گذشتہ روز جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں بھی ایک سوال کے جواب میں حکومت نے اعتراف کیا کہ وادیٔ کشمیر کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں،نیز اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا کہ منشیات کی لت میں مبتلا تقریباً 70ہزار افراد میں سے 50 ہزارنشیئی ہیروئن کا استعمال کررہے ہیں،جس سے سماج اور صحت عامہ کے لئے نہایت تشویش ناک صورت حال کی نشاندہی ہورہی ہے۔ پچھلے دو تین سال کے دوران جموں و کشمیر کے گورنر منوج سنہا بھی کئی بار اس بات دہرا چکے ہیں کہ یہاں کی انتظامیہ نے جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے لئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے،جس کے تحت پولیس ،سول انتظامیہ اور لوگوں کو مل جُل کراس لعنت کے خاتمے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن آج تک یہ زیرو ٹالرنس پالیسی کس حد تک آگے بڑھی یا اس کے نتائج کتنے مثبت ثابت ہوئے ،اُس کا پتہ متذکرہ اعداد و شمار کے سامنے آنے سے بخوبی مل جاتا ہے۔
بے شک وادی ٔ کشمیر کا ہر ذی ہوش فرد ایک طویل عرصے چلی آرہی اس صورت حال سے بخوبی واقف ہے کہ وادیٔ کشمیر میں غیر قانونی دھندے،منشیات کا کاروبار اورنقلی ادویات کی فروخت کے رُجحان میںکوئی کمی نہیں ہورہی ہے بلکہ جرائم کی وارداتوں کے ارتکاب میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ظاہر ہے کہ جرائم کی روک تھام کے ذمے دار محکموں میں پولیس کا ادارہ دنیا بھرمیں کلیدی اہمیت رکھتا ہے لیکن ہمارے یہاں صورتحال اس حوالے سے خاصی مختلف نظر آتی ہے۔ محکمے میں فرض شناس افسروں اور اہلکاروں کی موجودگی سے ہرگزانکار تو نہیں کیا جاسکتا جو انسداد جرائم کی مہمات میں اپنی زندگیاں دائو پر لگادیتے ہیں لیکن پولیس کا عمومی رویہ اس کے برخلاف نظر آتا ہے، جس کے باعث عام تاثر یہی ہے کہ محکمہ پولیس کے اکثرآفیسر اور اہلکاراپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوںکا سنجیدگی کے ساتھ مظاہرہ نہیں کررہے ہیں، جس سے پائیدار طریقے پرجرائم کا خاتمہ نہیں ہورہا ہے۔آج بھی اطراف و اکناف میںمنشیات کا استعمال کرنے والوں کی ٹولیاںجھوم رہی ہیں جبکہ ہسپتالوں میں زیر علاج نشیئوں کی صورت ِ حال دیکھ کرعقل دھنگ رہ جاتی ہے۔
جو نوجوان اس لعنت کا شکار ہوچکےہیںاور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوکر اپنے گھر والوں اور معاشرے کے لئے بوجھ بن بیٹھے ہیںاور جن والدین کی یہ پیارے اورراج دُلارے ہیں، منشیات کی غلیظ لت میں پڑ کے چلتی پھرتی لاشیں بن گئے ہیں۔اس کے بعد بھی ہمارے یہاں جس قدر نوجوان نسل اس لَت میں پڑرہی ہے ، اُس سے کہیں زیادہ منشیات فروشوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ وہ یہ میٹھا زہر نوجوان نسل کی نَس نَس میں بھر رہے ہیںاورپولیس کی حِس اس کی تہہ تک پہنچ نہیں پارہی ہے۔ منشیات فروشوں نےبے کارپڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی اپنا آلۂ کار بنا لیا ہے،جن کے ذریعے یہ کاروبار فروغ پارہا ہے۔
شہر اور دیہات میں واقع اسکولز اور کالجز کے باہر بھی منشیات مافیاکے کارندے طلباء و طالبات کو منشیات بہم پہنچارہے ہیں اورحقائق انتہائی کرب ناک ہیں۔ ہماری نوجوان نسل کو معاشی بحران اور مادہ پرستی کی دوڑ میں لگا کر شدید ڈپریشن میں مبتلا کردیا گیا ہے۔ وہ اس ڈپریشن سے نکلنے کا واحد علاج اِس میٹھے زہر ہی کو سمجھتے ہیںاور اِسے کسی بھی قیمت پر حاصل کرنے کے لئے جہاںچوریاںکرنے سے گریز نہیںکرتے،وہیں اپنے سگّے رشتوں اور رابطہ داروں کو ذہنی اور جسمانی طور نقصان پہنچانے میں کوئی عار نہیں کرتے ہیں۔منشیات کے کاروبار اور استعما ل کے خلاف پولیس کی روزانہ کاروائیوں کے باوجود یہ سلسلہ فروغ کیوں پارہا ہے ،اس سوال کا ابھی تک کوئی ٹھوس جواب نہیں مل رہا ہے۔شائدہمارا معاشرتی رویہ بالکل خود غرضانہ ہوچکاہےجو ہمیں کوئی درست سمت نہیں دکھا رہا ہےاور معاشی اصلاح کا علَم اُٹھانے والی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے منشیات سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کی سمت میں کوئی ٹھوس اور موثر اقدام نہیں ہورہا ہے۔جو اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ جب تک منشیات کے بڑھنے کے اسباب و محرکات کو ختم کرنے کے لئےمعاشرے کا ہر طبقہ اپنا ذمہ دارانہ اور غیر منصفانہ کردارادا نہیں کرتا، تب تک اس کے خاتمہ ممکن نہیں۔