یو این آئی
نئی دہلی//انڈین ریلوے ہائیڈروجن انقلاب کا آغاز کرنے جا رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو ہریانہ کے جیند میں ملک کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔تقریباً 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار کے ساتھ تیار کی گئی یہ ٹرین جیند-سونی پت سیکشن کے 89 کلومیٹر کے راستے پر 75 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑے گی۔ اس ٹرین کے شروع ہونے کے ساتھ ہی ہندوستان کا نام دنیا کی سب سے بڑی ہائیڈروجن ٹرین کو چلانے والے ملک کے طور پر تاریخ کے صفحات میں درج ہو جائے گا۔ ریلوے کے مطابق موجودہ وقت میں عالمی سطح پر چلنے والی زیادہ تر ہائیڈروجن مسافر ٹرینوں میں صرف دو یا تین کوچ ہوتے ہیں اور یہ بنیادی طور پر چھوٹے علاقائی راستوں پر ہی چلائی جاتی ہیں۔
وہیں، بھارتیہ ریلوے کی یہ ٹرین 10 کوچوں والی ہے اور اس میں تقریباً 2600 مسافر سفر کر سکیں گے۔ہائیڈروجن ٹرین روایتی ایندھن جیسے ڈیزل اور بجلی سے چلنے والی ٹرینوں سے کافی مختلف ہوگی۔ اس ٹرین میں توانائی حاصل کرنے کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔ ہائیڈروجن ٹرین اپنے ساتھ ایک چھوٹا پاور پلانٹ لے کر چلتی ہے، جو پروٹان ایکسچینج ممبرین (پی ای ایم) فیول سیل کی شکل میں ہوتا ہے۔ ٹرین کے سلنڈروں میں جمع ہائیڈروجن، فیول سیل کے اندر آس پاس کی ہوا سے آکسیجن لے کر بجلی پیدا کرتی ہے، جس سے ٹریکشن موٹریں چلتی ہیں اور پہیے گھومتے ہیں۔ اس الیکٹرو کیمیکل عمل کے براہِ راست بائی پروڈکٹس صرف پانی کے بخارات (واٹر ویپر) اور حرارت ہیں۔ اس میں کوئی جلنے کا عمل، دھواں یا ٹیل پائپ سے کاربن کا اخراج نہیں ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں کہیں تو یہ عمل کسی جادو جیسا لگ سکتا ہے، جس میں ہائیڈروجن کو براہِ راست ٹرین کے اندر بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں صرف پانی کے بخارات ہی براہِ راست بائی پروڈکٹ کے طور پر نکلتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی انڈین ریلوے کو زیادہ ماحول دوست اورگرین بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ریلوے کے مطابق اس ٹرین میں دو ہائیڈروجن ڈرائیونگ پاور کار (ڈی پی سی) اور آٹھ ٹریلر کوچ (ٹی سی) شامل ہیں۔ ہر ڈرائیونگ پاور کار میں فیول سیل، لیتھیم آئرن فاسفیٹ (ایل ایف پی) بیٹری اور ہائیڈروجن اسٹوریج سلنڈر لگے ہوتے ہیں جو مختلف آپریشنل حالات میں قابلِ اعتماد آپریشن کو یقینی بناتے ہوئے ٹریکشن پاور فراہم کرنے کے لیے ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ریلوے کے مطابق یہ مرکز ایک وقت میں تقریباً 3000 کلوگرام ہائیڈروجن کا ذخیرہ کرتا ہے، جو ٹرین سیٹ کے باقاعدہ آپریشن کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے اسٹوریج اور سپلائی سسٹم کو پٹرولیم اور دھماکہ خیز مواد کی حفاظت کی تنظیم (پی ای ایس او) نے منظوری دی ہے۔