مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری۔۔۔۔ قسط 2

مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری 1919سے لے کر1947تک کشمیر سے کنیا کماری تک ہر بستی ہر شہرمیں صداقت کے لئے چیختے چلاتے، روتے ہنستے، بولتے  گرجتے رہے۔ شایدہی کوئی شہر ہو جس کی فضائوں میں بخاری کی تقریریںایک پوشیدہ آہنی قوت بن کر جاگزیں نہ ہو ئیں۔ 1947کے بعد بھی خطہ پاکستان میں بھی ان کایہی انقلابی طر زعمل جاری و ساری رہا۔ زمانے کے گردوغبار میںبرصغیر کے لوگ اب بخاری کو بھول بھی جائیں لیکن ایک وقت آئے گا جب گجرات، ملتان، دہلی، علی گڑھ، بنگال، لاہور، امرتسر کی جیلیں اس بطل جلیل کی یادگار یں بنیںگی۔ آج اگرچہ تاج محل آر ٹ کاایک نشان اور ہندوستان کی عظمت کا ایک باوقار نمومہ ہے لیکن وقت مجبور کرے گا کہ امرتسر اور ملتان میں مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کے مکانات کو یاد گارِحریت کے طور محفوظ کر دیا جائے۔
 مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا جسد خاکی ملتان میں سات دہائی قبل منوں مٹی کے نیچے دفن ہے۔ تقریر و خطابت کے اس شہنشاہ کی موت سے ایک تاریخ ختم ہوگئی ، ایک عہد گزرگیا، ایک دور مختتم ہوا ، ایک چمن سُوناہوا، ایک بہار لُٹ گئی ، جرأت و شجاعت اور صدق و صفا کا گلشن خزاں آلودہ ہوا، خلوص و دیانت پر افسردگی چھاگئی ، اب کبھی شاہ نظر نہیں آتے ،ان کی شعلہ بار تقریریں خاموش ہیں لیکن جب بھی انقلاب کے بادل گرجیںگے ، بجلی چمکے گی اور موسلا دھار بارش ہوگی، سماج میں طوفان اور سیلاب آئے گا، جب کبھی صبحِ نو طلوع ہوگی ، جب پھول کھلیںگے اور کلیاںمسکرائیںگی، جب کوئی حق گوئی کے جرم کی پاداش میںقید وبند کی صعوبتیں سہے گا ، اُ س وقت ہم سب کوسیدعطاء اللہ شاہ بخاری ضرور یادآئیںگے۔ سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی  71سالہ مجاہدانہ زندگی، اُن کے  خلوص ود یانت، اُن کی شعلہ بیانی، اُن کی حسین جوانی، ان کی پُر وقار عمر رسیدگی ، ان کے لاکھوں عقیدت مندوںکی طر ف سے لاکھوں سلام!نئی نسل کو سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی شخصیت سے واقف کروا کر ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دینا اشد ضروری ہے۔رئیس الاحرار، بطل حریت، امیر شریعت، سیدعطاء اللہ شاہ بخاری جنہیںقریبی ساتھی شاہ جی کہہ کر پکارتے تھے ، کی  یک قلمی تصویر ان کے قریب ترین سیاسی شاگرد آغاشورشؔ کاشمیری نے کھینچی ہے: ’’شاہ جی کے چہرے مہرے سے عنان خیال معاً ان یونانی فلسفیوں کی طرف سے مڑ جاتی ہے جن کے فکر ونظر کی بہت سی راہیں صدیوں کی شب کاری کے باوجود روشن چلی آتی ہے اور جن کے تصویری پیرہن اُن شہ دماغوں کی یاد دلاتے ہیںجن کی صورتوں سے ایک ساحرانہ اور شکوہ کااظہار ہوتاہے۔ شاہ جی قرون وسطیٰ کے ان حکماء، فقہاء، خطباء اور علماء سے مشابہ تھے جو طلوع تاریخ سے پہلے یونان وروما اور طلوع تاریخ کے بعد بغداد اور دہلی میں پائے جاتے تھے‘‘۔اسے اتفاق ہی کہئے کہ بعض اونچی شخصیتیں آپس میں یک گونہ مماثلت ضرور رکھتی ہیں مثلاً فیتا غورث ، کارل مارکس، رابندر ناتھ ٹیگوراور شاہ جی میںفکر ونظر ، عقیدہ وایمان اور علم وعمل کی کوئی راہ بھی مشترک نہ تھی لیکن ایسا کچھ بانکپن ضرو ر تھا کہ ان کا چہرہ مہرہ ایک جیساساتھا۔ بہر حال یہ ایک شاعرانہ خیال ہے۔ ان بڑوں کی زندگی ایک خاص طرز رکھتی ہے،جس سانچے میںبھی ڈھلیں ہمیشہ اُبھرے ہوئے ملیںگے۔ یہ کسی کے نقش ِپا نہیں ڈھونڈتے بلکہ لوگ اُن کے نقش ِپا کی تلاش کرتے ہیں۔شاہ جی کی زندگی جس نہج پر استوار ہوئی،اُس میں ادب اور سیاست کا ایک رومانی امتزاج تھا۔ ظاہر ہے کہ رومانی زندگی کھلی کتاب ہوتی ہے۔ اس میں سرے سے اوق عبارتیں ہوتی ہی نہیں، ایسا شخص جذبات پر جیتا اور جذبات پر مرتاہے۔ اس میںاحساس کی شدت اور استغنا ء کی شراکت تاحد کمال ہے۔  اس کی ذات ہی اس کاپیمانہ ہے، وہ گردو پیش سے متاثر ہوتاہے اور چاہتاہے کہ گرد وپیش ا س سے متاثر ہو۔ اس کی روح میں وقت عروج پرہوتی ہے جب عام چہروں پر اپنا ہی عکس دیکھتاہے   ؎
 چراغ است دریں خانہ کہ راز پر توآں
ہرکجا نے ٹکری، انجمن ، ساختہ رند!
