نئی دہلی//وزیراعظم نریندرمودی نے ملک کے عوام سے یوم آزادی نئے طریقے سے منانے اور اسے لوگوں کو تہوار بنانے کی اپیل کی ہے ۔مسٹر مودی نے اپنے دوسرے دور اقتدار میں آکاشوانی پر اپنے ماہانہ پروگرام ‘من کی بات’ کی دوسرے ایڈیشن میں آج کہا،‘‘اگست کا مہینہ ‘بھارت چھوڑو’ کی یاد لے کر آتا ہے ۔میں چاہوں گا کہ آپ لوگ 15اگست کی کچھ خاص تیاریاں کریں۔آزادی کے اس تہوار کو منانے کا نیا طریقہ ڈھونڈیں۔اس میں زیادہ سے زیادہ لوگ شرکت کریں اور 15اگست لوگوں کا تہوار کیسے بنے ؟اس کی فکر ضرور کریں۔’’انہوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ یہی وہ وقت یت جب ملک کے کئی حصوں میں بارش ہورہی ہے ۔کئی حصوں میں ملک کے عوام سیلاب سے متاثر ہیں۔سیلاب سے کئی طرح کے نقصان بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔سیلاب کے بحران میں گھرے ان سبھی لوگوں کو یقین دلاتا ہوں ،کہ مرکز ،ریاستی حکومتوں کے ساتھ ملک کر متاثرین کو ہر قسم کی مدد مہیا کرانے کا کام بہت تیزرفتارسے کررہا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ویسے جب ہم ٹی وی دیکھتے ہیں تو بارش کا ایک ہی پہلو نظر آتا ہے ۔ہر طرف سیلاب سے بھرا ہوا پانی ٹریفک جام۔مانسون کی دوسری تصویر۔جس میں ہمارا کسان بارش سے خوش،چہکتے پرندے ،بہتے جھرنے ،سبزے کی خوبصورت چادر زمین پر نظر آتی ہے ۔ایسے مناظر کو دیکھنے کے لئے آپ کو خود ہی اپنے خاندان کے ساتھ باہر نکلنا پڑے گا۔بارش،تازگی اور خوشی دونوں ہی اپنے ساتھ لاتی ہے ۔میری دعا ہے کہ مانسون آپ سب کو مسلسل خوشیاں دیتا رہے ۔آپ سبھی صحت منت رہیں۔دریں اثناء نریندر مودی نے پانی کے تحفظ کے تئیں لوگوں میں بیداری لانے کے لئے تہوار وں کو استعمال کرنے پر زور دیا ہے ۔مسٹر مودی نے اپنی دوسری مدت میں ‘من کی بات’ کی دوسری قسط میں آج کہا‘‘تہواروں کا وقت آ گیا ہے ۔ تہوار کے موقع پر بہت سے میلہ بھی لگتے ہیں۔ پانی کے تحفظ کے لئے کیوں نہ ان میلوں کا بھی استعمال کریں. میلوں میں سماج کے ہر طبقے کے لوگ پہنچتے ہیں۔ ان میلوں میں پانی کو بچانے کا پیغام ہم بڑے ہی مؤثر طریقے سے دے سکتے ہیں، نمائش لگا سکتے ہیں، نکڑ ڈرامہ کر سکتے ہیں، تہوار کے ساتھ ساتھ پانی کے تحفظ کا پیغام بہت آسانی سے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں’’۔وزیر اعظم نے کہا‘‘میں محسوس کر رہا ہوں کہ پانی کے بارے میں ان دنوں ہندوستان کے دلوں کو جھنجھوڑ دیا ہے ۔تحفظ آب کے سلسلہ میں ملک بھر میں متعددمؤثرکن کوششیں کی جارہی ہیں ’’ ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے روایتی طور طریقوں کے بارے میں جانکاریاں شیئر کی ہیں۔ میڈیا نے تحفظ آب پر بہت سی جدت پسندانہ مہم شروع کی ہیں. حکومت ہو یا غیر سرکاری تنظیم جنگی سطح پر کچھ نا کچھ کر رہے ہیں۔ اجتماعیت کی طاقت دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے ، بہت طمانیت محسوس ہورہی انہوں نے تحفظ آب کے سلسلہ میں جھارکھنڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ رانچی سے کچھ دور، اورمانجھي بلاک کے ‘آرہ کیرم گاؤں’ میں وہاں کے گاؤں والوں نے پانی کے انتظام کیلئے جو حوصلہ دکھایا ہے ، وہ سب کے لئے مثال بن گیا ہے ۔ گاؤں والوں نے خود ہی محنت کر کے پہاڑ سے بہتے جھرنے کو ایک مخصوص سمت دینے کا کام کیا۔ وہ بھی خالص دیسی طریقہ سے ۔ اس سے نہ صرف مٹی کا کٹاؤاور فصل کی بربادی رکی ہے ، بلکہ کھیتوں کو بھی پانی مل رہا ہے . دیہاتیوں کی یہ محنت اب پورے گاؤں کے لئے جیون دان سے کم نہیں ہے ۔مسٹر مودی نے کہا کہ شمال مشرقی علاقے کی خوبصورت ریاست میگھالیہ ملک کی پہلی ایسی ریاست ہے ، جس نے اپنی پانی کی پالیسی تیار کی ہے ۔ انہوں نے اس کے لئے ریاستی حکومت کو مبارک باد دی۔انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں ان فصلوں کی کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے ، جن میں کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور کسان کا بھی کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے ۔ انہوں نے ہریانہ حکومت کو خاص طور پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسانوں کے ساتھ بات چیت کر کے انہیں روایتی کھیتی سے ہٹ کر کم پانی والی فصلوں کے لئے حوصلہ افزائی کی۔دریں اثناء نریندرمودی نے ‘سوچھتا ابھیان’ میں عوام کی شراکت کی ستائش کرتے ہوئے اتوار کو کہا کہ یہ تحریک اب ‘سوچھتا سے سندرتا’ کی بڑھ چلی ہے ۔مسٹر مودی نے اپنے دوسرے دفتر میں آکاشوانی پر اپنے ماہانہ پروگرام ‘من کی بات’ کے دوسرے ایڈیشن میں کہا کہ سوچھتا ابھیان کو رفتار ملی ہے ۔انہوں نے کہا،‘‘پانچ سال پہلے شروع ہوئی اس مہم میں آج ہر شخص شامل ہے اور لوگ صاف صفائی نئے نئے معیار قائم کررہے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ ہم نے صاف صفائی میں کوئی معیاری درجہ حاصل کرلیا ہے ،لیکن جس طرح سے کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہونے سے لے کر عام مقامات پر صفائی مہم میں کامیابی ملی ہے ،وہ ایک سو تین کروڑ ملک کے عوام کے عہد کی طاقت ہے ۔’’انہوں نے امریکہ سے ملک واپس لوتنے والے انجینئر یوگیش سینی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کچھ وقت پہلے دہلی کو صاف ہی بلکہ خوبصورت بنانے کا ذمہ لیا۔انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ لودھی گارڈن کے کوڑے دانوں سے شروعات کی۔ دہلی کے کئی علاقوں کو خوبصورت پینٹنگ سے سجانے سنوارنے کا کام کیا۔انہوں نے پلوں اور اسکول کی دیواروں سے لے کر جھگی جھوپڑیوں تک اپنا ہنر دکھایا اور ان کو لوگوں کا ساتھ ملتا چل گیا اور ایک طرح سے یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔جاری۔یواین آئیوزیراعظم نے کہا کہ‘ سوچھتا ابھیان ا ب سوچھتا سے سندرتا’ کی طرف بڑھ چلا ہے ۔کنبھ کے دوران پریاگ راج کو کس طرف پینٹنگ سے سجایا گیا تھا۔اس میں مسٹر سینی اور ان کی ٹیم نے بہت بڑا کردار ادا کیاتھا۔انہوں نے کہا،‘‘رنگ اور لکیروں میں کوئی آواز بھلے ہی نہ ہو ،لیکن ان سے بنی تصویروں سے جو قوس قضا بنتے ہیں،ان کا پیغام ہزاروں الفاظ سے بھی کہیں زیادہ متاثر کن ہوتا ہے اور یہ بات ہم سوچھتا ابھیان کی خوبصورت میں بھی محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ بہت ضروری ہے کچرے سے کنچن بنانے کی ثقافت ہمارے سماج میں پیدا ہو۔ مسٹر مودی نے کہا،‘‘ ایک طرح سے کہیں،تو ہمیں کچرے سے کنچن بنانے کی سمت میں ،آگے بڑھنا ہے ۔’’یواین آئی۔