تاناشاہی؛نیشنل کانفرنس،آمرانہ؛سی پی آئی (ایم)
غلیظ وقابل اعتراض:پیپلزکانفرنس،ملازم کُش؛قیوم وانی
سرینگر// نیشنل کانفرنس،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ اور پیلزکانفرنس نے حکومت کی طرف سے ملازمین سے متعلق تازہ احکامات کو تاناشاہی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی احکامات کا مطالعہ کرنے سے صاف طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں جمہوریت نہیں بلکہ آمرانہ نظام مسلط ہے۔ نیشنل کانفرنس ترجمان نے ایک بیان میں جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے تازہ احکامات کو یہاں کے ملازمین کی ملازمتیں چھینے کا ایک اور حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب اُس بڑے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت یہاں کے لوگوں کو ہر سطح پر محتاج بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال سے جاری ایسے کئی حکومتی احکامات کی رو سے چند انتظامی افسران پر مشتمل پینل کسی بھی ملازم کو برخاست کرسکتی ہے اور برطرف شدہ ملازمین کو عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا بھی حق بھی نہیں دیا گیاہے۔ ترجمان نے کہا کہ کسی باشندے کو عدالت میں جانے سے روکنا ایک جمہوری نظام کا حصہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی تشویشناک رجحان ہے اور نیشنل کانفرنس ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اسے جموں وکشمیر کے عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے کا ایک اور مذموم حربہ مانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی برطرفی ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے، اس سے قبل گذشتہ سال ایک اور حکمانے کے ذریعے حکومت کو اس بات کا مجاز بنایا گیا کہ وہ ملازمین کو 48 سال کی عمر میں سبکدوش کرسکتی ہے۔ اسی منصوبے کے تحت سینکڑوں سیلف ہیلپ گروپ انجینئروں اور درجنوں سرکاری ملازمین کو برطرف کیا گیا اور گذشتہ دنوں 912آئی سی ڈی ایس ہیلپروں سے بھی نوکریاں چھین لی گئیں۔
اس طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دلی جموں و کشمیر کے عوام کو اندھیروں میں دھکیل کر محتاج بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ عمران نبی ڈار نے کہا ایک طرف کشمیری نوجوانوں کیلئے سرکاری نوکریوں کے دروازے غیر اعلانیہ طور پر بند کردیئے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب ملازمین کو نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو خبردار کیا گیا جموں وکشمیر میں روا رکھی گئی ناانصافیوں، امتیازی سلوک اور انتقام گیری کی پالیسی کو ترک کیا جائے ۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) کے یوسف تاریگامی نے جموں کشمیرانتظامیہ کے اُس حکم کوآمرانہ اورملازم کش قراردیا جس کی روسے ملازم کی مبینہ طور پر انتہاپسند،تخریب کاری میں ملوث ہونے پربرطرف کیاجاسکتا ہے اورملازمین کو پاسپورٹ کے حصول کیلئے ویجی لینس کی ہری جھنڈی حاصل کرنالازمی قراردیاگیا ہے۔ایک بیان میں تاریگامی نے اس حکم پرنظر ثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک سرکاری ملازم حکومت کی پالیسیوں کو نافذ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اگر اسی ملازم کو مشتبہ بنا کر اس پر بار بار شک کیا جائے تو اس سے اس کے کام پر منفی اثر پڑے گا اور اس کے نتیجے میں حکومت کا مجموعی کام متاثر ہوگا۔ ملک دشمن تخریبی سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی ملازم سے نمٹنے کے لیے پہلے سے ہی ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اور ہر وقت نئے احکامات جاری کرنے سے صرف شکوک و شبہات کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔تاریگامی نے کہا کہ نظام عدل کے سب سے مقدس اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایک شخص اس وقت تک بے قصور ہے جب تک اس کے خلاف جرم ثابت نہ ہو جائے۔ حکومت محض کیس کی رجسٹریشن پر ملازم کو پاسپورٹ دینے سے کیسے انکار کر سکتی ہے؟ انتظامیہ کی طرف سے جاری آمرانہ احکامات تمام خطوں اور برادریوں کے لوگوں کے مفادات کے خلاف ہے۔ اس طرح کے احکامات جاری کرنے کے بجائے حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ لوگوں کے حقوق اور ان کے معاش کا تحفظ کیا جائے۔
پیپلزکانفرنس نے حکومت کی طرف سے حال ہی میں جاری کئے گئے اُس حکم جس کی رو سے ملازمین کے کریکٹر اور ان کے ماضی کی جانچ ہوگی،کو لوگوںکے جمہوری حقوق کو سلب کرنے کے مترادف قرار دیا۔پیپلزکانفرنس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ 16ستمبر کاسرکاری سرکیولرغلیظ اورقابل اعتراض ہے اور اُسے ملازموں کاتعاقب کرنے کیلئے جلدی میں جاری کیا گیاہے۔ترجمان نے کہا کہ قانون کی اصطلاح میں کوئی شخص صرف اپنے گناہوں اورکرتوتوں کیلئے قابل مواخذہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی کو کسی اور کے کئے گناہ کی سزانہیں دی جا سکتی۔ادھر سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے جموں کشمیر انتظامیہ کے اُس حکم پر سخت ردعمل کااظہار کیا ہے جس کے تحت ملازمین کو انتہا پسندی میں مبینہ ملوث ہونے پر نوکری سے برخاست کیا جاسکتا ہے۔وانی نے کہا کہ ملازمین حکومتی نظام کے بازوہوتے ہیں اور وہی سرکاری پالیسیوں اور پروگراموں کو نافذ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کے ساتھ گھر کے افراد خانہ جیسا برتائو کیا جاناچاہیے ،لیکن اس کے بجائے جموں کشمیر حکومت انہیں مسلسل ہراسان کررہی ہیں ۔انہوں نے ملازم کُش پالیسیوں کوترک کرنے کا مطالبہ کیا۔