وائرل ویڈیو کے بعد کارروائی، محکمانہ انکوائری کا حکم، نیا سیکٹر آفیسر تعینات
جاوید اقبالراجوری//جموں و کشمیر ٹریفک پولیس نے مغل روڈ پر سرکاری گاڑی کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے اپنے ایک افسر کو معطل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں متعلقہ افسر کو انتہائی خطرناک انداز میں ڈیوٹی کے دوران سرکاری گاڑی کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سب انسپکٹر گل شیراز، جو مغل روڈ پونچھ کے سیکٹر آفیسر (ٹریفک) کے طور پر تعینات تھے، کو معطل کر دیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے اپنی سرکاری انووا کرسٹا انٹرسیپٹر گاڑی کو سوشل میڈیا ریل بنانے کے لئے استعمال کیا، جو قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ مذکورہ افسر چلتی ہوئی گاڑی کے مکمل طور پر کھلے اگلے دروازے سے باہر جھکے ہوئے تھے، جبکہ گاڑی برف سے ڈھکے اور پھسلن والے مغل روڈ، پیر کی گلی کے قریب، تیز رفتاری سے چل رہی تھی۔ ٹریفک پولیس کے مطابق یہ عمل نہ صرف اپنی جان بلکہ دیگر سڑک استعمال کرنے والوں کی سلامتی کے لئے بھی شدید خطرہ تھا۔اس واقعے کے بعد عوامی سطح پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے پولیس اہلکار کے غیر پیشہ ورانہ رویے اور سڑک کی خطرناک صورتحال میں غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل پر شدید تنقید کی۔ ماہرین کے مطابق خراب موسم اور برفباری کے دوران مغل روڈ پہلے ہی حادثات کے لحاظ سے حساس رہتی ہے، ایسے میں اس طرح کا عمل سنگین نتائج کا سبب بن سکتا تھا۔ٹریفک پولیس نے مزید بتایا کہ معطلی کے بعد اے ایس آئی انیل کمار کو مغل روڈ پر نیا سیکٹر آفیسر (ٹریفک) تعینات کیا گیا ہے تاکہ ٹریفک نظم و نسق کو موثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی اس واقعے کی مکمل جانچ کے لئے محکمانہ انکوائری کا حکم دیا گیا ہے، جو ایس ایس پی ٹریفک رورل جموں کی ہدایت پر ڈی ایس پی ٹریفک راجوری-پونچھ کو سونپی گئی ہے۔معطل شدہ افسر کو فوری طور پر ٹریفک پولیس لائنز، رورل جموں میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایس ایس پی ٹریفک رورل جموں، فاروق قیصر نے واضح کیا ہے کہ موٹر وہیکل ایکٹ اور ٹریفک حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کے لئے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے، چاہے وہ عام شہری ہوں یا خود ٹریفک پولیس کے اہلکار۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عوامی جان و مال کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