یو این آئی
نئی دہلی//وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ جدید ترین ہتھیاروں اور جدید فوجی ٹیکنالوجیز کے باوجود سڑکیں، سرنگیں، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں جیسے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر فوجی مہمات کے لیے مستقبل میں بھی انتہائی اہم رہیں گے ۔ سنگھ نے جمعرات کو یہاں بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کو محاذ تک پہنچانے والی سڑک بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ سرحد پر تعینات فوجی، اس لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر کرنے والے بھی قومی سلامتی کے مساوی طور پر اہم محافظ ہیں۔ وزیرِ دفاع نے بارڈر روڈز آرگنائزیشن کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک عام سڑک تعمیر کرنے والی ایجنسی سے دنیا کی معززاسٹریٹجک انفراسٹرکچر تنظیموں میں مقام بنایا ہے۔
انہوں نے اٹل سرنگ، سیلا سرنگ اور املنگ لا درہ جیسے پروجیکٹوں کو تنظیم کی انجینئرنگ کی صلاحیت اور بہترین کام کا نمونہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکار جدید انفراسٹرکچر اور وائبڑینٹ ولیج پروگرام کے ذریعے سرحدی علاقوں میں رابطے کے نظام کو مضبوط بنا کر قومی سلامتی کو مستحکم کرنے اور سال 2047 تک ترقی یافتہ ملک کے ہدف کو حاصل کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ سنگھ نے اس موقع پر بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے نئے ڈیجیٹل پروجیکٹ مینجمنٹ اور بھرتی کے نظام کا آغاز کیا، تنظیم کی تین اہم مطبوعات کا اجرا کیا، بی آر او ترانے کی نقاب کشائی کی اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پروجیکٹوں کو نوازا۔ ادھرقومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے ” خلیج بنگال پہل برائے کثیر شعبہ جاتی تکنیکی اور اقتصادی تعاون” بمسٹیک ممالک سے علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے دہشت گردی، سائبر خطرات، اقتصادی چیلنجوں اور سمندری سکیورٹی سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ بمسٹیک ممالک کے قومی سلامتی کے سربراہوں کی پانچویں میٹنگ ہندوستان کی میزبانی میں یہاں ہوئی جس میں تمام رکن ممالک بنگلہ دیش، بھوٹان، میانمار، نیپال، سری لنکا اور تھائی لینڈ کے نمائندوں نے حصہ لیا۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ڈوبھال نے عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں سے نمٹنے اور دہشت گردی، بین الاقوامی منظم جرائم اور سائبر خطرات سے مل کر لڑنے پر زور دیا۔ میٹنگ میں قومی سلامتی کے مشیروں نے دہشت گردی اور منظم جرائم سے نمٹنے، سائبر، سمندری اور توانائی کے شعبوں میں سکیورٹی کو یقینی بنانے، کنیکٹیویٹی بڑھانے، آفات کے موثر انتظام کو آسان بنانے اور نئے و ابھرتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنے کے لیے عملی اور نتائج پر مبنی حل پر تبادلہ خیال کیا۔