عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کشمیر میں اٹلی اور بلغاریہ سے درآمد کی گئی چیری کی نئی اقسام باغ مالکان کے لئے منافع بخش ثابت ہو رہی ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ان اقسام کو مقامی منڈیوں میں بہتر قیمت مل رہی ہے جبکہ یہ روایتی چیری کے مقابلے میں خراب موسمی حالات کو بھی زیادہ برداشت کرتی ہیں۔وادی کی روایتی چیری اقسام ابھی مکمل طور پر بازاروں میں نہیں پہنچی ہیں، تاہم جلد تیار ہونے والی درآمد شدہ اقسام نے خاص طور پر پلوامہ اور شوپیان اضلاع میں باغ مالکان کو اچھی آمدنی دینا شروع کر دی ہے۔کاشتکاروں کے مطابق اس وقت درآمد شدہ چیری مقامی منڈیوں میں 200 سے 300 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے، جس سے کئی برسوں سے موسمی نقصان اور غیر یقینی قیمتوں کا سامنا کرنے والے باغبانوں کو کچھ راحت ملی ہے۔
پلوامہ کے ایک گیلاس کاشتکار آکاش احمد نے کہا کہ اگرچہ اس سال مجموعی پیداوار معمول سے کم ہے، لیکن مارکیٹ میں نرخ کافی حوصلہ افزا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درآمد شدہ اقسام اور روایتی سیاح چیری دونوں اچھی قیمت حاصل کر رہی ہیں اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کسان کم پیداوار سے ہونے والے نقصان کی کسی حد تک تلافی کر سکیں گے۔شوپیان کے باغبان عاشق احمد نے کہا کہ درآمد شدہ چیری کی مرحلہ وار تیاری کسانوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے کیونکہ اس سے مارکیٹ میں ایک ساتھ زیادہ سپلائی نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ روایتی اقسام مختصر عرصے میں ایک ساتھ پک جاتی ہیں جس کی وجہ سے کسانوں کو جلد فروخت کرنا پڑتا ہے، جبکہ نئی اقسام مختلف مراحل میں تیار ہوتی ہیں اور مسلسل سپلائی برقرار رہتی ہے، جس سے قیمتیں مستحکم رہتی ہیں۔کشمیر ویلی فروٹ گروورز اینڈ ڈیلرز یونین کے صدر بشیر احمد بشیر نے کہا کہ اس سال پیداوار میں تقریباً 50 فیصد کمی کے باوجود مارکیٹ کا ردعمل مثبت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیزن کے دوران قیمتیں اسی طرح برقرار رہیں تو باغبان کم پیداوار سے ہونے والے نقصان کی تلافی کر سکیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ روایتی اقسام جیسے مخملی، سیاح، اول نمبر، جاڑی، ہالینڈ، ڈبل، مشری، اسپلیندر اور اسٹیلا آئندہ چند ہفتوں میں بازاروں میں دستیاب ہوں گی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں سالانہ ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن سے زائد چیری پیدا ہوتی ہے، جس کے باعث یہ خطہ ملک کا سب سے بڑا چیری پیدا کرنے والا علاقہ مانا جاتا ہے۔ یونین ٹریٹری میں اس وقت تقریباً 2300 ہیکٹر اراضی پر چیری کی کاشت کی جا رہی ہے جبکہ شوپیان، سری نگر اور گاندربل بڑے پیداواری اضلاع میں شامل ہیں۔