جاوید اقبال
مینڈھر// ممبر پارلیمنٹ میاں الطاف احمد نے اپنے عوامی دورے کے سلسلے میں دھارگلون کا دورہ کیا، جہاں وہ سابق سرپنچ چوہدری ماجد کھٹانہ کی رہائش گاہ پہنچے۔ اس موقع پر مقامی عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ دورے کا آغاز دعا سے کیا گیا، جس کے بعد میاں الطاف احمد نے عوام سے تفصیلی ملاقات کی اور خصوصاً سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے مسائل اور مطالبات کو بغور سنا۔مقامی لوگوں نے ممبر پارلیمنٹ کو آگاہ کیا کہ سرحدی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ انہوں نے سڑکوں کی خستہ حالت، صحت و تعلیم کے ناکافی انتظامات، پینے کے صاف پانی کی قلت، بجلی کی غیر یقینی فراہمی، روزگار کے مواقع کی کمی اور سیکورٹی سے متعلق درپیش مشکلات کی نشاندہی کی۔ عوام کا کہنا تھا کہ سرحد کے قریب رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے انہیں آئے دن مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں اور فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ممبر پارلیمنٹ میاں الطاف احمد نے عوام کی باتوں کو تحمل اور سنجیدگی سے سنا اور یقین دلایا کہ ان تمام مسائل کو متعلقہ محکموں اور اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے گا تاکہ سرحدی علاقوں کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی اصل ذمہ داری عوام کے درمیان رہ کر ان کے دکھ درد کو سمجھنا اور ان کے حل کیلئے عملی اقدامات کرنا ہے۔بعد ازاں میاں الطاف احمد دھارگلون میں حافظ تعظیم کے گھر بھی گئے، جہاں دعا کے بعد متعدد افراد سے ملاقات کی گئی۔ اس موقع پر بھی مقامی لوگوں نے اپنے سماجی اور علاقائی مسائل بیان کئے۔ میاں الطاف احمد نے عوامی جذبات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ ملک کے محافظ ہیں اور ان کی مشکلات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔دورے کے اختتام پر ممبر پارلیمنٹ جموں کیلئے روانہ ہو گئے۔ مقامی عوام نے ان کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے دیرینہ مسائل پر سنجیدگی سے عمل ہوگا اور جلد عملی حل نکلے گا۔