھلاں دی اور فروٹ سوغاتاں
ایبٹ آباد اندر خوش لوکی باغ لگاندے رہندے
اسیں فراق تیرے وِچ بیٹھے کاگ اُڈاندے رہندے
خوشیاں موجاں اندر لوکی عیش مناندے رہندے
اسیں فراق تیرے وِچ بیٹھے خون سکاندے رہندے
کنڈ کراں جے وطن تیرے وَل ہے بے ادبی بھاری
کر کے منہ تیرے وطناں وَل ہتھ گھماندے رہندے
یاد تیری بن پلک نہ گزرے کدے نہ دِلوں بھلانواں
واہنگ وظیفے نام تیرے دا درد کماندے رہندے
یاراں تے دِلداراں اگے نال محبت بھاری
قصے محفل پاک تیری دے اسیں سناندے رہندے
(مضمون نگار چیئرمین الہدیٰ ایجوکیشنل ٹرسٹ راجوری ہیں)
رابطہ نمبر:ـ 9419267231