موسم سرما کے دوران جسم میں توانائی کی سطح اور میٹابولز م میں مختلف تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ اگران تبدیلیوں پر دھیان نہ دیا جائے تو نزلہ، زکام، کھانسی، سردرد اور بخار جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ جیسے جیسے سردی کی شدّت میں اضافہ ہو،آپ اپنی خوراک میں گرم اور صحت بخش غذائوں کو شامل کرلیں کیونکہ یہ سردی کی بیماریوں کے خلاف مزاحمت کا کام کرتی ہیں۔ آئیے چند مخصوص غذائوں کے بارے میں جانتے ہیں جو سردی میں آپ کے لیے راحت کا باعث بنیں گی۔
جڑ والی سبزیاں
زمین کے اندر اگنے والی سبزیاں جڑ والی ہوتی ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ جڑوں کی شکل میں اگنے والی سبزیاں اینٹی آکسیڈنٹس اور معدنیات سے بھرپور ہوتی ہیں۔ ادرک، آلو، چقندر ، شلجم ، اروی، مولی ، گاجر ، شکر قندی وغیرہ ہمارے لیے انتہائی فائدہ مند ہیں اور موسم سرما کی وجہ سے پیدا ہونے والے امراض سے ہمیں محفوظ رکھتی ہیں۔ طبی ماہرین انہیں ’غذائیت کا پاو ر ہائوس‘ بھی قرار دیتے ہیں۔
یہ سبزیاں انسانی جسم کو نمایاں مقدار میں توانائی فراہم کرتی ہیں۔ ان میں ایسے ریشے پائے جاتے ہیں جو خون میں جا کر شکر کی مقدار کو گھٹاتے ہیں۔ یہ سبزیاں، گوشت کے متواتر استعمال سے خراب کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جانے کا تدارک بھی کرتی ہیں۔ گاجر بیٹاکیروٹین اور شلجم وٹامن اے اور سی کا خزانہ مانے جاتے ہیں۔ گاجر امراض قلب اور سرطان جیسی موذی بیمار یوں سے محفوظ اور ہمین جوان رکھنے میں مدد کرتی ہے۔ آلو ہمارے جسم کو روزانہ درکار وٹامن کا 31فیصد فراہم کرتے ہیں۔
سمندری غذائیں
سردیاں آئیں اور سی فوڈ (سمندری غذائیں) نہ کھایا جائے، یہ ناممکن سی بات ہے۔ سردیوں میں سمندری غذائیں کھانے کے بے شمار فوائد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین موسم سرما میں اس کے بھرپور استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔ سمندری غذائوں میں سب سے زیادہ مچھلی کھائی جاتی ہے، جس میں وافر مقدار میں سیلینیم پایا جاتا ہے۔
سیلینیم، مدافعتی نظام کو مضبوط کرکے موسم سرما کے دوران نزلہ زکام سے محفوظ رہنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی میں موجود فاسفورس دماغ کی نشوونما بہتر بناتا ہے۔ مچھلی میں موجود وٹامن اے اور ڈی ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔ٹونا اور سالمن (مچھلیوں کی اقسام) کو موسم سرما کی بہترین غذائوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دونوں غذائیں وٹامن ڈی کا اہم ذریعہ تسلیم کی جاتی ہیں۔
سمندری غذائوں میں دوسری اہم غذاجھینگا قرار دی جاتی ہے۔ جھینگا، جگر کی بیماریوں کے خاتمے کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے۔ امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ جھینگے کا گوشت Schistosomiasisنامی بیماری کا پھیلائوروک کرجگر کی خرابی، مثانے کا کینسراور متعدد دماغی بیماریوں کا راستہ روک دیتا ہے۔
خشک میوہ جات
ٹھنڈے موسم میں جسم کو گرمائش دینے کے لیے روز مرہ کی غذا میں خشک اور گری دار میووں کا استعمال بہت فائدہ دیتاہے۔ پکے ہوئے اخروٹوں کی گری جاڑوں میں ہونے والی کھانسی میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے، اس کے استعمال سے دماغ کو بھی طاقت ملتی ہے۔ خشک میوے فائبر سے بھر پور ہوتے ہیں اور ا ن کو کھانے کے بعد زیادہ دیر تک بھوک نہیں لگتی ، اس لئے یہ وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ان سے ہاضمہ بھی بہتر ہوتاہے اور جسم کی فالتو چکنائی کو بھی کنٹرول کرتیہیں۔
سوپ
