ملـہ کـھـاہ: ایک چشم کشا سانحہ!

یکم  جنوری 2019ء کو شہر خاص سرینگر کے وسیع الرقبہ قدیمی قبرستان ملہ کھاؔہ کشمیر کی تاریخ کا ایک افسوس ناک المیے کا گواہ بنا کہ انسانیت سرنگوں اور آدمیت شرمسار ہوئی ، زمین ہل گئی اور آسماں لرزہ براندام ہوا۔ایک ایسا واقعہ جس کی کہانی اخبارت میں پڑھ کر ہر باضمیر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوئے اور تن بدن پسینہ پسینہ ہو ا ۔ یہ سانحہ سنگ دلی اور کھٹورتا کا ایک جیتاجاگتا نمو نہ ہی نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر کچوکے مارنے والا منظر اور پدرانہ رحم،مروت، محبت و مودت کے جذبوں کو پانی پانی کرکے رکھ دینے والا ہے۔
 ہو ایوں کہ ملہ کھاہ سرینگر کے اس وسیع و عریض قبرستان کے کسی گوشے میں ایک باپ دن دھاڑے اپنے پانچ چھ دن کے نومولود بچے کو زندہ درگور کرنے لگا ۔ اتفاق سے اس کریہہ الصورت اور لرزہ خیز عمل پر راہ گیروں کی نظر پڑی ، انہوں نے دیکھا کہ ایک نوزائیدہ معصوم بچہ چیخ رہاہے چلارہاہے اور اس کا باپ اس چیخ وپکار کی صدائیں اَن سنی کر کے ا سے ز ندہ گاڑنے کے لے زمین کھود رہاہے ۔ یہ منظر دیکھنے والے دم بخود ہوکر رہ گئے ، ان کی سانسیں رُک گئیں ، دل نے دھڑکنا بند کیا ، آنکھیں پھٹی پھٹی کی رہ گئیں ، سوالات نے ان کے ذہن ماؤف کئے مگر مقام شکر ہے کہ انہوں ا س قیامت خیز حرکت کو بروقت روکا۔ کشمیر کی عصری تاریخ میں اب تک اہل وادی نے اس نوعیت کی کسی سنگدلانہ حرکت کا ارتکاب کبھی دیکھا نہ سنا تھا ۔یہ بات اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سرزمین وطن کے مکینوں میں لاکھ خامیاں اور کوتاہیاں سہی لیکن آج بھی ان سے کسی کا دُکھ در ددیکھا نہیں جاتا ،کسی کی آہ ِ پُر درد سنی نہیں جاتی ،غربت و لاچاری کی چکی میں پِسے ہوئے کسی خاندان یا فرد کی آہ و بکا اور حالت زار و زبوں سنی نہ سہی جاتی ۔کہاجاتا ہے کہ ملہ کھاہ کے قبرستان میں ٹھٹھر تی ٹھنڈ کے دوران بچے کی نرم وگداز چیخوں کی سماعت سے ایک گورکن کے ہوش اُڑگئے ، اس نے بچے کو بچانے کے لئے فوراً سفاک باپ کو دبوچنے کی کوشش کی مگر وہ اس قدر ڈھیٹ تھا کہ آپے سے باہر ہوگیا اور گور کن کے سرپر بیلچہ مارنے کی ناکام کوشش تک کی ۔گورکن کی چیخ و پکار نے راہ چلتے لوگوں اور دیگر مکینوں کو جائے واردات پر آناًفاناً جمع کرڈالا،حقیقتِ حال دیکھ کرہر آنکھ اشک بار اورہردید پُرنم ہوئی ۔ سنگ دل باپ پر ہر جانب سے تھو تھو ہونے لگی اور بچہ کو فوری طور ہسپتال لے جاکر اُس کی طبی نگہداشت شروع کرائی گئی ۔اللہ کا فضل و کرم ہے کہ جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے کے مصداق بچہ صحیح و سالم ہے ۔