سیدعطاء اللہ شاہ بخاری راسخ الاعتقاد عالم اسلام تھے لیکن شکم پرست علماء کی طرح وہ نہ تو سرمایہ داری کے لئے جو از پیدا کرتے اور نہ ہی بڑے زمین داروں کے حق میںتھے۔ فرماتے کہ ’’الخلق للہ والا رض للہ‘‘ زمین خدا کی ہے اور جو لوگ اس پر ہل جوتتے ہیں ، وہی اس کے حق دار ہیں۔ لوٹ کھسوٹ کرنے والے عناصر کے وہ ہمیشہ خلاف رہے، وہ راسخ العقیدہ ہونے کے باوجود تمام فرقوں کے اتحاد واتفاق کے علمبردار تھے۔و ہ ہمیشہ ’’لاتفسدو فی الارض‘‘ کی آیات کریمہ ورد زبان کرتے تھے۔ جس کسی نظامِ معیشت سے استحصال پیدا یا اُسے تقویت ملے ہو، وہ اس کے سخت خلاف تھے۔ انہیں خونی انقلاب برپا کرنے میںبھی کوئی عار نہ تھا۔ کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کی ایک خاص کھیپ سے اُن کے دوستانہ تعلقات تھے۔ جب ہندوستان غیر منقسم تھا، اس وقت ان کے نیاز مندوں میںبڑے بڑے کمیونسٹ اور سوشلسٹ (ہندو اور مسلمان) شامل تھے۔ اُن کی بڑی جمعیت کو ہمیشہ آپ سے لگائو رہا۔ سبھی آپ کا احترام کرتے تھے لیکن وہ انہیں اپنا ہم خیال نہ بناسکے اور یہ بھی انہیں قائل نہ کرسکے، پھر بھی دونوں کے درمیان جذباتی رشتہ رہا۔ ان میںسے اکثر آپ کے صحبت یافتہ تھے۔ مثلاً فیض احمد فیضؔ نے خود اقرارکیا کہ وہ اسلامی تعلیمات کے سلسلہ میں بخاری صاحب کے ہی شاگرد ہیں، اس کے علاوہ کئی لوگ نظریاتی اختلاف کے باوجود ’’خطابت‘‘ میں اُن ہی کے خوشتہ چین تھے۔ مشہور کمیونسٹ لیڈر ڈاکٹر محمد اشرف نے شاہ جی سے ایک بارکہاتھا کہ آپ لوگوں پر ایسا جادوکرتے ہیں کہ ان کے سوچنے کی قوتیں مائوف ہوجاتی ہیں۔شاہ جی مرد میدان تھے۔ وہ آج کل کے سیاست دانوں کی طرح بوقت پسپائی اپنی ذمہ داریوں سے دست کش نہیں ہو جاتے تھے بلکہ دوسروں کی ذمہ داریوں کابوجھ بھی اُٹھا لیتے تھے۔ مثلاً 1954میںبام پر پہنچی ہوئی’’ تحریک ختم ِنبوت‘‘ ماند پڑگئی اور جسٹس منیر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد تحریک کے کئی مبلغین اپنی ذمہ داریوں سے کنی کترانے لگے تو شاہ جی نے لاہور کے مجمع عام میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’’ جو لوگ تحریک ختم ِنبوت میںجہاں تہاں شہید ہوئے،اُن کے خون کاجواب دہ میںہوں ۔ وہ عشق رسالت مآب ؐمیںمارے گئے۔ اللہ تعالیٰ کو گواہ  بنا کر کہتاہوں کہ ان میںجذبہ ٔشہادت میں نے پھونکاتھا۔ جو لوگ اُن کے خون سے دامن بچاناچاہتے ہیں اور ہمارے ساتھ رہ کر اب کنی کترارہے ہیں، میں اُن سے کہتاہوں کہ حشر کے دن بھی میں اُس خون کا ذمہ دار ہوں گا اور اگر ان دانش وران، بے دین یا دیندار انِ بے عشق کے نزدیک اُن کا جان دینا غلطی تھا، تو اس غلطی کا ذمہ دار بھی میںہی ہوں‘‘۔
