جموں //نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر جموں دیویندر سنگھ رانا نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایک سینئر آفیسر کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دے کر ایک مضبوط ٹھوس فورس تیار کرے ، جو مُلک کے متعدد حصوں میں جموں و کشمیر کے پھنسے ہوئے لوگوں تک پہنچے۔ رانا نے ایک بیان میں کہا کہ کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے فقط ایک ہی احتیاطی تدابیر لاک ڈائون ہے اور سماج کے متعدد حصوں پر اسکے اثر کا ازالہ کرنے کی ضرورت ہے۔ رانا نے لاک ڈاؤن کے اچانک اعلان کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں پھنسے جموں و کشمیر کے باشندوں خصوصاً طلباء، مریضوں اور ان کے تیمار داروں ، پیشہ ور افراد ، پھیری والوں اور مزدوروں کی قابل رحم حالت کا حوالہ دیا اور انہیں جنگی بنیادوں پر انخلاکا مطالبہ کیا ہے ۔ صوبائی صدر نے پاکستان میں مقیم کشمیری میڈیکل طلاب کو امرتسر سے سرینگر کی واپسی کے لئے کئے گئے انتظامات کو سراہنا کی اورتوقع کا اظہار کہا کہ پٹھانکوٹ میں جموں وکشمیر کے 1500 درماندہ مسافروں کو اسی طرز پر جموں اور وادی بھیجنے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وہ کسمپرسی کی حالات میں ہیں اور 14 دنوں کا لازمی قرنطینہ مکمل کرنے کے بعد گُذشتہ کئی دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہی حالات علاج و معالجہ کیلئے کئے گئے متعدد ہسپتالوںکے مریضوں اور تیمارداروں کا بھی ہے ۔انہوںنے کہا کہ انہیں راجستھان ،بنگلورو، حیدر آباد ،دہلی ،اتر پردیش اور دیگر ریاستوں سے طلاب اور سماج کے دیگر طبقہ کے فون کال آرہے ہیں ،جس میں وہ انکی محفوظ واپسی کے انتظامات کرنے کی پکار کرتے ہیں۔اسی طرح سے ریاسی ،اودہمپور، کشتواڑ، ڈوڈہ ،پونچھ اور راجوری اضلاع میں ملک کے متعدد حصوں کے ہنر مند و غیر ہنر مند ورکوں کو بھی اپنے اپنے گھروں کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صوبائی صدر نے مزید کہا کہ ریڈ زون کے طور پر اعلان کردہ علاقوں کی طرف بھی انتظامیہ کو توجہ مبذول کرنے پر بھی زور دیااورکہا کہ یہ کوئی ختم نہ ہونے والا نظام نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں سنجواں اور بٹھنڈی جیسے علاقوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اگر انتظامیہ معمول کی صورتحال سے مطمئن ہے تو وہاں سے سیلنگ ہٹانی چاہیے۔دریں اثنا انہوں نے ہاٹ سپاٹ علاقوں میں وضع رہنما خطوط کے تحت اشیائے ضروریہ یقینی بنانے کو کہا ۔