ہائے افسوس !یہ انسان بھی کتنا بے خبر اور بے صبر ہے ،نہیں جانتا کہ موت و حیات کے فیصلے اس کے ہاتھ میں نہیں ۔ مسخ شدہ فطرت  کے حامل کئی آدم زاد تو دنیا میں آنے سے قبل ہی رحم ِ مادر میں ہی معصوم پھولوں اور کلیوں کا خون کردیتے ہیں اور ا س سفاکی کے پیچھے اکثر وبیش تر یہ خوف کار فرما رہتا ہے کہ آنے والے مہمان کی خورد نوش اور تعلیم و تربیت کا ان کی تہی دستی کی وجہ سے بندوبست نہیں ہوسکتا ۔ اس کے علاوہ بچے کو جنسی بنیادوں پر پیدا ہونے سے قبل ہی  مارا جاتا ہے ۔ ملہ کھاہ المیہ میں ملوث سفاک والد نے بھی اس بہیمانہ حرکت کی وجہ بھی کچھ یہی بتا دی کہ وہ غربت و پسماندگی کی چکی میں پِس رہا ہے ،بچے کے سر میں ہرنیا ؔہے اور اُس کاافلاس نوزائیدہ کے دوائی ، جراحی اور رزق میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔ اس قبیل کے لوگوں کو کون سمجھائے کہ اللہ عزو جل نے انسان کی تخلیق و پیدائش سے پہلے ہی اس کے رزق وغیرہ کے حوالے سے اپنے اٹل فیصلے کئے ہیںا ور یہ سب کچھ ایک الٰہی منصوبہ نبدی کا حصہ ہوتا ہے ۔ کسی مخلوق کا اس بارے میں اس حد تک فکر مند ہونا کہ نئے مہمان کے تعلق سے اپنی ذمہ داریوں کا پلو جھاڑکر اس کے قتل تک کی سُوجھے ، یہ اس الٰہی منصوبہ بندی کی نفی کے برابر ہے جو اس نے انسانی حیات کے  لئے پہلے ہی وضع کیا ہے۔قرآن میں ہے : زمین میں چلنے پھرنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور وہ زمین میں اس کے رہنے اور سونپے جانے کی جگہ کو جانتا ہے ،سب کچھ صاف دفتر میں درج ہے۔ اور یہ رزق رسانی اُن کے لئے بھی ہے جن میں اس کے حصولیابی کی طاقت نہیں اور یہ  بات یوں فرمائی گئی ’’کتنے ہی چلنے پھرنے والے جاندار ہیں جو اپنا رزق حاصل نہیں کرسکتے ،ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیںاور تمہیں بھی۔‘‘(عنکبوت)یاد رہے نوشتہ ٔ تقدیر میں جس بچے کا دنیا میں آنا لکھا ہو ،لاکھ روکنے سے بھی اس کی پیدائش رُک نہیں سکتی ۔ یہی بات حضرت امام کائنات ؐ نے یوں بیان فرمائی ہے :’’جس کا پیدا ہونا نوشتۂ تقدیر میں لکھا جاچکا ہے وہ تو پیدا ہوکے رہے گا (بخاری۔کتاب القدر)بہر حال بات اس سنگدل باپ کی ہورہی تھی جس نے الٰہی احکامات کی بغاوت کی دین ناشناسی کا ثبوت دیااور اہل ِکشمیر کی صدیوں پرانی رحم و مروت کی روایات کو داغ دار بناکے رکھ دیا۔
تاریخ اس بات کی شاہد عادل ہے کہ ہر مصیبت کے موقع پر کشمیر کا معاشرہ اپنی ضروریات سے صرف ِنظر کرنے کی حد تک متاثرہ فرد یا گروہ کی مدد کرنے کی تاب ناک مثالیں قائم کرچکا ہے ۔ یہ اہل کشمیر ہی ہیں جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آسمانی آفات اور زمینی بلاؤں کے حوالے سے پیرو جواں اور مردوزن نے انسانی ہمدردی کی ایسی شمعیں روشن کیں جو مدتوں تک ہماری تاریک راہوں کو روشن کرسکتی ہیں۔ہم عشروں سے اپنے عزیزوں اور لاڈلوں کی لاشوں کے جنازے روز اُٹھارہے ہیں ،خون مسلم سے ہر کوچہ و بازار رنگین و تر ہیں ،ان الم ناک صدمات پر عرصہ سے روتے روتے ہماری آنکھوں کے آنسوؤں کے سوتے بھی خشک ہوچکے ہیں لیکن دل کی آنکھ نہ اندھی ہوئی ہے اور نہ اس نے ا ن قہر سامانیوں پر خوںباری روک لی ہے ۔ یہاںکسی پر خنجر چلے یا کسی پر نامساعد حالات کے چلتے افلاس و محرومی حملہ زن ہو توچشمان ِقلب نہ صرف یہ کہ اشکبار ہوتے ہیں بلکہ فوری طور متاثرہ فرد کی امداد و نصرت میں پیش پیش ہوتے ہیں اور انفاق و ایثار کی تابناک مثالیں زندہ و پایندہ رکھتے ہیں۔