سمت بھارگو
راجوری //پونچھ اور راجوری اضلاع کو وادی کشمیر کے ضلع شوپیاں سے جوڑنے والی تاریخی مغل روڈ پیر کے روز مسلسل دوسرے دن بھی بند رہی۔ اتوار کو ہونے والی برف باری کے بعد سڑک کے مختلف حصوں میں بھاری مقدار میں برف جمع ہو گئی تھی، جس کے باعث اس اہم شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کو غیر محفوظ قرار دے کر بند کر دیا گیا۔اطلاعات کے مطابق اتوار کی علی الصبح برف باری شروع ہونے کے فوراً بعد مغل روڈ کے کئی حساس مقامات، بالخصوص پیر کی گلی کے آس پاس، سڑک پر موٹی برف کی تہہ جم گئی۔ برف جمع ہونے کے باعث پھسلن میں اضافہ ہوا اور حدِ نگاہ کم ہو گئی، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر سڑک کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔اتوار کی شام کو بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کی ٹیموں نے برف ہٹانے کا کام شروع کیا اور رات گئے تک سڑک کے کئی کلومیٹر حصے سے برف صاف کی گئی۔ پیر کی صبح ایک بار پھر مشینری اور عملے کو تعینات کیا گیا، جس کے بعد شام تک برف ہٹانے کا عمل جاری رہا۔بی آر او کے عہدیداروں نے بتایا کہ پونچھ کی جانب سے پیر کی گلی تک زیادہ تر جمع شدہ برف صاف کر دی گئی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ مسلسل ہلکی برف باری اور وقفے وقفے سے ہونے والے اولے برف صاف کرنے کے کام میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جس کے باعث فی الحال سڑک کو ٹریفک کے لیے محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔عہدیداروں کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ موسمی حالات کے پیش نظر مغل روڈ کو ابھی کھولنا ممکن نہیں ہے کیونکہ دوبارہ برف جمنے اور پھسلن کے خدشات بدستور موجود ہیں۔ اسی وجہ سے سڑک کو عوامی آمدورفت کے لئے بند رکھا گیا ہے۔بی آر او حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر موسم میں بہتری آتی ہے اور برف باری کا سلسلہ تھم جاتا ہے تو منگل کی دوپہر تک مغل روڈ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سڑک کے دونوں جانب سے حتمی معائنہ کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ادھر مسافروں اور سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفر کی منصوبہ بندی سے قبل تازہ ترین موسم اور ٹریفک ایڈوائزری سے ضرور آگاہی حاصل کریں۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سڑک کے دوبارہ کھلنے تک صبر و تحمل سے کام لیں، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