زندگی کے آخری ایام میں موصوف کافی مایوس وبد دل تھے ، کہاکرتے تھے کہ 1919ء میں جو سفر شروع کیا تھا، اُس سفر کے کئی مسافر بچھڑ گئے،کئی بکھر گئے، کئی راستہ بدل گئے، کچھ پیچھے لوٹ گئے، ہر پڑائو پرقافلہ گھٹتا ہی گیا ۔ وہ عام طورپر یہ شعر گنگناتے رہتے تھے    ؎
منزلِ عشق پہ تنہا پہنچے، کوئی تمنا ساتھ نہ تھی
تھک تھک کر اس راہ میںآخر اِک اِک ساتھی چھوٹ گیا
وہ کہاکرتے تھے :’’ اس سارے سفر کا ماحصل یہ ہے کہ برسوںتک لگاتار لوگوں کو اعلائے کلمتہ الحق کا درس سنایا، پہاڑوںکو سناتا تو عجب نہ تھا کہ ان کی سنگینی سے دل چھوٹ جاتے، غاروں سے ہم کلام ہوتا تو وہ جھوم اُٹھتے ، چٹانوں کو جھنجوڑتاتو چلنے لگتیں، سمندروں سے مخاطب ہوتا تو ہمیشہ کے لئے طوفان بہ کنار ہوجاتے، درختوں کو پکارتا تو وہ دوڑنے لگتے،کنکروں سے مخاطب ہوتا تو لبیک کہہ اُٹھتے،صر صر سے گویا ہوتا وہ صبا ہوجاتی، دھرتی کو سناتا تو اس کے سینے میں بڑے بڑے شگاف پڑ جاتے، جنگل لہرانے لگتے، صحرا سرسبز ہوجاتے۔ افسوس میںنے ان لوگوں میں سے مصروفیات کابیج دیا جن کی زمینیں ہمیشہ کے لئے بنجر ہوچکی تھیں، جن کے ضمیر قتل ہوچکے تھے اور جن کے ہاں دل ودماغ کا قحط تھا، جن کی پستیاں انتہائی خطرناک تھیں، جو برف کی طرح ٹھنڈے تھے، ج میںٹھہرنا المناک او ر جن سے گزرنا طرب ناک تھا، جن کے سب سے بڑے معبود کانام طاقت تھا،جو معبود کی پوجا کرتے تھے، جہاں امرا ء دوزخ کے کتے اور سیاس دان کھٹی قے ہیں، اُن کے ساتھ نٹ اور اُن کے پیچھے لاشیں چلتی ہیں،اُن کی واحد نیکی یہ ہے کہ ہرنیکی اوربرائی کی زبان میں جھوٹ بول لیتے ہیں‘‘۔
 تاہم پر عزم باہمت شوریدہ سر، پرخلوص سیاسی کارکنوں کے لئے شاہ جی کی زندگی بے شک تیرتھ نہ تھی لیکن اُس کی یاترا سے ایسے تیرتھ کااحساس ضروری ہوتاتھا جس میںصدیوں سے ایک ہی آواز گونج رہی ہے    ؎
 تیز رکھنا سر ہر خار کو اے دشتِ جنون
شاید آجائے کوئی آبلہ پا میرے بعد
میرؔنذر بخاری
٭٭٭
مر جائیںگے ظالم کی حمایت نہ کریںگے
 احرار کبھی ترک روایت نہ کریںگے
 کیا کچھ نہ ملاہے جو کبھی تجھ سے ملے تھے
اب تیرے نہ ملنے کی شکایت نہ کریںگے
شب بیت گئی ہے تو گزر جائے گا دن بھی
ہرلخط جوگزری وہ حکایت نہ کریںگے
یہ فقر دل ِ زار کا عوضانہ بہت ہے
 شاہی نہیں مانگیںگے ، ولایت نہ کریںگے
ہم شیخ، نہ لیڈر، نہ مصائب ، نہ صحافی
جو خود نہیںکرتے وہ ہدایت نہ کریںگے 
فیض احمد فیضؔ
(ختم شد)