یہاں کتنے فلاحی ادارے ہیں ،یتیم خانے ہیں، امدادی مراکز ہیں جو دن رات انسانیت کی مشعلیں فروزاں رکھتے ہیں ۔ ٹھیک ہے کہ شاید ملہ کھاہ المیہ میں ملوث شوپیان کشمیر کے رہنے والے شخص کے بارے میںوہ بے خبر ہو ں ، خودا س نے کسی درددل والے سے رابطہ نہ کیا ہو یامتاثرہ شخص تک متعلقہ امدادی کارکن نہ پہنچے ہوں لیکن ایسابھی نہیں کہ یہ انسانی رضاکارانہ کام یہاںنہیں ہورہا ہے ۔مقامی سطحوں پر بھی ہم اتنے پتھر دل نہیں کہ روتے بلکتے ہمسایے اور اس کے لرزیدہ بچوں کی حالت ِزار دیکھ کر ہم نہ ترسیں نہ تڑپیں ،اس سطح پر بھی امدادی کام ہورہا ہے ،کہیں منصوبہ بند انداز میں اور کہیں انفرادی طور پر یہ نیک عملی جوں توں جاری ہے ،ہاں خامیاں اور کوتاہیاں اس نظم میں ہوسکتی ہیں لیکن ہمارے اندر کا انسان اس حد تک نہیں مرا ہے کہ کوئی اپنی غربت کو وجہ بتاکر اپنے پھول چہرہ بچے کو زندہ درگور کر نے لگے ۔عرب کے جاہلی معاشرہ کے بارے میں ایسے واقعات سن کر آج بھی دل دہل جاتے تھے اور قرآن و حدیث نے بھی اس دور سیاہ کی تصویر کشی کی ہے لیکن آج اللہ کی اس بستی میں ایک مسلمان اس قدر سفاکیت کا مظاہرہ کریں کہ ایک نوزائیدہ بچے کے محتاج باپ کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کر یں ، یہ بات کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی نہیں گزرسکتی۔بچوں کی پرورش وپرادخت کے بارے میں اسلام نے احساس ذمہ داری کو اپنی فلاحی تعلیمات اورتربیت ِاولاد کے عنوان سے اسے ایمان وعمل کا جزولاینفک بنایا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے ۔بچے ہی دراصل ملک و قوم کی اُمیدوں کے مرکز اور والدین کی گلشن ِآرزو کے مہکتے چہکتے پھول ہوتے ہیں،مستقبل اپنی تعمیر کے لئے انہی کا محتاج ہوتا ہے،قوموں اور ملکوں کی بلندی اور عروج کے یہی ضامن ہوتے ہیں ۔قرآن کہتا ہے: ’’مال و اولاد دنیا کی زندگی کے سامان و آرائش ہیں‘‘۔اسلام نے بچوں کی نسل کو زبردست اہمیت دی ہے کہ یہ مستقبل کے معمار ہیں ،خاندان کی بقاء کا ذریعہ ہیں،جماعت کی کثرت اور پہچان کے اسباب ہیں۔اسلام انہیں جگر گوشے کہہ کر راحت کا سامان اور آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیتا ہے ۔ نظام ِفطرت میں بچے اور اولاد امدادو تعاون کی ایک شکل ہیں، ان کی وجہ سے عددی اکثریت حاصل ہوتی ہے ،یہی حقیقت بطور احسان کے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بتائی ہے : ’’اور تمہیں مال و اولاد سے قوت دی اور بڑی جماعت والا بنا دیا (بنی اسرائیل)۔حضرت ہود ؑ اپنی قوم کو اپنے رب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اور اُس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری مدد کی جن کو تم جانتے ،اُس نے چوپایوں اور اولاد سے تمہاری مدد کی(البقرہ)اور حضرت نوح ؑ نے بطور خاص اپنی قوم سے فرمایا ’’اور (اللہ تعالیٰ) تمہیں مال و اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغ عطا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کرے گا ۔