ظفر اقبال
اوڑی//سلام آباد اوڑی میں مناسب آبپاشی کی کمی کی وجہ سے زیتون کی کاشت میں نمایاں کمی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میںمقامی کسانوں میں مایوسی پائی جارہی ہے۔محکمہ باغبانی کے عہدیداروں کے مطابق’’ 29کنالوں پر پھیلے زیتون کے فارم میں گذشتہ کئی برسوں سے پیداوار میں مسلسل کمی ہورہی ہے اور محکمہ اس کمی کیلئے پانی کی عدم دستیابی کو بڑی وجہ قرار دے رہا ہے‘‘۔ باغبانی محکمہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ حالیہ برسوں میں زیتون کی پیداوار میں نمایاں طور پر کمی واقع ہوگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ آبپاشی کے بغیر فصل کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔محکمہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 2005کے زلزلے سے قبل زیتون کے فارم سے متصل ایک قدرتی ندی آبپاشی کا بنیادی ذریعہ ہوا کرتا تھا تاہم زلزلے کے دوران ندی کو نقصان پہنچا جسے آج تک بحال نہیں کیا گیا ۔باغبانی کے ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ محکمہ آبپاشی نے گذشتہ سال پانی کی فراہمی کے امکان کو تلاش کرنے کیلئے ایک جائزہ لیا تھااور کنواں کھودنے کا منصوبہ بنایا گیاتھا لیکن علاقہ اونچائی پر آباد ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ کامیاب نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ زیتون کی کاشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ زیتون کی کاشت کشمیر کے صرف اوڑی علاقے میں ہوتی ہے ۔کسانوں کو خدشہ ہے کہ اگر پائیدار آبپاشی کا نظام جلد میسر نہیں کیا جائے گا تو وادی کی تنہا زیتون کاشتکاری ختم ہوسکتی ہے۔انچارج زیتون نرسری سلام آباد ریکیدا بیگم نے بتایا کہ محکمہ نے گذشتہ سال نرسری میں ٹیوب ویل کھودنے کا ارادہ کیا تھالیکن بعد میں ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔انہوں نے کہا ’’ ابھی تک ہم بارش کے پانی پر پوری طرح انحصار کررہے ہیں‘‘۔