سردی شروع ہوتے ہی جگہ جگہ سوپ کی چھوٹی بڑی دکانیں نظر آنے لگتی ہیں۔ حفظان صحت کے اصولوں کوپیش نظر رکھتے ہوئے جو سوپ تیار کیا جائے وہ ایک سرد رات کا مزہ دوبالاکردیتا ہے۔ موسم سرما کے دوران یہ انسان کو صحت مند رکھنے کا ذریعہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ سردی کی سوغات سمجھی جانے والی یہ غذا نہ صرف جسم کو گرم رکھتی ہے بلکہ زود ہضم بھی ہے۔
برطانوی یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق سوپ کا استعمال نظام تنفس میں ہونے والے انفیکشن کی روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ آپ بھی چکن یخنی یا سبزیوں سے تیار کیا گیا سوپ پئیں۔ انٹرنیٹ پر بھی سوپ کی بہت سی اقسام موجود ہیں جو کہ صحت بخش اور فائدے مند غذائوں کی مدد سے تیار کیے جاتے ہیں۔
جَو کا دلیا
جَو کے دلیے کو ناشتے میں لی جانے والی بہترین غذائوں میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس میں ایسے غذائی اجزاء شامل ہوتے ہیں جو موسم سرما کے لیے ضروری تصور کیے جاتے ہیں۔ جَو کے دلیے میں وافر مقدار میں زنک (انسانی قوت مدافعت کا ضروری جزو) اور حل شدہ فائبر (قلبی صحت کا ضامن) موجود ہوتے ہیں۔
فائبر قلبی صحت کے ساتھ ساتھ انسانی جسم کا صحت مند وزن برقرار رکھنے اور ذیابطیس کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جو میں کافی مقدار میںنیاسن(niacin)ہوتاہے جو دل کی بیماریوں کو روکنے میں مدد کرتاہے۔ سردیوں میں خشک جِلد کا مطلب اس میں خارش اور انفیکشن کا امکان ہوسکتاہے۔ اس سے بچنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ جَوکے دلیے کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے تاکہ اس کے اندر موجود غذائیت، وٹامنز اور دیگر اجزاء سے جِلد کو پہنچنے والے نقصانات سے محفو ظ رہا جاسکے۔
رس دار پھل
سردیوں کی سوغات میں کینو، موسمی اور چکوترے شامل ہیں، سردیوں کے تقریبا تمام رس دار پھلوں میں وٹامن سی کی وافر مقدار ہوتی ہے جو کھانسی اور زکام کی شدت کم کرنے میں خصوصی مدد کرتی ہے۔بہتے ناک اور مسلسل کھانسی سے نجات کیلئے فوری طور پر وٹامن سی کا استعمال کرنا چاہیے۔
شہد
سردیوں میں خالص شہد کا استعمال آپ کو نزلہ، زکام اور کھانسی سے تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ بہت سے دوسرے فائدے بھی پہنچاتا ہے۔ البتہ ایک سال سے کم عمر بچوں کو شہد استعمال نہیں کروانا چاہئے کیونکہ اس میں شامل بعض اجزاء ان کیلئے تکلیف کا باعث بن سکتے ہیں۔
سیلینیم والی غذائیں ۔سیلینیم وہ عنصر ہے، جو ہمارے امیون سسٹم کو مضبوط بناتا ہے جبکہ مناسب مقدار میں اس کا روزانہ استعمال ایسے مادّوں کی مقدار بڑھاتا ہے، جو زکام کے وائرس کو ہمارے جسم سے نکال باہر کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ باداموں میں سیلینیم کی وافر مقدار ہوتی ہے۔
سی فوڈز مثلاً لابسٹر، کیکڑوں، ٹیونا اور کاڈفش، سیلینیم کے معاملے میں بھرپور ہوتے ہیں، اگر آپ روزانہ مچھلی اپنی غذا میں شامل کرلیں تو وہ سیلینیم کی ضروری مقدار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے دوسرے اضافی غذائی اجزاء سے بھی آپ کو فائدہ پہنچائے گی۔
وٹامن ڈی اور سردیاں
پھلوں، سبزیوں کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی قدرتی چیزیں ہیں جن میں وٹامن ڈی پایا جاتا ہے۔ آپ چاہیں تو ان سے بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ذیل میں ایسی ہی کچھ چیزوں کی فہرست دی جارہی ہے جو آپ کے لیے وٹامن ڈی کی فراہمی کا بہترین ذریعہ ہیں۔سامن اور ٹونا مچھلی، اورنج جوس، مٹر کی چٹنی، دودھ، مکھن، پنیر، بیف، انڈے کی زردی کو وٹامن ڈی کے حصول کے لیے سردیوں کے موسم میں خوب استعمال کریں۔