غرض اسلام نے بچوں اور اولاد کو ایک نعمت قرار دیا ہے اور پھر ان کی کفالت ،رضاعت ،وراثت اور تربیت کے اصول و قواعد بھی تاقیام قیامت وضع کر دئے ہیں۔کائنات کے سب سے بڑے محسن ؐ کی حیات ِ طیبہ کو دیکھ لیں تو یہاں اس معصوم نسل کے ساتھ آپ خاص اُنسیت اوراہمیت کی مہک قدم قدم محسوس کریںگے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپ ؐ چھوٹی عمر کے نواسوںحضرت حسن ؓو حسینؓ کی دل جوئی کے لئے منبر عالیہ سے نیچے تشریف لے آتے ہیں ،نمازوں میں اُنہیں اپنے دوش مقدس پہ سوار کرتے ہیں ، یہ مقدس سیرتؐ بتاتی ہے کہ بچوں سے سلام کا انتظار کرنے کے بجائے آپ ؐ خود بڑھ کر اُنہیں سلام کرتے ہیں ،انہیں گود میں اُٹھاتے ہیں ،ان کے حسین نام تجویز کرتے ہیں ،انہیں بوسہ دیتے ہیں۔ آپ ؐ کے فرزند ابراہیمؐ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو انہیںاپنی  آغوش ِ مقدس میں لیتے ہیں اور معطر ومطہر آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں ۔یہ پوچھے جانے پر کہ آپ ؐ بھی روتے ہیں جواب دیتے ہیں کہ مقدس دِل کو تکلیف پہنچی اورمبارک آنکھیں اس کا اظہار کرتی ہیں۔غرض بچے بچے ہوتے ہیں، ان کی اپنی ایک الگ دنیا ہوتی ہے ،خوبصورت اور بغیر میل کچیل،یہاں کسی عداوت و شقاوت کا گزر ہی نہیں ،یہ عرصۂ عمر عزیز کا غنیمت حصہ ہوا کرتا ہے۔یہ ضیغم اسلام عمر ابن خطاب ؓہی ہیں جنہوں نے نو زائید ہ بچوں کے لئے وظیفے مقرر کرلئے اور یہی عبقری شخصیت ہے جس نے ایک ماں کو شب ِ تار میں ایک خیمے میں دیکھ لیا تھا اور اندر کے حالات نے اُسے زار و قطار رونے پر مجبور کیا تھا، جب دیکھا کہ ہانڈی پک رہی ہے اور ماں بس تسلیوں سے بچوں کو بہلارہی ہے کہ ابھی غذا تیار ہوکر کھلائوں گی لیکن بھوک کی شدت سے بلکتے بچے یہ کہہ کر اُس کا جگر کاٹ رہے تھے ،ماں ہم مرنے کو ہیں ،جان جارہی ہے ،آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہورہی ہیں ،کب کھانا ملے گا؟ خلیفہ ٔ وقت عمر ؓ سے دیکھا نہ گیا ،اندر گئے ،بی بی کی روداد غربت و الم سنی اور خود بیت المال میں جاکر مقدس کندھوں پر خود سامان خوردو نوش اُٹھاکے لے آئے ۔ غریب بی بی فرحت و مسرت سے جھوم اُٹھی ،کھانا تیار ہوا ،وہ بھوکے بچوں کو روٹی کھلاگئی ۔سیدنا عمر ؓ اپنے دوست کے ہمراہ واپسی کے لئے چل پڑے ،دور سے ایک چٹان کی اوٹ میں یہ منظر دیکھتے رہے ،ساتھی نے چلنے کی استدعا کی تو فرمایا:ٹھہر ،میں نے ان بچوں کو روتے رُلاتے دیکھ لیا تھا ، اب انہیں ہنستے مسکراتے دیکھنا چاہتا ہوںکیونکہ ان کے بارے میں کل داورِ محشر کی عدالت میں مجھ سے سوال ہوگا ۔ڈھونڈئیے چراغِ رُخ زیبا لے کر ایسے حکمرانوں کو ،کہاں ملیں گے ؟چل دیئے دنائے آب وگل سے لیکن حاکموں حاکموں اور محکوموں کے لئے ایک درس زریں چھوڑ کر۔
