محمد تسکین
بانہال// ممبر اسمبلی بانہال سجاد شاہین نے جمعرات کے روز سب ضلع ہسپتال بانہال کا دورہ کیا اور ہسپتال میں دستیاب طبی سہولیات اور مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ہسپتال میں بعض اہم کاموں کی انجام دہی کے لیے اپنے فنڈز سے رقومات جاری کرنے کا اعلان کیا۔ ممبر اسمبلی سجاد شاہین نے ہسپتال میں سیفٹی ٹینک کی تعمیر کے لیے 7.2 لاکھ روپے منظور کئے ، جس کا مقصد ہسپتال کے ناکام ہوئے سیفٹی ٹینک کی تعمیر نو ہے ۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے ممبر اسمبلی بانہال نے سابقہ ممبر اسمبلی بانہال اور سابقہ کانگریس صدر وقار رسول پر سخت تنقید کی اور کہا کہ بانہال ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی سے متعلق لگائے جانے والے ایسے مخصوص لوگوں کے الزامات بے بنیاد اور زمینی حقائق کے برعکس ہیں جن لوگوں کو لوگوں نے مسترد کر دیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد سابقہ ممبر اسمبلی بغیر حقائق جانے ایسے بیانات دے رہے ہیں اور خبروں میں رہنے کیلئے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بانہال میں گائنا کالوجسٹ سمیت ڈاکٹروں کی کمی کو بلاوجہ اچھال رہے ہیں جو حقیقت سے بعید ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت سب ضلع ہسپتال بانہال میں دو ماہر گائناکالوجسٹ تعینات ہیں جن میں سے ایک خاتون ڈاکٹر چھٹی پر ہے جبکہ دوسرا گائنی کالوجسٹ ڈاکٹر شبیر احمد پچھلے اڑھائی مہینوں سے اپنا فرض خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں اور اس عرصے میں انہوں نے چالیس سرجریاں انجام دی ہیں اور دو سو سے زائد حاملہ خواتین کی نارمل ڈیلیوری انجام دی گئی ہیں۔ ممبر اسمبلی بانہال سجاد شاہین نے کہا کہ ایک فزیشن کی تعیناتی گزشتہ روز ہی عمل میں لائی گئی ہے اور ہسپتال میں سی ٹی سکین اور ڈائیلاسز کی سہولیات جلد ہی میسر رکھی جائینگی ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ڈاکٹر یا نیم طبی عملے کی طرف سے اپنے فرض سے غفلت کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔سجاد شاہین نے مزید کہا کہ کانگریس کے بعض لیڈر محض خبروں میں رہنے کے لیے غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کر کے بانہال ہسپتال کی شبیہ کو بلا وجہ نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بانہال ہسپتال ضلع رام بن میں سب سے زیادہ او پی ڈی والاہسپتال ہے اور گول ، رامسو اور بانہال سب ڈویژنوں کے سینکڑوں مریض روزانہ تب ہی بانہال ہسپتال پہنچ رہے ہیں یجب یہاں تمام سہولیات اور قابل ڈاکٹر موجود ہیں ۔ممبر اسمبلی سجاد شاہین نے یقین دلایا کہ بانہال کے عوام کو معیاری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے آئندہ بھی تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