یو این آئی
کوالالمپور/ملیشیا کی فٹبال ایسوسی ایشن کی پوری ایگزیکٹو کمیٹی نے بدھ کے روز اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ یہ انتہائی قدم غیر ملکی نژاد کھلاڑیوں کی شہریت کے حوالے سے سامنے آنے والے سنگین اسکینڈل کے بعد اٹھایا گیا ہے ۔یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے ملیشیا کے 7 غیر ملکی نژاد کھلاڑیوں کو معطل کر دیا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کھلاڑیوں نے مملیشیائی شہریت اور نسل سے متعلق جعلی دستاویزات جمع کروائی تھیں۔ان کھلاڑیوں کو ایشین کپ کوالیفائرز میں کھلایا گیا، جس پر فیفا نے ایسوسی ایشن پر 4 لاکھ ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا۔ویتنام کے خلاف میچ میں ملیشیا کی 4-0 سے جیت کے بعد باضابطہ شکایت موصول ہوئی تھی جس نے اس پورے معاملے کو بے نقاب کیا۔ایف اے ایم نے فیفا کی پابندیوں کے خلاف اپیل کی تھی، جسے فیفا کمیٹی نے نہ صرف مسترد کیا بلکہ ایسوسی ایشن کے انتظامی ڈھانچے پر شدید تنقید بھی کی۔فیفا نے ملیشیائی فٹبال ایسوسی ایشن کے طرزِ حکمرانی اور انتظامی امور کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔ قائم مقام صدر یوسف مہدی کے مطابق، استعفیٰ دینے کا مقصد ادارے کی ساکھ کو بچانا اور فیفا کو آزادانہ تحقیقات کے لیے صاف ماحول فراہم کرنا ہے ۔اگرچہ پوری قیادت مستعفی ہو چکی ہے ، لیکن یہ معاملہ قانونی طور پر ابھی ختم نہیں ہوا۔ ملیشیائی ایسوسی ایشن نے سوئٹزرلینڈ میں قائم کورٹ آف آربیٹریشن فار سپورٹ سے رجوع کر رکھا ہے ، جہاں یہ کیس تاحال زیرِ سماعت ہے ۔