 آج اس زمین پر حکمرانوں کا ایجنڈا بس اپنا خیر، عیاشیاں اور ذاتی تجوریاں ہیں۔ سماجی بہبود جیسے محکمے تو غریبوں کی امداد کے لئے بنتے ہیں لیکن ان غرباء و مساکین کو کون پوچھتا ہے ؟یہ بھی ایک درد ناک تاریخ ہے ۔ ایک بے آسرابیوہ کو ہوش رُبا گرانی کے اس دور میں چند سو روپے کے لئے دفتروں کے چکر پہ چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور یہ حکمران اپنے قصور ومحلات میں لوگوں کے حقوق اور احتیاجات سے بے خبر اپنی خرمستیوں اور سر مستیوں میں مصروف عمل ہیں کہ ملہ کھاہ جیسی رُودادیں تاریخ میں داغِ نہاں بن کر جذب ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہدایت سے نوازے، بہر حال بات پھر یہاں آکر رُکتی ہے کہ ملہ کھاہؔ میں پیش آمدہ واقعہ انتہائی دِل خراش اور جگر سوز ہے۔ شکر ہے کہ نوزائیدہ بچہ اس المیے کی بھینٹ نہ چڑھا کیونکہ ہم میں ابھی احساس ِمروت و مودت باقی ہے ، اسے کسی بھی حال میں مر نے نہ دیں،یہ مرگیا تو سمجھ لیں کہ پھر ہم چلتی پھرتی زندہ لاشیں ہوں گی اور کچھ نہیں،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر غریب اور مستحق تک ہماری رسائی نہیں ، مسلسل کرب و اضطراب میں جی رہی یہ قوم عالمی نگاہوں سے بھی اوجھل ہے لیکن ہمیںاپنی دنیا آپ پیدا کرنی ہے، یہی زندہ قوموں کا شیوہ اور شعار ہوتاہے ۔ ہمیں ا س زاویہ ٔ نگاہ سے بھی ا س المیے پرسوچنا ہوگا کہ کہیں اس سنگ دل اور سفاک باپ کی یا اس جیسے اور دین دکھیوں کی مایو سی اور قنو طیت سے اور ان کے حالات زندگی سے ہم بے خبر تو نہیں ؟ ماناکہ اس ایک بے ضمیر اور شقی القلب شخص کی یہ حرکت قبیحہ پر جتنے آنسو بہائے جائیں ،جتنا ماتم کیا جائے، جتنی مذمت کی جائے کم ہے،لیکن کہیں ہم اپنے گرد وپیش سے اس حد تک ناواقف تو نہیں کہ ایسی دل شکن وارداتوں کا ارتکاب ہونے لگا ہے ؟ اس سلسلے میں ہمیں مقامی سطحوں پر غرباء اور حالات کے ماروں کو ڈھونڈنا ہوگا ،تلاشنا ہوگا ،ستم رسیدوں کو دیکھنا بھالنا ہوگا ۔ نیزمصائب و تنگ دستی اور مشکلات کے بھنور میں ڈوب رہے لوگوں ،اُجڑی بستیوں اور پریشان حال وادی کے متاثرہ مکینوں کے حوالے سے بھی اول اس داستان ِکرب میں ہمارے لئے ایک پیغام پوشیدہ ہے کہ ہم سب انسانی خدمات اور دردمندی کے جذبے سے بھی دین کے تقاضوں پر کھرا اُترنے کی حتی الوسع کوشش کریں۔ دوم نامساعد حالات کے متاثرہ افراد کو انتہائی کرب ناک حالات میں بھی وہم وگمان میں بھی ایسی حرکات کا ارتکاب نہیں کر نا چاہیے جن کو قربِ قیامت کی علامات گردانا جاتا ہے ۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ دین اسلام حوصلہ مندی اور غربت و مسکینی میں بھی اللہ بھروسے جینے کا سبق اور غیرت ومصابرت سکھاتا ہے، زندگی سے مایوس ہونایا فرار لینا مردانگی نہیں ، اُمیداور آس کے چراغ بجھانا کوئی دانشمندی نہیں ۔ المختصرملہ کھاہ کا المیہ ہمارے اجتماعی ضمیروں کے لئے ایک دستک ہے، ندا ئے مروت ا ور نیک عملی کی پکار ہے کہ انفاق و ایثار ہمارا شعار ہو اور اس تعلق سے ہماری معمولی غفلت و جہالت خطر ناک انسانی المیوںکو جنم دے سکتی ہیں ۔اس لئے ہم جا گ جائیں اس سے پہلے کہ اللہ بچائے کی ہم کسی الٰہی عتاب کی زد میں آ جا ئیں۔
 اللہم احفظنا
فو ن نمبر 9419080306