اننت ناگ //جنوبی ضلع کے ڈورو شاہ آباد میں قائم تحصیل دفتر خستہ حال عمارت میں قائم ہے و ہیں جموں و کشمیر پروجیکٹ کنسٹرکشن کارپوریشن (جے کے پی سی سی) نے سال 2018 میں یہاں منی سیکریٹریٹ تعمیر کرنے کا کام شروع کیا تھا لیکن3 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی کام بنیاد سے آگے نہیں بڑ پایا ہے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی تعمیراتی ادارے سے نالاں ہے۔2018 میں اس وقت کے وزیر مملکت فاروق احمد اندرابی نے منی سیکریٹریٹ کے لئے عمارت کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ عمارت کو وقت پر مکمل کیا جائے گا اور دفتری طوالت سے بچنے کیلئے تحصیل سطح کے تمام دفاتر ایک ہی چھت کے نیچے کام کریں گے۔تاہم پی ڈی پی اور بی جے پی مخلوط حکومت کے خاتمے کے بعد ہی اس پر کام رک گیا۔منی سیکریٹریٹ کی تعمیر کے لئے 6 کرورڈ روپئے کی لاگت آنے کا تخمینہ تھا۔اپریل 2018 سے ستمبر بنیاد مکمل ہوگئی جس کے لئے 25 لاکھ واگزار ہوئے تاہم بعد میں فنڈس کی عدم دستیابی کے باعث عمارت کا مزید کام نہیں ہوپایا جس کے سبب اب بنیاد بھی خستہ ہوچکی ہے۔ سیکریٹریٹ تعمیر کرنے والے سیلف ہیلپ گروپ کے ایک ذمہ دار نے کہا کہ دراصل پروجیکٹ جے کے پی سی سی کے ذمہ ہے اور اْنہوں نے Subletکے تحت کام لیا تھا اور عمارت کاپلنتھ تعمیر ہوا جس پر 50لاکھ صرف ہوگئے اور اب پروجیکٹ منظور نہ ہونے کی بات کی جارہی ہے۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اگر پروجیکٹ منظور نہیں تھا توپھر عمارت کی بنیاد پرجو رقم صرف ہوا وہ کہاں سے آگیا۔ مقامی صحافی طارق علی میر نے اس سلسلے میں کہا کہ ڈورو شاہ آباد میں بیشتر سرکاری ادارے نجی عمارتوں میں قائم ہیں ،ایس ڈی ایم اور تحصیل دفاتر خستہ حال عمارتوں میں قائم ہیں جہاں عملہ کے ساتھ ساتھ لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ریکارڈ عمارت کے صحن میں پڑا ہوا ہے جو غیر محفوظ ہے لہذا سب ڈویژن ہونے کے ناطے منی سیکریٹریٹ کی تعمیر ناگزیر بن چکا ہے۔لوگوں نے ایل جی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ منی سیکریٹریٹ کے لئے فنڈس واگذارکئے جائیں تاکہ رکا پڑا کام دوبارہ شروع کیا جاسکے۔ ڈپٹی جنرل منیجر (ڈی جی ایم) جے کے پی سی سی یونٹ اننت ناگ غلام حسن ڈار نے بتایا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے عمارت پر تعمیراتی کام تاخیر کا شکار ہوگیاتاہم جیسے ہی فنڈز مہیا ہونگے تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہو جائے گا۔